آر پار تجارت کی غیر معینہ عرصہ تک معطلی

سرینگر// کنٹرول لائن کے آر پار تجارت کی غیر معینہ عرصہ تک کیلئے معطلی کے خلاف اس تجارت سے جڑے تاجروں نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اچانک فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کیااورحکم نامہ پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔پاکستان کے خلاف اپنے موقف کو سخت کرتے ہوئے نئی دہلی نے جمعرات کوجموں کشمیر میں آر پار تجارت کو غیر معینہ عرصہ کیلئے معطل کیا۔تاجروں کا کہنا ہے کہ آر پار تجارت کو غیر معینہ عرصے کیلئے معطل کرنے کے فیصلہ اس تجارت کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہونے کا احتمال پیدا ہوچکا ہے،جبکہ تازہ و خشک میوئوں کے علاوہ لال مرچی،آم اور جڑی بوٹیوں سمیت21 اشیاء کی تجارت براہ راست متاثر ہوگی۔آر پار تاجروں نے اس تجارت کو سر نو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فیصلے پر نظر ثانی کی وکالت کی۔اس دوران پیر کوپرتاپ پارک میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے تجارت کو بلاتاخیر بحال کرنے پر زور دیا۔ کراس ایل او سی ٹریڈیونین کے چیئرمین ہلال ترکی نے بتایا ’’ ہم آرپارتجارت کیلئے بہتراورموثر طریقہ کار اپنانے کیخلاف نہیں ہیں لیکن یہ سب کچھ ہمارے روزگاراورہمارے اہل خانہ کے مستقبل کومخدوش بناکرنہ کیاجائے۔‘انہوں نے کہاکہ آرپارتجارت پربندش لگاکرمرکزی سرکارنے ہمارے ذریعہ معاش پربریک لگادی ہے۔‘یونین کے جنرل سیکرٹری حاجی محمدشفیع کاکہناتھاکہ تجارت کومعطل کئے جانے سے سینکڑوں تاجروں،ٹرانسپوٹروں ،دکانداروں اورمزدوروں کی روزی روٹی خطرے میں پڑگئی ہے۔ تاجروں اوردیگرمتعلقین نے ہاتھوں میں جوبینراورپلے کارڈس اْٹھائے تھے ،اْن پر’ہمیں انصاف دو،ٹریڈچلاؤہماراکاروبارلوٹاؤ،تجارت بحال کرواورہمارے مستقبل سے کھلواڑمت کرو‘جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ا سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹرئز، کشمیر اکنامک الائنس کے دونوں دھڑوں اور سوشو اکنامک کارڈی نیشن کمیٹی کے علاوہ کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے تمام دھڑوں نے اس تجارت کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