آدمی کا جسم کیا ہے جس پہ شیدا ہے جہاں!!

آدمی کا جسم کیا ہے جس پہ شیدا ہے جہاں 
ایک مٹی کی عمارت اور ایک مٹی کا مکاں 
خون کا گارا بنا ہے اینٹ جس میں ہڈیاں 
بس ہے ٹکا اسی پر ایک خیالی آسماں 
موت کی پرزور آندھی جب اس سے ٹکرائے گی 
 ٹوٹ کر پھر یہ عمارت خاک میں مل جائے گی  
رب کائنات نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا بنایا، دیکھنے کیلئے آنکھیں عنایت کیں، پکڑنے کے لئے اور دوسروں کو سہارا دینے کے لیے ہاتھ عطا فرمایا، چلنے کیلئے پاؤں بخشا، سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ لینے کے لئے دل اور دماغ بھی دیا جب انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا اور جب وہ دنیا میں آیا تو اس کی مٹھی بند تھی یعنی جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند ہی رہتی ہیں اور جب انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں کھلی رہتی ہیں یہ دونوں مواقع کی نوعیت خود انسانوں کے لئے درس عبرت ہیں اگر غور کیا جائے تو دونوں موقع پر گہرا راز فاش ہوتا ہے-
جب انسان دنیا میں آیا تو دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کا بند ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عہد و پیمان اسی بند مٹھی میں لے کر آیا ہے،، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کہتاہےکہ کہ دنیا میں جاکر آخرت کو بھول نہ جانا بلکہ یہ یاد رکھنا کہ کل پھر تجھے دنیا کو خیرآباد باد کہنا ہے۔ قبر کے راستے تجھے پھر آخرت کی منزل تک آنا ہے۔ میں نے تیرے جسم کے اندر جو روح ڈالی ہے اُسے پاکیزہ رکھنا کیونکہ تیرا جسم تو بعد میں میرے پاس آئے گا ،لیکن روح قفسِ عنصری سے پرواز کر کے تیرے جسم سے پہلے میرے پاس آئے گی اور مجھے تیری روح ویسی ہی چاہئیے جیسی میں نے تجھے عطا کی تھی ،روح کے ساتھ خرد برد نہ کرنا، روح کو داغدار نہ بنانا، روح کو زنگ آلود نہ بنا نا،، اور یہ تبھی ممکن ہے جب تو دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھے گا اور مانے گا، اس لئے تو دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہنا اگر تو ان باتوں کو بھول کر سو برس کا سامان بھی اکٹھا کریگا تو اتنا یاد رکھنا کہ تجھے ایک پل کی بھی خبر نہیں ہوگی وہ ساری چیزیں خوب کھانا پینا جو میں نے حلال کی ہیں ۔ کھانے پینے کے بعد میرا شکر ادا کرنا لیکن ہاں زمین پر فساد برپا نہ کرنا، کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھانا، غریبوں اور مسکینوں سے نفرت نہ کرنا، یتیموں اور بیواؤں کا حق نہ مارنا، انسان ہوکر انسان کے ساتھ ناانصافی نہ کرنا، حکمرانی حاصل ہونے کے بعد رعایا پر ظلم نہ کرنا اور میری بندگی سے منہ نہ موڑنا، میرے محبوب کی نافرمانی نہ کرنااور اپنے بڑوں کی عزت کرنا اور اپنے سے چھوٹوں پر پیار شفقت و محبت کی نظر رکھنا اور زنا کے قریب بھی مت جانا۔ خبردار کسی بھی چیز پر گھمنڈ و تکبر نہ کرنا اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ،انہیں کبھی بھی تکلیف نہ دینا اتنا سب کچھ دنیا میں یاد رکھنا اور اس پر عمل کرنا تو تیری دنیا بھی کامیاب ہوگی اور آخرت بھی کامیاب ہوگی ۔معلوم یہ ہوا کہ بندہ جب دنیا میں آتا ہے تو اسی عہد و پیمان سے اسکی مٹھی بند رہتی ہے ۔
نو مہینے تک بچہ رحم مادر میں رہا اللہ تبارک و تعالیٰ اسکی خوراک کا انتظام کرتا رہا ،اب بچہ دنیا میں آیا موقع پر موجود خواتین نے نہلایا دھلایا اور کپڑا پہنایا یہ بھی قابل غور بات ہے کہ’’ پیدا ہوا تو بھی اپنا غسل خودنہ کرسکا اور جب مرا تب بھی اپنا غسل خودنہ کرسکا، پیدا ہوا تب بھی اپنے کپڑے خود نہ پہن سکا اور جب مرا تب بھی خود اپنا کفن نہ پہن سکا، پیدا ہوا تو بھی خود سے دوچار قدم نہ چل سکا اور جب مرا تو بھی اپنے سے چل کر اصلی مکان تک نہ پہنچ سکا‘‘۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے واضح اشارہ ہے کہ ائے میرے بندے دیکھ تیری کوئی حقیقت نہیں ہے کوئی اوقات نہیں ہے ،تجھے پیدا کرنے والا میں اور تجھے چلانے والا بھی میں۔