آر ایس ایس کو ہتھیاروں کی کھلی نمائش کی اجازت کیونکر؟:گیلانی

سرینگر// حریت(گ)چیرمین سید علی گیلانی نے جموں میں آر ایس ایس کے ذریعے کھلم کھلا ہتھیاروں کی نمائش اور مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کیلئے جلوسوں اور انہیں’’ بھارت ماتا کی جے‘‘ بولنے کیلئے دباؤ ڈالنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا جموں کشمیر کی سرزمین کو پھر سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑانے کی یہ کوششیں 1947؁ء کی طرح تباہی پھیلانے اور مسلمانوں کی نسل کُشی کی نئی لہر پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے، لیکن جموں کشمیر کے عوام متحد اور منظم ہوکر ایسی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ گیلانی نے کہا اگرچہ بھارتی آئین میں آرمز ایکٹ 1959؁ء میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’’کوئی بھی شخص لائسنس شدہ ہتھیاروں کی نمائش عوامی مقامات پر نہیں کرسکتا، بالخصوص ایسے حالات میں جب نقص امن کا خطرہ ہو یا مقصود کسی دوسرے فرد یا مذہب، فرقہ، نسل کے افراد کو خوفزہ کرنا ہو‘‘، لیکن اس قانون کا اطلاق صرف مسلمانوں کو دبانے اور ستانے کے لیے ہوتا ہے، جبکہ آر ایس ایس کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ ہتھیاروں کی نمائش کرتے ہوئے مسلمانوں کو ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کرنے پر دباؤ ڈالیں۔ آزادی پسند رہنما نے کہا کہ آر ایس ایس کے اس جارحانہ اقدام میں سب سے زیادہ افسوس ناک عمل یہ ہے کہ انتظامیہ خاص طور پولیس اس افسوس ناک اور فرقہ وارانہ جارحیت کو کھلے عام ڈھیل دیتی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات کے امکان کی حمایت کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں انجام دینے سے کنی کتراتے ہیں، جس سے واضح طور یہ ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوجانے کا امکان ہے کہ آر ایس ایس کے انسانیت سوز اقدامات کھلے عام روبہ عمل آسکتے ہیں اور جموں میں 1947؁ء کے قتلِ عام کو دہرایا جانا مطلوب ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ جموں صوبہ کے مسلمانوں کو جرأت اور حوصلہ مندی کے ساتھ متحد اور یکجا ہوکر اس فسطائیت کا پُرامن اور مدّبرانہ طریقہ اختیار کرکے سدّباب کرنا چاہیے۔ جموں شہر میں آر ایس ایس سوچ کے لوگ ہی نہیں ہیں، بلکہ وہاں انسانیت اور امن وآشنی کے جذبات رکھنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے، مگر انسانی معاشرے میں فساد اور بگاڑ کی وجہ یہ بنتی ہے کہ جب صالح فطرت اور انسانیت کا جذبہ رکھنے والے افراد ایسے مواقع پر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ اسی طرزِ عمل سے انسانیت کو تاراج کرنے والوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔ بزرگ راہنما نے واضح کردیا کہ جموں کے مسلمان خود کو تن تنہا محسوس نہ کریں اور آج کسی کو 47ء دہرانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کے حدود میں ہندو فرقہ پرستوں کے ذریعہ مسلمانوں اور دیگر مکاتب فکر کو دبانے اور خوف زدہ کرنے کا سنجیدہ نوٹس لیں۔