آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد | جموں و کشمیر میں سیکورٹی اخراجات پر 9,000 کروڑ روپے صرف

نیوز ڈیسک
نئی دہلی// دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے 28 مہینوں میں، مرکز نے جموں اور کشمیر میں خاص طور پر سیکورٹی کے اخراجات پر 9,000 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیا۔یہ رقم جموں و کشمیر حکومت کو سیکورٹی سے متعلقہ اخراجات (پولیس) اسکیم کے تحت 5 اگست 2019 کو یوٹی کے آغاز سے ادا کی گئی، جس دن جموں و کشمیر کو جموں و کشمیر اور لداخ کے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھااور آرٹیکل 370 اور 35 (A) کو منسوخ کر دیا گیا ۔مرکزی وزارت داخلہ کی سالانہ رپورٹ 2020-2021 میں ان حقائق کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے  “سیکورٹی اپریٹس کو مضبوط بنانے کے لیے، حکومت ہند نے 5اگست کے آغاز سے لے کر اب تک سیکورٹی سے متعلقہ اخراجات (پولیس) اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کی حکومت کو 9,120.69 کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔ “رپورٹ کے مطابق، اس رقم میں 448.04 کروڑ روپے شامل ہیں جو جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد سے 31 دسمبر 2020 تک خرچ کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ، رپورٹ میں کہا گیا ہے، وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر کے لیے پانچ انڈیا ریزرو (IR) بٹالین، دو بارڈر بٹالین اور دو خواتین بٹالین بنانے کی بھی منظوری دی ہے۔ “پانچ IR بٹالین کے لیے بھرتی پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔”وزارت داخلہ عہدیداروں نے کہا، “جموں و کشمیر کی حکومت، فوج، سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ  سیکورٹی کی صورتحال کی نگرانی کی جاتی ہے اور اس کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے”۔”وزارت داخلہ امور بھی اوپر کی تمام ایجنسیوں اور وزارت دفاع کے ساتھ مل کر سیکورٹی کی صورتحال کو قریب سے اور مسلسل مانیٹر کرتی ہے۔ سرحد پار سے دراندازی پر قابو پانے کے کثیر جہتی نقطہ نظر میں بین الاقوامی سرحد یا لائن آف کنٹرول کے ساتھ ملٹی ٹائرڈ تعیناتی، سرحد پر باڑ لگانا، بہتر انٹیلی جنس اور آپریشنل کوآرڈینیشن، سیکورٹی فورسز کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا اور دراندازوں کے خلاف فعال کارروائی کرنا شامل ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے لیے وزیر اعظم کے ترقیاتی پیکیج (PMDP-2015)  کے تحت 80,068 کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے جس میں اہم شعبوں میں 63 بڑے پروجیکٹ شامل ہیں، یعنی سڑک، بجلی، نیو اور قابل تجدید توانائی، سیاحت، صحت، تعلیم، آبی وسائل، کھیل، شہری ترقی، دفاع اور ٹیکسٹائل شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 63 پروجیکٹوں میں سے 54 پروجیکٹ جموں و کشمیر  میں 58,627 کروڑ روپے کی لاگت سے لاگو کیے جا رہے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ 20 منصوبے مکمل یا کافی حد تک مکمل ہو چکے ہیں اور دیگر عمل درآمد کے مختلف مراحل میں ہیں۔”30 نومبر 2020 تک، مختلف پروجیکٹوں کے لیے 32,136 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے، جس میں سے 30,553 کروڑ روپے استعمال کیے جا چکے ہیں۔