آخر ہم کون سا سماج تیار کرنے لگے؟

 سرینگر//سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما و ممبراسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہاہے کہ جنگجوئوں کی طرف سے سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے الزام کے بعد جنوبی کشمیر میں پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کے اغوا سے حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں اور عام شہریوں کو ہراساں کرنا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انسانی اقدار کے منافی ہے ۔ تاریگامی نے سوال کیاکہ ایسے واقعات سے کس کاز کی خدمت ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ پولیس اہلکاروں ، جنگجوئوں اور سیاسی ورکروں کے رشتہ داروں کی اغواکاری ، حراست اور ہلاکت اورجائیداد کو نقصان پہنچانے سے کسی کا کاز بھی پورا نہیںہوگاا،۔انہوں نے کہاکہ کیا ہم ایک لاقانونیت والے سماج کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟۔انہوںنے کہاکہ وہ تنازعہ میں ملوث تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کے کنبوں کو نشانہ نہ بنایاجائے اور انہیں پرامن زندگی بسر کرنے کی اجازت دی جائے ۔انہوں نے کہاکہ ایسے واقعات پر اگر ہم آج خاموش رہیں گے تو پھر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے گی ۔تاریگامی نے کہاکہ اس مرحلے پر امن کیلئے آواز بلند کرنی چاہئے اورایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے صورتحال بے قابو نہ ہونے پائے ۔ تاریگامی نے بتایاکہ 1999کی دہائی میں بھی جب ایسے ہی حالات کاسامناتھا اور ایک دوسرے کے رشتہ داروں کو ماراجارہاتھا ،تب انہوں نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور حریت کانفرنس سربراہ سید علی شاہ گیلانی کو مکتوب تحریرکرکے ان کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ۔انہوں نے کہاکہ ذاتی طور پر وہ کسی بھی طرح کے تشدد کے خلاف ہیں ۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگیوں اور نظریات سے بالاتر ہوکر آواز اٹھائیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے سامنے ابھر رہے حالات کے خلاف عوامی رائے عامہ قائم کرنے کیلئے موثراقدامات کی ضرورت ہے اوراگر سماج کا آج خیال نہیں رکھاگیا تو پھر مستقبل میں حالات مزید خراب ہوجائیں گے ۔