آرونی میں خونریز تصادم ،3جنگجو جاں بحق

 اننت ناگ//جنوبی کشمیر کے بجبہاڑ ہ علاقہ میں جنگجو ئوں اور فورسز کے درمیان خون ریز معرکہ آ رائی میں 3مقامی لشکر طیبہ جنگجو جاں بحق اور دن بھر پیلٹ، ہوائی فائرنگ اور شلنگ کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور 40دیگر زخمی ہوئے۔تازہ ہلاکتوں کے بعد جنوبی کشمیر ایک مرتبہ پھر ابل پڑا جس دوران دن بھر جاری رہنے والی پر تشدد احتجا جی جھڑ پوں میں درجنوںافراد ز خمی ہو ئے ہیں ۔بد ھ کی شام چھ بجے کے قریب حسن پورہ بجبہاڑہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد فسٹ آر آر ، سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے تلاشی کارروائی شروع کی اس دوران گولیاں چلنے کی آواز سنی گئی۔ پہلے اس بات کا شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ یہاں لشکر کے کمانڈر ابو دجانہ موجود تھے اور پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ ایک اہم میٹنگ میں شرکت کی غرض سے آیا ہوا تھا، لیکن وہ کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔پولیس کے مطابق عسکریت پسندوں کے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کرکے پولیس وفورسز کو تعینات کیا گیا اور سونگھنے والے کتوں کے ساتھ ساتھ علاقہ میں جنریٹر بھی نصب کئے گئے ۔فورسز نے جمعرات کی صبح تک آپریشن ملتوی کیا کیونکہ وہ رات کی تاریکی میں آپریشن انجام نہیں دینا چاہتے تھے۔گولیاں چلنے کی آواز سننے کے ساتھ ہی حسن پورہ ، آرونی بجبہاڑہ اوراس کے ملحقہ علاقوں کے لوگ گھروں سے باہر آئے اور انہوںنے احتجاجی مظا ہر ے کئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور انہوں نے پتھرائو کیا۔ اس دوران مساجد کے لاوڈ سپیکروں پر اعلانات کئے جار ہے تھے کہ لوگ گھروں سے باہر آئیں۔ پولیس کے مطابق اندھیرے کی وجہ سے آپریشن صبح تک معطل کیا گیا۔جمعرات کی صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب جنگجو ئوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر آپریشن شروع کردیا گیا جس دوران طرفین میں ایک مرتبہ پھر گو لیوں کا تبادلہ دوپہر دوبجے تک جا ری رہا۔ اس دوران فوج اوردیگر فورسز نے مشتاق احمد گنائی کے مکان کے ارد گردبا رودی سرنگوں کونصب کیا اور ایک سماعت شکن دھما کے سے مکان اڑا دیا گیا اور جب اندر سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو فورسز کی ایک تلاشی پارٹی نے ملبے سے تین جنگجو ئوں کی لاشوں کو برآمد کیا جن کی شناخت عبد المجید زرگرکھڈونی،محمد وسیم ،راحیل امین ڈار ویسو کو لگام کے بطور کئی گئی ہے تاہم تادم تحریر ان کو لاشوں کو برآ مد نہیں کیا گیا تھا البتہ ان کا تعلق لشکر طیبہ سے بتا یا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ عبدالمجید زرگر گذشتہ چار برسوں سے پولیس کو مطلوب تھا اور وہ اس علاقے کا سرکردہ کمانڈر تھا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جس مکان کو اڈا دیا گیا مالک مکان کا بیٹا جہانگیر احمد گنائی موجودہ ایجی ٹیشن میں جولائی کے مہینے میں فورسز نے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔اس دوران جنگجو ئوںکے جاں بحق ہونے کی خبرپھیلتے ہی نائن بٹہ پورہ سنگم، بجبہاڑ ہ ،کھڈونی اور یاری پورہ کے علاوہ دیگر علاقوں سے لوگ بڑی تعدادمیں گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے حسن پورہ تک جلوس نکالے اور محاصرہ توڑنے کی کوشش کی۔ دن بھر جاری رہنے والی جھڑپوں کے نتیجے میں شدت آگئی اور پولیس و فورسز نے نہ صرف شلنگ کی بلکہ ہوائی فائرنگ کا بھی سہارا لیا۔لوگوں کی بڑی تعداد نے جھڑ پ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس اور فورسز نے انہیں روکا جس پر طرفین کے درمیان پتھرائو اور جوابی پتھرائو شروع ہوا۔جھڑپوں میں درجن بھر افراد کے زخمی ہوئے جن میں سے27 سالہ عارف احمد شاہ ولد محمدامین شاہ ساکن نائن سنگم بجبہاڑہ جا بحق ہو گیا ۔یاور احمد بٹ ولد بلال احمد بٹ انگلی میں فائر لگنے سے زخمی ہوا۔نوجوان کی ہلاکت کے بعد پورے ضلع میں پرتشد د احتجاج ہوا اور رات دیر گئے تک جھڑ پوں کا سلسلہ جاری تھا۔دریں اثناء پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ جھڑپ کے دوران ایک فائر عارف احمد شاہ ولد محمد خلیل شاہ ساکن گنڈ بابا سنگم کو جا لگا، جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔پولیس نے لوگوں سے کہا ہے کہ جھڑپوں کے دوران وہ جمع ہونے سے گریز کریں کیونکہ کوئی بھی فائر انہیںلگ سکتا ہے۔