آدھاشوہر

پہلے وقتوں میں عام رواج تھا کہ شادی کی برات عشاء کے وقت باجے گاجے کے ساتھ دلہن کے گھر جاتی تھی۔پھر رات کاکھاناکھانے کے بعدتقریباً نصف شب کو سبھی براتی اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے تھے،کیونکہ اکثر رشتے اسی شہر یا قصبے میںہو تے تھے ۔پھر جب پوہ پھٹتے دلہن کی رخصتی ہوتی تھی تو دلہا کے ساتھ صرف چار پانچ یار دوست ہی ہوتے تھے۔آج کل تو بگڑے ماحول اور افراتفری کی وجہ سے رات کو ہی برات جاتی ہے اور کھانا کھانے کے بعدرات کو ہی رخصتی ہوتی ہے۔سبھی براتی پنی اپنی کاروں میں آتے ہیں اور کھانا کھا کے ہی واپس چلے جاتے ہیں۔
نصیر احمد کی شادی ہوئی تو کھانا کھانے کے بعد تقریباــــــسبھی باراتی اپنے اپنے گھروں کو جانے کی تیاری کرنے لگے اور پھر آہستہ آہستہ چلے گئے، صرف نصیر کے چند قریبی دوست رات بھر اس کو کمپنی دینے کے لیے وہاں ٹھر گئے۔ان میں ایک ڈاکٹر تھا،ایک ہیڈ ماسٹر،ایک بی ڈی  اواور ایک ریڈی میڈملبوسات کا دکان دار۔رات کیسے گزاریں یہ ہر ایک اپنے اپنے ڈھنگ سے سوچنے لگا۔ایک نے کہا تاش کھیلیں گے ،دوسرے نے کہاہارمونیم کا انتظام کرومیں تھوڑا بہت گانا بجانا جانتا ہوں اور چوتھے نے کہا یار میری مانوچونکہ ہم بڑی مدت کے بعد ملے ہیں گپیں ماریں گے۔کیونکہ صبح اپنے اپنے دھندوں میں پھر جٹ جانا ہے۔ پھر کب ایسا موقع ملے گا۔  اس طرح وقت بھی آسانی سے گزرے گا اوراپنے اپنے مسائل،باہمی خوشی،پریشانی ایک دوسرے سے بانٹیں گے۔تھوڑی دیر بعد دلہن والوں نے چائے بھیجی۔بس پھر کیا تھا،چائے کے ساتھ ساتھ موضوع بھی ہاتھ لگ گیا ۔ہر ایک نے کسی نہ کسی طرح سے یہ باور کرایاکہ ہر شخص کی کامیابی کے پیچھے اس کی اہلیہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ہر ایک نے اپنا اپناتجربہ سنایا۔ہر ایک نے اپنی اپنی بیوی کی تعریفیں کے پل باندھے۔سبھی نے جھوٹ  سے کام لیا۔کسی نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تعریف کی۔ایک نے اپنا قصہ سنایاکہ جب اس کا انٹرویو تھا تو اس کی بیوی نے اس کو پوری طرح سمجھا بجھا کردہی کھلاکر روانہ کیا کہ گھبرانا نہیں آخر انٹرویو والے سبھی ہماری طرح ہی انسان ہوتے ہیں۔دکاندار نے کہاکہ اس نے جب  بزنس کا ارادہ باندھا تو بڑے تذبذب میں تھاکہ کیا کام شروع کرے۔یہ اس کی بیوی ہی تھی کہ جس نے اس کو یہ مشورہ دیا کہ آج کل ریڈی میڈپہننے کا رواج ہے اور پھر عید اور دیوالی بھی قریباً ساتھ ساتھ ہی آرہی ہیں۔کافی فائدہ ہوگا ۔یہ ٹھیک ہے  میں نے حامی بھری۔دکان خریدی اورسجائی۔ امرتسراور لدھیانہ سے ملبوسات خرید کرلائے۔اللہ کا کرم کہ دونوں تہواروںکی وجہ سے سامان ہاتھوں ہاتھ بک گیا۔دیکھو تب سے میںخوشحال ہوں۔یہ بیوی کی تجویز او ر  صلاح مشورے کا ثمرہ ہے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کہاں خاموش رہنے والے تھے،انھوں نے کیا کہا کہ وہ استاد تو لگ گئے ہیںمگر گھر سے صبح سویرے نکلنا پڑتا ہے اور رات گئے واپس آتا تھا۔کیونکہ اسکول گھر سے پندرہ کلو میٹر دور تھا۔یہ اس کی بیوی ہی ہے جس نے اس کو مشورہ دیا کہ جو افسر تمہاری پوسٹنگ کرتا ہے،اس کو کسی طرح سے پٹاو۔خود  یا کسی درمیانہ دار کے ذریعہ اس افسر کی مٹھی گرم کرو۔