آزادیٔ نسواں فریب وسراب

دورِ جدید آج جن بڑے اور اہم مسائل سے دوچار ہے ان میں سب سے بڑا مسئلہ عورت کی ذات سے متعلق ہے۔ انسانی تاریخ میں اب تک ایسا کوئی دور نہیں گزرا جس میں یہ مسئلہ موجود نہ رہا۔ چین، روم، ایران اور قدیم ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس زمانہ میں عورت کا مقصدِ وجود صرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ محض مردوں کا جنسی کھلونا ہے جسے جب چاہا توڑ دیا۔ اس کے حقوق اور تقدس کی پامالی کے لیے نامعلوم کتنے مظالم تھے جو اس کے ساتھ روا رکھے جاتے تھے ۔قدیم معاشرے میں عورت کا مقام ومرتبہ ہر لحاظ سے قابل افسوس نظر آتا ہے۔ 
زمانہ قدیم میں یونان کے دانشور ارسطو نے عورت کو ہراعتبار سے مرد سے کمتر قرار دیا۔ قرون وسطیٰ میں عورت ہی کو یورپ کی کمزوری وذلت کا باعث قرار دیا گیا۔ ان کے نزدیک عورت گناہ کی جڑ، برائی کا سرچشمہ اور جہنم کا دروازہ سمجھی جاتی تھی۔ عیسائیت میں عورت سے تعلق ر کھنا مکروہ خیال تصورکیاجاتا تھا اور اسی کراہت کے تصور نے ان کے ہاں رہبانیت کو فروغ دیا۔ اسی طرح ہیگل اور نٹشے یہ مشورہ دیتے ہیں کہ عورت کے پاس جائو تو اپنا کوڑا ساتھ لے جانا نہ بھولو۔ ہیگل نے بھی عورت کو نامکمل اور کمزور فرد قراردیا۔ 
سوشلزم جو دنیا میں مظلوم طبقات کا نمائندہ بننے کا دعویدار تھا،اِس کے زیر سایہ خواتین کی کیا حالت تھی، ایک اقتباس میں ملاحظ ہو۔ 
’’عورتوں کو دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم  قرار دیا جاتا ہے ۔ کم تنخواہوں پر کمر توڑ کام کرنا پڑتے ہیں، گندے اور محنت والے کام ان کے ہاتھوں سے کرنا پڑتے ہیں، روسی مرد صرف حکم چلانا جانتے ہیں۔ شراب پیتے ہیں اور عورتوں کی پٹائی کرتے ہیں۔ وہ ان کو بہت پست سمجھتے ہیں۔ کتا عورت سے زیادہ عقلمند ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنوں پر نہیں بھونکتا ہے۔ شراب نوشی اور بیویوں پر تشدد روسی معاشرے میں مردوں کا معمول ہے۔ پھر مغربی عورت کے برعکس یہ عورتیں اپنے حقوق کے لیے آواز بھی بلند نہیں کرسکتی۔‘‘
تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ سمیریوں میں عورت ذات کے لیے کوئی جذبۂ تقدس اور احترام نہ تھا۔ وہاں عورت پر سب سے بدترین ظلم جنسی تعلق کے حوالے سے ملتا ہے اور وہ بھی شادی سے قبل عورت پر انتہائی حیرت انگیز اور بڑا ظلم یہ تھا کہ کسی بھی لڑکی کو اس وقت تک قانوناً شادی کرنے کی اجازت نہ تھی کہ جب تک وہ کسی اجنبی مرد سے اپنا گوہر عصمت بدکاری کے ذریعے ختم نہ کرائے ۔بدکاری کا عمل ایک مستقل عادت اور قانون بن چکا تھا۔ایک مورخ اس سلسلے میں رقمطراز ہیں۔ 
’’ہر وہ عورت جو اس ملک میں جنم لیتی ہے، اس کا مذہبی فریضہ ہے کہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ مندر میں بیٹھ جائے۔ وہ اس وقت تک مندر سے نہیں جاسکتی تھی۔ جب تک کہ کوئی غیر محرم مرد اس کو پسند کرکے اس کی گود میں چاندی کا سکہ نہ ڈال دے۔ اس سکہ کے بعد وہ عورت قانوناً انکار نہیں کرسکتی اور اسے لازمی طور پر مرد کے ساتھ جانا پڑتا تھا جب مرد اس کو سرفراز کرچکتا تھا تو وہ گھر لوٹتی تب اسے فخر کی چیز سمجھا جاتا تھا‘‘ 