ورنہ چلنے کے لئےٹانگیں میں نے عطا کرہی دی تھیں پھر بھی تو کھڑا نہ ہوسکا اور چل نہ سکا اس لیے کہ تیرے پاؤں کو ابھی میں نے چلنے کا حکم نہیں دیا تھا تاکہ تجھے یقین ہوجائے کہ بغیر حکم الٰہی کے ایک ذرہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ اب بچے کے داہنے کان میں اذان دی جاتی ہے اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے یعنی پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے متنبہ کردیا کہ دیکھ اذان اور اقامت دونوں ہوچکی ہے، اب صرف جماعت کا اہتمام باقی ہے ۔خوب اچھی طرح تو باخبر ہوجا اذان اور اقامت کے بعد جماعت کے مابین جو وقفہ ہے بس یہی تیری زندگی ہے۔ اب دوبارہ اذان بھی کہنے کا موقع نہیں دیا جائے گا بلکہ اب سیدھے جماعت قائم ہوگی، اتنے وقفے کے دوران کبھی تو اپنے قدم کو راہ حق سے بھٹکنے نہ دینا جو مجھ سے وعدہ کرکے اپنی مٹھیوں میں بند کرکے تو دنیا میں گیا ہے ،اس وعدے پر قائم رہنا، اس لئے کہ کل پھر جب تیرا دوبارہ سفر شروع ہوگا تو میں تیرے ہاتھوں کو کھول کر دنیا کو دکھا دونگا کہ تیرے دونوں ہاتھ خالی ہیں، اور یاد رکھنا تو میرے احکام کو صرف ایک فسانہ تصور نہ کرنا اور یہ بھی یاد رکھنا جب تو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہوگا تو میں تیری آنکھوں سے پردہ ہٹا دوں گا اور تو میری جنت و جہنم کو دیکھ لے گا۔ ہاں! اب اس کے بعد مہلت مانگے گا تو تجھے مہلت نہیں دی جائے گی۔ میں رحمٰن و رحیم ہوں تو جبار و قہار بھی ہوں، اس لیے تو صرف رحمٰن و رحیم سمجھ کر میری جباریت و قہاریت کو بھلا مت دینا۔   
قارئین کرام !آئیے ذرا زندگی کا نقشے پر نظر ڈالی جائے،، زید نے اپنے بیٹے بکر کی شادی کی زید کو بڑا ارمان تھا کہ میرے جیتے جی میرا بیٹا بھی باپ بن جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا زید نے داعی اجل کو لبیک کہا اب زیادہ عرصہ گذر جانے کے بعد بھی بکر کو کوئی اولاد نہیں ہوئی تو بکر کافی فکرمند ہوا۔ مساجد میں دعا کرائی، نہ جانے کتنے ڈاکٹروں سے علاج کرایا، پیروں کا دروازہ کھٹکھٹایا، خانقاہوں اور آستانوں پر حاضری دی اور خود بھی مسلسل دعا کرتا رہا کہ اے اللہ مجھے نیک وصالح بیٹا دے آخر اس کی دعا قبول ہوئی۔ اللہ نے بیٹا عطا فرمایا اب مزاج میں تبدیلی آ گئی ساتویں روز خوب دھوم دھام سے عقیقہ کیا۔ بڑے بڑے امراء و رؤسا کو دعوت دی اور غریبوں کو اپنے اردگرد ایک پل کے لئے بھٹکنے بھی نہیں دیا،، بیٹا تھوڑا بڑا ہوا تو بکر یہ بھول گیا کہ میں نے اللہ سے نیک و صالح بیٹا مانگا تھا۔ اب کہتا ہے کہ بیٹے کو انگلش تعلیم دلانا ہے،، علم دین کی تعلیم سے کچھ خاص آمدنی ہونے والی نہیں ہے، بیٹے کو ڈیڈی کہنا سکھایا ،ٹاٹا کہنا سکھایا، انگلش اسکول میں نام لکھایا ،بالآخر بیٹا بہت بڑا ڈاکٹر بن گیا۔ اس نے زبردست ہاسپیٹل تعمیر کرایا اور مریضوں کا علاج کرنا شروع کیا ۔بکر اب پھولے نہیں سمارہا ہے اور تکبر سے ہر ایک کو کہتا رہتا ہے کہ میرا بیٹا روزانہ لاکھوں روپے کماتا ہے، میرا بیٹا بہت بڑا ڈاکٹر ہے۔ ایک دن صبح سویرے بیٹا گھر سے اپنے ہاسپیٹل کے لئے چلا تھوڑی ہی دیر میں خبر آئی کہ او ڈاکٹر کے باپ بکر،، جلدی آ تیرے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ،ایک ٹرک نے تیرے بیٹے کی ہڈیوں اور پسلیوں کو توڑتے اور اور روندتے ہوئے گذر گیا ۔تیرا بیٹا موت کے گھاٹ اترگیا، بکر چیختے ہوئے کہتا ہے ہائے یہ کیا ہوا؟ آخر میں نے کون سی غلطی کی تھی کہ میرے بیٹے کے ساتھ ایسا ہوا۔بکر موقع واردات پر پہنچتا ہے خون کے آنسو روتا ہے، لاش کو ہاتھ لگانا چاہتا ہے تو سرکاری عملہ کہتا ہے خبردار! ہاتھ نہیں لگانا، ابھی تمہارے بیٹے کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہوگا۔ اور جب پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ملتی ہے اور تجہیز و تکفین کا وقت آتا ہے تو ایک عالم دین سے جنازے کی نماز پڑھانے کے لیے بکر جب کہتا ہے تو وہ عالم دین بھی کہتاہے کہ کہ دیکھ میری آمدنی بہت کم ہے لیکن آج تو اپنے اس بیٹے کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے مجھ سے کہہ رہا ہے جو روزانہ لاکھوں روپے کماتا تھا، دیکھ اسی کو زندگی کہتے ہیں تو چار دن کی چکاچوند روشنی میں سب کچھ بھول گیا ،جب تیرا بیٹا پیدا ہوا تھا تو میں نے ہی اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی تھی ،یہ اس بات کا اعلان تھا کہ بس اب جماعت کھڑی ہونا باقی ہے اور دیکھ اب جماعت ہونے جارہی ہے، یہی ہے زندگی کی حقیقت جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔(جاری)
رابطہ 8299579972