شہر میں تبادلہ کراو۔ایک توگھر پر رہو گے،دوسرے سفر کرنے کی پریشانی سے بچو گے اوروقت کی بچت بھی ہوگی۔پھر بڑی بات یہ کہ اس نے ٹیویشن شروع کرنے کی بھی صلاح دی۔دیکھو میں صبح آٹھ بجے سے نو بجے تک ایک بیچ کو ٹیویشن پڑھاتا ہوں پھر شام کو دوسرا بیچ پانچ سے چھ کا ہوتا ہے۔اسی طرح میری آمدنی میںکافی اضافہ ہوگیا۔ایک سال کے اندر اندر میںنے مکان کی مرمت بھی کی اور اس میں تین کمروں کا اضافہ بھی کیا۔
رات بھر ہر ایک اپنی اپنی بیوی کی تعریفیں کرتا رہا۔میں کافی دیر تک خاموشی سے سنتا رہا۔ان لوگوں نے میری خاموشی کی وجہ بھی نہ پوچھی۔بہت رات گئے ان کو چائے کی طلب ہوئی۔میں نے کہا کہ میں صاحب خانہ سے کہتا ہوں۔چائے پینے کے دوران میں نے لب کشائی کی۔آخر کب تک چپ رہ سکتا تھا۔میں نے کہا
’’دوستو، پوری رات میں نے آپ  لوگوں کی باتیں سنیں۔وقت تو گزر گیا مگرآپ میں سے کسی ایک نے بھی اپنے والدین کا ذکر تک نہیں کیا۔میں پوچھتا ہوں کیا انھوں نے آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ان کی وجہ سے ہی آپ اس جہاںمیںآئے۔آپ کو دودھ پلایا ،گودی کھلایا،اپنے ساتھ سلایا،اسکول بھیجا،کالج بھیجا،نہلایا دھلایا،بالوں میں کنگھی کی،بوٹ کی پالش کی۔تم لوگوں کو نصحیت کرتے تھے کہ بڑوں کا ادب کرو۔ہر ایک کو سلام کرو۔ان کے سامنے زور سے مت بولو۔روزانہ دانت صاف کرو۔منہ دھولو،نہالو،صاف کپڑے  پہنو،وقت پر جاگو ،وقت پر سو ،استاد کا کہنا مانو،اسکول کا کام کرو،خوش خط لکھو،ناک صاف رکھا کرو،چھینک آئے تو آگے ہاتھ یا رومال رکھا کرو۔پڑھایا لکھایا،اپناپیٹ کاٹ کر تمہاری فیس دی۔ طرح طرح کی کتابیں دیں۔ٹیوشن کا خرچ برداشت کیا۔تمہارے کالج اورٹرینگ کے دوران کا خرچہ، جو بہت بڑا بوجھ تھا  برداشت کیا۔تمہاری شادیاں کیں اور کسی کی پوسٹینگ کے لیے تگ ودو کی،پھر سمجھایا کہ وہاں کیسے رہنا ہے۔کس طرح لوگوں سے ملناہے،اپنے ماتحتوں سے کیسا سلوک کرناہے ،بڑے افسروں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے،حلال کی کمائی کھانا،جتنی تنخواہ ملے اس کی عوض پوری محنت کرنا،بے ایمانی چغل خوری اورغیبت سے پرہیز کرنا،نماز پڑھنا،قرآن کی تلاوت کرنا،سیرت رسول اور سیرت صحابہ کا مطالعہ کرنا،بڑے لوگوں کی زندگی روداد پڑھنا،نیک  اور ایماندار حضرات کی صحبت میں رہنا،اچھے ادیبوں اور شاعروں کا کلام پڑھنا اور سننا۔یہ سب کچھ تم کو اور مجھ کو والدین نے سکھایا۔جنھوں نے ہمہاری زندگیاں سنواری ہیں۔ان کا آپ نے نام تک نہیں لیا۔ان تمام باتوں کا creditآپ اپنی بیویوں کو دیتے ہو۔بڑا افسوس ہوا۔ارے بیویوں کو تو Readymadeکمائو خاوند ملے۔ان کا کیا رول رہا ہے تمہارے سجانے سنوارنے میں۔میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا آگے آپ کی مرضی۔میرے اندر ایک طلاطم اور بے چینی تھی۔آپ کا یہ سب سن کربڑی دیر تک خاموش رہا،مگر جب نہ رہا گیاتو پھر یہ سب کہنا پڑا۔کس طرح آپ حضرات نے اپنی بیویوں کو اپنے والدین پر ترجیح دی اور یہ بولنے میں ذرا بھی نہیں جھجکتے ہو بلکہ بڑا فخر محسوس کرتے ہو ۔یہی تو حماقت کی نشانی ہے۔اتنے میں دلہن کا بھائی اندر آیا۔اس نے دلہا کے کان میں کچھ سرگوشی کی جس سے دلہا کچھ پریشان ہوا۔اس کارنگ کچھ پیلا پڑگیا۔ہم نے پوچھا 