جب سائنسی انقلاب، صنعتی انقلاب، فرانس کا انقلاب، ڈارون کا فلسفہ ارتقا، علم نفسیات کا ارتقاء، مارکسی، رُوسو، فرائڈ اور ڈرکہیم کے علاوہ جان اسٹارٹ مل کے افکار ونظریات نے سماجی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی خود ساختہ روایتوں، عقیدوں اور ضابطوں کو سائنسی اور عقلی دلائل کی بنیاد پر جھٹلایا تو فرد کی آزادی اور سماجی رشتے کے نظریات کے زیر اثر ایک زبردست تبدیلی رونما ہوئی۔ ان محرکات کے تحت آزادی، انصاف، مساوات، فرد کی آزادی اور جنس کی پہنچان کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کو بھی زیر غورلایا گیا۔ مردوں کی بالادستی والا سماج فوری طور پر تیار نہیں ہوا کہ عورت کو وہ تمام آزادیاں اور حقوق حاصل ہوں جن کی وہ پیدائشی طور پر حقدار تھی۔ اسی بیداری کے طفیل سماج کا ہر طبقہ اپنے حقوق کو سمجھنے لگا اور اسی کے حصول کی خاطر اجتماعی کوششیں بھی ہوئیں۔یہی بیداری عورتوں میں بھی آئی ۔ اس سلسلے کی پہلی کوشش امریکہ اور برطانیہ میں ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ پورے مغربی اور مشرقی ملکوںمیںعورتوں تانیثی تحریک کے تحت اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کرنا شروع کردیا۔ حقوقِ نسواں کی اس تحریک کو’’ نسوانیت‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تحریک ان عورتوں نے شروع کی جو سیاسی، سماجی اور معاشی نابرابری کے زخم کو خود سہہ چکی تھیں۔ 
اس ضمن میں برطانیہ کی مریی وول اسٹون کریفٹ کا نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے جس نے اٹھارویں صدی کے نصف دوم میں سماجی سطح پر عورتوں اور مردوں کے درمیان نابرابری (جینڈر تفریق) کے خلاف نہایت پرزور اندا زمیں آواز اٹھائی اور حقوق نسواں کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کا موقف تھا۔ کہ عورتیں طبعاً مردوں سے ’’کم تر‘‘ Inferior نہیں ہوتی۔ لیکن وہ کم تر اس لیے سمجھی جاتی ہیں کہ ان میں تعلیم کی کمی پائی جاتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ عورتوں اور مردوں دونوں کو Rational Beings کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ نابرابری کے خاتمے کے لیے وہ ایک ایسے سماجی نظم وضبط Social order کی ضرورت کو محسوس کرتی تھی جو Reason پر مبنی ہو۔ حقوق نسواں سے متعلق اس کی مشہور کتاب  A Vindication of the Rights of Women (1792) تانیثیت پسندوں کو آج بھی دعوتی فکر دیتی ہے۔ 
دراصل تانیثی تھیوری ان فلسفوں سے نمونہ پذیر ہوئی ہے جو تانیثیت کے مختلف نظری ڈسکورس کے پس پردہ ہیں جیسے کہ ’’سوشلسٹ فلسفہ حیات‘‘ جو سوشلسٹ تانیثیت (جسے مارکسی تانیثیت بھی کہتے ہیں )کی روح ہے۔اس فلسفے کی رو سے عورتوں کو برابری کا درجہ صرف اسی وقت مل سکتا ہے جب سماج میں بڑے پیمانے پر کوئی تبدیلی واقع ہو۔ سوشلسٹ تانیثیت پسندوں کا کہنا ہے کہ نابرابری سرمایہ دارانہ سماج (Capitalist society) میں بری طرح جڑ پکڑ چکی ہے جہاں قوت (Power) اور سرمایہ (Capital) کی تقسیم مساویانہ نہیں ہے۔ صرف یہی کافی نہیں کہ عورتیں انفرادی طور پر جدوجہد کر کے سماج میں اعلیٰ مقام حاصل کریں بلکہ سماج میں اجتماعی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے تاکہ عورت اور مرد دونوں کو برابری کا درجہ حاصل ہوسکے۔