آر ٹی او آفس جانے کا معاملہ حل | لیفٹیننٹ گورنر کا موٹر وہیکل محکمہ کی آن لائن خدمات کا آغاز

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سنیچر کوموٹر وہیکل محکمہ کی آن لائن خدمات کا آغاز کیا اور راج بھون میں جے کے آر ٹی سی کے نئے بسوں کوہری جھنڈی دِکھائی۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے گزشتہ چند مہینوں میں کئی فیصلے لئے ہیں تاکہ عام لوگوں کو مختلف خدمات حاصل کرنے میں سہولیت ملے جس سے ان کی زندگی بہتر ہوگی اور جموں وکشمیر کے ٹرانسپورٹ شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اُنہوں نے مزید کہا ،’’ ہم جموں وکشمیر میں ایک محفوظ ،آرام دہ اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام کے قیام کے لئے پُر عزم ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ برس آن لائن کی گئی 12 خدمات نے لوگوں کو بڑی راحت دی ہے۔ ڈپلیکیٹ رجسٹریشن جیسی خدمات ڈرائیونگ لائسنس کے بدلے عام لوگوں کو پریشانی کے بغیر عمل فراہم کی جا رہی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ لوگوں کو پیپر لیس ، کیش لیس اور فیس لیس سہولیات کی فراہمی کے لئے بہت سے قوانین کو آسان بنایا گیا ہے ۔ یہ ہزاروں شہریوں کے خدشات کو دور کرے گا اور آر ٹی او میںجانے کے بغیر خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ایم وی ڈی کی مختلف خدمات آن لائن اور آسان بنائی گئی ہیں جن میں لرنر س لائسنس کے لئے رابطہ کے بغیر درخواست ، فوری رجسٹریشن کا عمل ، آر ٹی او میں نئی گاڑیوں کا کوئی معائینہ نہیں ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے بسوں کے نئے بیڑے کو جھنڈی دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ دُور دراز کے علاقوں میں رہنے والوں کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولیات مہیا کرے گی اور انہیں یوٹی اور دیگر رِیاستوں کے بڑے شہروں سے جوڑ دے گی۔انہوں نے کہا کہ جے کے آر ٹی سی کے موجودہ بیڑے کو 226 نئی بسوں اور 227 ٹرکوں کے ساتھ بڑھانے کا فیصلہ گزشتہ برس لیا گیا تھا ۔اُنہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹروں کو 15برس سے پرانی بسوںکی جگہ 5لاکھ روپے کی سبسڈی بھی فراہم کی گئی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر میں ٹرانسپورٹ شعبے کومستحکم، مضبوط اورجدید بنانے کے لئے سکیم کے تحت 1.75 کروڑ روپے دئیے گئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو ممکن سکیم کے تحت پائیدار معاش کے مواقع سے منسلک کیا جارہا ہے اور انہیں کمرشل گاڑیاں صفر مارجن منی پر فراہم کی جارہی ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے نوٹ کیا کہ روڈ سیفٹی فنڈ کے تحت گزشتہ ایک برس میں 620 روڈ سیفٹی بیداری کیمپ ، آلات ، موٹر سائیکلیں اور انٹرسیپٹر گاڑیاں ٹریفک پولیس کو دی گئی ہیں۔