بھئی خیریت تو ہے۔سب کچھ ٹھیک ہے
اس نے کہاہاں سب ٹھیک ہے
مگر اصرار کرنے پر  وہ بول پڑاکہ دراصل میرے ماموںجو شادی کی تقریب کے لیے بنگلور سے چُھٹی پر آئے تھے، ان کو آج صبح تو بجے کی فلائٹ سے واپس جانا ہے۔اس مقصد کے لیے میری والدہ نے میری ساس کو فون پر کہا کہ بیٹی کی رخصتی صبح سات بجے کرناکیونکہ میرے بھائی نے ائر پورٹ کے لیے نکلنا ہے۔وہاں دو گھنٹے پہلے رپورٹ کرنا ہوتا ہے۔یہ بات جب میری ساس نے دلہن سے کہی تو ا س نے یہ کہکر صاف انکار کردیاکہ وہ سات بجے تیار نہیں ہوسکتی۔وہ تو نماز کے لئے بھی آج تک سات بجے نہیں جاگی ہے۔پھر آج کیسے جاگے گی اور تیار ہوگی۔یہ کوئی زبردستی ہے کیا ؟میں بالکل تیار نہیں ہوسکتی۔انھوں نے لاکھ سمجھایا مگر لڑکی ٹس سے مس نہیں ہوئی۔اب ادھر میری ساس اور ادھر میری ماںپریشان تھی کہ اب کیا بنے گا۔اب میں نے اپنی ہونے والی بیوی سے کہا کہ
مہربانی کرکے سات بجے تیار ہونا مگر وہ نہ مانی۔میں نے پھر استدعا کی مگر وہ لگاتار انکار کرتی رہی۔وہ  لگاتار بولتی رہی کہ وہ نو بجے سے پہلے تیار نہیں ہوگی۔چاہے کچھ بھی ہوجائے۔اب دلہا خود کمرے میں گیا۔بڑی نرمی  کے ساتھ منت سماجت کی کہ یہ ماموں ہمارے بہت اچھے رشتہ دار ہیں۔وہ کیا سوچیں گے۔وہ بنگلور میں بہت بڑے افسر ہیں۔بڑی  مشکل سے وقت نکال  کر ہماری شادی میں آئے ہیں۔وہ جانے سے پہلے ہم دونوں سے ملنا چاہتے ہیں ۔پلیز مان جاو۔میں نہیں تیار ہوسکتی۔دلہن نے جواب دیا۔
اکیلے جائوں۔ لوگ کیاکہیں گے ۔نصیربولا۔اس پردلہن بولی ۔لوگ جائیںبھاڑ میں ۔مجھے سونے دیں۔آپ نے جانا ہے توآپ چلے جائیں۔میں بعد میں آئونگی ۔اس پرنصیرنے بڑی نرمی سے التجاکی۔کوئی طورطریقہ ہوتاہے جس کونبھاناپڑتاہے ۔اس طرح تو ہمارے دونوں گھرانوں کی ناک کٹ جائے گی ۔اب کی باردُلہن نے صاف صاف انکارکردیا ۔کہہ دیا نا ایکبار۔ میں نہیں اتنی جلدی تیارہوسکتی ۔آپ نے جاناہے ۔آپ اکیلے جائیں۔میں تواتنی جلدی نمازکے لئے بھی نہیں اُٹھتی ۔اب نصیرنے ذرااپنے تیوربدلے ۔کہا۔آناہے تومیرے ساتھ آئو ۔پھربعدمیں آنے سے کیافائدہ ۔ٹھیک ہے ۔میں نہیںآئونگی ۔اس پرنصیربولا۔سوچ لو۔پھرپچھتائوگی ۔میں آخربارہاتھ جوڑکر کہتاہوں۔
جب دلہن نے کوئی بھی بات نہیں مانی تو دلہا اپنے ساتھیوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کربڑی تیز رفتاری کے ساتھ واپس اپنے گھر پہنچا۔دلہے کو اکیلا دیکھ کر چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ دلہن کیوں نہیں آئی۔کیا مسئلہ بن گیا۔دلہے کی ماں ،بہنیں اور رشتہ دار محلے والے سب پریشان ایک  دوسرے کا منہ تکنے لگے۔اصل وجہ جاننے کے لیے سب بیتاب تھے۔سکوت توڑتے ہوئے دلہے کے ایک دوست نے پوری تفصیل بتائی کہ لڑکی نے صاف صاف انکار کردیاکہ وہ سات بجے سے پہلے اٹھنے کو تیار نہیں ہے۔نصیراحمد نے لاکھ التجا کی ،منت سماجت کی مگر دلہن  پہلے ہی دن بڑی بدتمیزی سے پیش آئی مانو کہ خود طلاق کو دعوت دے رہی تھی۔اس طرح اس شادی کی ساری تقریب میں  نکاح تو ہوا لیکن رخصتی سے پہلے ہی طلاق ہوگئی۔اور ندیم بیچارہ آدھا شوہر بن کے رہ گیا۔
���
موبائل نمبر؛8825051001