ان حقایق سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سماجی ومعاشرتی سطح پر عورت کے ساتھ بے شمار زیادتیاں اور ناانصافیاں ہوتی رہی ہیں۔ خانگی تشدد، زدو کوب، جنسی استحصال، ریپ اور بعض ملکوں میں جہیزی اموات چند ایسے واقعات ہیں جو عورت کے ساتھ آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ ادب اور آرٹ میں عورتوں کو ’’سامان‘‘ یا کموڈٹی بلکہ سیکس کموڈٹی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ دنیا کے عظیم مصوروں کے فنی شاہکار یا عالمی ادب کے شعری متون ،ہر سطح پر عورت کے جنسی پیکر وتمثال(Images) اور جنسی حوالے موجود ہیں جو احساس حسن وجمال پیدا کرنے کے ساتھ جنسی جذبے کو بھی محترک اور بیدار کردیتے ہیں۔ اقبالؒ نے فنون لطیفہ کی اسی صورت حال پر یوں اظہارافسوس کیا ہے۔ 
ہند کے شاعر وصورت گرو افسانہ نویس 
آہ !بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار 
اس سماج نے عورت کو بیوی کا درجہ تو دیا ہے لیکن اسی سماج نے ایسے حالات بھی پید ا کیے کہ عورت کو ’’زن بازاری‘‘ کا کردار بھی ادا کرنا پڑا اور ’’داشتہ‘‘ بن کر بھی زندگی گزارنی پڑی جس سے اس کی معاشی’’ بہتری‘‘ تو ہوئی لیکن اسے مقامِ عظیم سے گراگر ایک بازاری شئے بنا دیا۔تہذیب جدید اس بات کی دعویدار ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب نے عورت کو دوسرے درجے کی مخلوق ہی سمجھا ہے۔ البتہ اسلام نے دوسرے معاشروں اور مذاہب کے مقابلے میں چند حقوق دیے۔ بقول ابو الحسن علی ندویؒ ’’قرآنی آیات اور نبویؐ تعلیمات کی روشنی میں عورت کے مقام کے بارے میں یہ نیا نقطۂ نظر گویا دنیا میں نوعِ نسواں کی نئی پیدائشی کا حکم رکھتا تھا۔‘‘
دور رسالت ﷺ میں سماجی، اخلاقی، معاشرتی احکام مقرر ہوئے جو تمام انسانی زندگی کو اس کے احوال میں منظم کرنے اور مساوات پر زور دیتے نظر آئے ۔ رسولﷺ نے شریعت کا جو ہر اور اس کا حقیقی معنی ومفہوم فرمادیا۔ اسلام نے آہستہ آہستہ عورت کی عظمت کا احساس دلایا، اُسے جاہلیت سے نورِ حق اور اعتدال پسند آزادی میں نکال کھڑا کیا۔ عہد رسالتﷺ میں جہاں انسانی زندگی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رشد وہدایت کا سامان فراہم کیا گیا توو ہی ’عورت‘ کو بھی صدیوں سے مرد کی غلامی اور اس کے جبر واستبداد سے چھٹکارا حاصل ہوا۔ دورِ نبوت ﷺ میں عورت کو وہ تمام حقوق حاصل ہوگئے جن سے وہ کئی صدیوں سے محروم تھی۔ عبد الحلیم ابو شقہ ایک جگہ لکھتے ہیں۔ 
’’دورِ رسالتﷺ میں زندگی کی ضرورت اور حالات کے لحاظ سے سماجی وسیاسی سرگرمی سب کاموں میں عورت شریک رہی ہے۔ سماجی سرگرمی کے میدان میں دیکھا جائے تو تعلیم وتربیت ،رفاہی کاموں اور سماجی خدمات اور پاکیزہ تفریح جیسے متعدد میدانوں میںعورت کی شرکت پائی گئی ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کے میدان میں آئے تو عورت نے معاشرہ اور حکومت وقت کے عقیدہ کی مخالفت کی اور اپنے عقیدے کی راہ میں ظلم وتعذیب سے دوچار ہوتے ہوئے ہجرت پر مجبور ہوئیں۔ عمومی معاملات سے دلچسپی سے بعض سیاسی مسائل میں اس کے مشورے شامل رہے ہیں اور بسا اوقات سیاسی مخالفت میں بھی وہ شریک رہی ہے۔ ملازمت وکام کے میدان میں گلہ بانی ،کھیتی، گھریلو ،صنعتی ، تنظیم وعلاج وتیمارداری، صفائی ستھرائی اور گھریلو خدمات کے کاموں میں وہ شریک رہی ہے۔ ‘‘
