آج شام تک سوفیصد بجلی بحال کر دی جائیگی

سرینگر //حالیہ برف باری کے نتیجے میں کشمیر وادی میں بجلی سپلائی بری طرح سے متاثر ہو چکی تھیں اور جمعرات کو کولگام سمیت دیگر علاقوں میں بجلی سپلائی کو بحال کرنے کیلئے محکمہ کی ٹیموں کو متحرک رکھا گیا ہے اس دوران محکمہ بجلی کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شام تک محکمہ نے 1550میگاواٹ میں سے 1300 میگاواٹ بجلی بحال کر دی ہے ۔معلوم رہے کہ حالیہ برف باری کے نتیجے میں کولگام اور چاڈرہ میں بجلی کے ٹاوروں کو نقصان پہنچا تھا جبکہ کئی جگہوں پر بجلی کے کھمبے اور تاریں زمین پر گر چکی تھیں اور کئی ایک فیڈروں کو بھی نقصان پہنچا تھا ۔تاہم جاری برف باری میں محکمہ نے ملازمین کی ٹیموں کو متحرک کیا اور بجلی سپلائی کو بحال کرنے کی کارروئی شروع کی ۔کشمیر پاور ڈیولیمنٹ کارپوریشن کے ایم ڈی بشارت قیوم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جمعرات کی شام تک وادی میں 90فیصد اور شہر میں 98فیصد بجلی بحال کی جا چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں سب سے زیادہ بجلی کے ترسیلی نظام کو کولگام میں نقصان پہنچا تھا ،تاہم محکمہ نے وہاں 19 فیڈروں کو چارج کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کولگام میں جہاں بجلی کے ترسلی نظام کو نقصان پہنچا تھا، وہاں پر محکمہ کی ٹیموں نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا ہے اور وہاں پر ہنگامی سسٹم لگایا جا رہا ہے ،تاکہ صارفین کو بجلی سپلائی بحال کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ اُمید ہے کہ کل شام تک وادی میں 100فیصد بجلی بحال کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کی ٹیموں کو متحرک رکھا گیا ہے ۔ایم ڈی نے کہا کہ ساڑھے 15سو میگاواٹ میں سے محکمہ نے شام دیر گئے تک 1300میگاواٹ بجلی بحال کر دی ہے ۔محکمہ بجلی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات یعنی 12بجے تک صافین کو 1550میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہین تھی لیکن بھاری برف باری کے نتیجے میں بجلی کی ترسیلی لائنیوں کھمبوں  فیڈروں اور اور گریڈ سٹیشنوں کو نقصان پہنچا اور بجلی کی پیداوار گھٹ کر 400میگاواٹ رہ گئی ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے ملازمین کی انتھک کوششوں کی بدولت محکمہ نے ابھی تک قریب وادی کے مختلف اضلاع میں 90اور سرینگر میں 95 فیصد بجلی بحال کر دی گئی ہے ۔ اس دوران ادھر چرار شریف قصبہ اور اس کے ملحقہ علاقوں سے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ وہاں جمعرا ت کو 5بجے تک بھی بجلی سپلائی بحال نہیں ہو سکی تھی اسی طرح کپوارہ میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ۔ماگرے محلہ ٹھیون کنگن کے لوگوں نے بتایا کہ وہاں بجلی بحال نہیں کی جا سکی ہے۔