درج بالا اقتباس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ عورت کو دور رسالتﷺ میں وہ تمام مراعات اور حقوق حاصل ہوئے جو اسے دور جاہلیت میں حاصل نہیں تھے ۔ غرض کہ جس شخص نے قرآنی تعلیمات کا مطالعہ کیا ہو اور حضورﷺ کے ارشادات پاک کو سمجھا ہو وہ معلوم کرسکتا ہے کہ مذہب اسلام نے عورتوں کی سیاسی، سماجی اور ازدواجی زندگی کو کس قدر بلند کردیا اور مرد عورت دونوں کو کس طرح موزوں درجہ مساوات کی راہ پر گامزن کیا ۔ایک جانب اگر مرد کو حقِ طلاق دیا گیا تو دوسری طرف عورت کو بھی حقِ خلع عنایت کیا گیا۔ اسی طرح زانی وزانیہ کے لیے سزا برابرر کھی گئی ،عورت اپنے مال کی حق دارو مالک قرار دی گئی۔ اسے اپنے خاوند سے مہر وصول کرنے کے پورے اختیارات دیے گئے ۔یہ دراصل وہ تعلیم تھی جس نے مردوعورت کے درمیان ایک حقیقی مساواتی تنظیم قائم کرکے دنیا کو عورت کے اصلی احترام کا مفہوم سکھادیا۔ بلاشبہ آپؐ نے حیات انسانی کے دورِ نو کا عظیم الشان افتتاح فرمایا۔آپﷺ ہی نے تمام برے رسم ورواج اور برے مراسمِ عبادات کو یک لخت حرف غلط کی طرح مٹاکر رکھ دیا۔آپﷺ ہی نے عظیم الشان تمدن  اور معاشرے کی تشکیل کی اور حکومتِ الٰہیہ کی بنیاد ڈالی۔اس دور جدید کے بعد اب کوئی آئندہ دور جدید آنے والا نہیں ہے۔آپﷺ نے انسانوں کو سب کچھ دیا کہ جس کی انسانوں کو ضرورت تھی۔ عورت تخلیق خداوندی کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے جس کی ذات میں ایک کشش ہے اورجس کی حرکت میں ایک اکسیر ہے۔ اس کی نگاہ میں ایک خمار ہے، اس کی گفتار میں ایک تاثیر ہے اوراس کی رفتار میں ایک سحر ہے ۔ایک ماہر نفسیات لکھتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک زوال پزیر نہیں ہوتی جب تک اس قوم کی عورت  زیور حیاء سے مزین اور اس کے مردغیرتِ شمشیر سے مسلم ہوں ۔عورت کی حیاء اور مرد کی غیرت دو ایسی خصوصیات ہیں جن کی اساس ماحول اور معاشرے پر نہیں انسانی جبلت پر ہے۔ جب تک گمراہ کن تصورات اور ترغیب وتحریص سے ان کی فطرت بالکل مسخ کر کے نہ رکھ دی جائے مرد بے غیرت اور عورت بے حیاء نہیں ہوتی۔ کوئی بھی مرد اپنی بہن، بیوی، بیٹی وغیرہ کو کسی نامحرم کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پاکر اشتعال میں آئے بغیر نہیں رہ سکتا‘‘۔ 
انیس احمد صدیقی  اپنے مضمون بعنوان’’عورت اور اس کا درجہ ‘‘میں یوں گویا ہوتے ہیں۔اقتباس ملاحظ ہوں۔ 
’’عورتوں کی آزادی ‘‘ مشرقی اقدار کے خلاف مغرب کے اہم پروپیگنڈوں میںسے ایک اہم پروپیگنڈا ہے اور اِن کا یہ پروپیگنڈا کام بھی کر گیا کہ اہلِ مشرق کا دل مغربی وادیوں میں یوں اٹک گیا کہ ہماری قدریں پامال ہوگئیں۔ مغرب نے بے لوثی کے بدلے خود غرضی ، اخلاص ومحبت کے بدلے نفرت ومنافقت کا درس دے کر ہمیں نفرت اور بیگانگی کے سانچہ میں ڈھال دیا۔انسان کو انسان کا دشمن بنایا۔علم وعقل دونوں کو دولت ومادیت کے حصول کا ذریعہ بنایا، ممالک کو آپس میں لڑایا،اسلحہ کی تجارت کو فروغ دیا اور سب سے زیادہ نقصان دہ چیز جو اہل مغرب نے اہل مشرق کو دی وہ یہ کہ انھوں نے مشرقی روایتوں کو توڑ کر بے شرمی بے شرمی و بے حیائی کا بازار گرم کیا۔ کر شرم وحیاء کے بازار کو گرم کیا۔مغربیت کے اِس غلبہ سے حیاء کی دیوی اپنے طلسم سے ہر میدان میں نکل آئی اور وہ کلی طور آزاد ہو گئی۔ اس آزادی کی وجہ سے عورتوں کی عزت وناموس کو جو نقصان ہوا اس کی مثال تاریخ میں ملنی مشکل ہے ۔سید عبدالعزیز ہاشمی اسی بات کے حوالے سے اپنی آراء یوں بیان کرتے ہیں۔ ’’یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام ملی برائیاں اور بیماریاں کردار کے بحران سے ہی نمودور ہوتی ہیں۔کردار کے بغیر ہمارے سارے خوش آئندہ نعرے پانی کے بلبلے بن جاتے ہیں۔ ہمارے سارے ادارے اسی دھوکے کی ٹٹیاں بن جاتے ہیں۔ ہمارے سارے وعدے اسی سبب پامال ہوجاتے ہیں۔ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ ہماری ملی کردار کا بحران ہے۔اسی ملی کردار کے طویل بحران کے نتیجہ میںہمارے اندر بالآخر وہ ہولناک کردار پیدار ہوا جو اقتدار کا دیوانہ کرسی کا متوالہ اور جبر وتشدد کا شائق ہے‘‘ فرانسیسیوں نے انقلاب فرانس کے بعد عورتوں اور مردوںکے درمیان آزادانہ اختلاف کے تین اصولوں کو آگے بڑھایا۔ ان تین اصولوں نے عورت کو دھوکہ ، لالچ اور طمع میں لاکر زندگی کے ناہموار بکھیڑوں میں لاکے کھڑا کیا۔ 
مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’جن نظریات کے بطن سے یہ نئی تحریک اُٹھی تھی ان میں ابتدا ہی سے افراد کا میلان موجود تھا۔ انیسویں صدی میں اس میلان نے بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی اور بیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے مغربی معاشرت بے اعتدالی کی دوسری انتہا پر پہنچ گئی ۔یہ نظریات جن پر نئی مغربی معاشرت کی بناء رکھی گئی ہے ،تین عنوانات کے تحت آتے ہیں: 
۱۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان مساوات۔ 
۲۔ عورتوں کا معاشی استقلال Economics independence ۔ 
۳۔ دونوں صنفوں کا آزادانہ اختلاط۔ 
حقیقت یہ ہے کہ جس کو اہل مغرب Feminism یا تحریک آزادیٔ نسواں کہتے ہیں۔ اس کا صحیح مفہوم ’’آزادیٔ نسواں‘‘ نہیں بن سکتا ۔ اس تحریک کے بانی خواتین کے افکار کا جائزہ لینے اور اب کے بعد دیگرے اور قاہرہ کانفرنس اور بیجنگ کانفرنس میں خواتین ایجنڈے اور مطالبات کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تحریک آزادیٔ نسواں دراصل عورت کی آوارگی، ممتا کے قتل اور بیوی کی گمشد گی کی تحریک ہے۔ عورت کو خاندان کے نظام سے الگ کر کے معاشی اور سیاسی میدانوں میں مصروف کرنے کا نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ بیک وقت خاندان معاشرہ اور ریاست تینوں کی تباہی کے اثرات رونما ہورہے ہیں۔ 
شاعر مشرق علامہ اقبال مغرب کے نام نہاد ’’آزادی نسواں‘‘ کی پرواہ کیے بغیر عورت کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی پر زور وکالت کرتے رہے اور ان کی حفاظت کے عنوان سے کہا   ؎
اک زندہ حقیقت میرے سینے میں ہے مستور
 کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد 
نیٔ پردہ  نہ تعلیم  نئی ہو کہ  پرانی
 نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد 
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
 
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد 
 
٭٭٭٭
 شعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی