آج سے بھارت اور انگلینڈ کے درمیان چوتھا ٹیسٹ میچ شروع

ساوتھمپٹن/وراٹ کوہلی کی قیادت والی ہندوستانی کرکٹ ٹیم ناٹنگھم میں تیسرا ٹیسٹ جیتنے کے بعد بلند حوصلے کے ساتھ جمعرات سے یہاں شروع ہونے والے چوتھے ٹیسٹ میں جیت درج کرکے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں برابری کے مقصد سے اترے گی۔ ہندوستان کی ٹیسٹ سیریز میں شروعات اچھی نہیں رہی ہے اور وہ ایجبسٹن میں پہلا میچ 31 رن سے ہار گئی تھی جبکہ لندن میں اسے دوسرے ٹیسٹ میں اننگز اور 159 رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگرچہ ناٹنگھم میں اس نے واپسی کے لیے پورا زور لگایا اور 203 رن کے بڑے فرق سے انگلینڈ کو شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز کے لیے دو۔ایک پر پہنچا دیا۔ کپتان وراٹ گزشتہ میچ کو جیتنے کے بعد کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان اب بھی سیریز میں بنا ہوا ہے اور وہ اسے جیت سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہمان ٹیم اب بھی خطرے کے قریب ہی ہے اور اگر ساوتھمپٹن میں وہ ہار جاتی ہے تو سیریر پر قبضہ کرنے کا اس کا خواب یہیں ٹوٹ جائے گا۔ موجودہ سیریز میں ہندوستانی ٹیم کے بلے بازوں اور خاص طور پر سلامی بلے بازوں نے مایوس کیا۔ ناٹنگھم میں بھی اوپننگ آرڈر میں شکھر دھون 35، لوکیش راہل 24 اور چتیشور پجارا 14 رن ہی بنا سکے لیکن کپتان وراٹ اور نائب کپتان اجنکیا رہانے کی پہلی اننگز میں 97 اور 81 رنز کی اننگز اور پھر گیندبازوں کی قابل تعریف کارکردگی نے ہندوستان کی جیت یقینی کی ۔ ٹرینٹ برج میچ کی پہلی اننگز میں وراٹ نے 97 اور 103 رنز کی اننگز کھیلی تھیں ۔ایسے میں باقی بلے بازوں کے لیے اگلے اہم مقابلے میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا اہم ہوگا۔ لارڈس ٹیسٹ سے باہر رہے دھون کی گزشتہ میچ میں واپسی ہوئی تھی اور انہوں نے دونوں اننگز میں 35 اور 44 رن بنائے جبکہ لوکیش راہل اب تک زیادہ متاثر نہیں کر سکے ہیں۔ پجارا نے پہلی اننگز میں جلد آؤٹ ہونے کے بعد دوسری اننگز میں 72 رنز کی نصف سنچری اننگز کھیلی اور وراٹ کے ساتھ سنچری شراکت میں مدد کی۔ ابتدائی جن دو میچوں میں ہندوستان ہارا وہاں بڑی شراکت کانہ ہونا ایک اہم وجہ رہی تھی۔ مڈل آرڈر میں رہانے کے علاوہ آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا سے اب آخری میچ کے بعد امیدیں کافی بڑھ گئی ہیں۔ پانڈیا نے ناٹنگھم میں نہ صرف 28 رن پر سب سے زیادہ پانچ وکٹ حاصل کیے بلکہ ساتویں نمبر پر ناٹ آؤٹ 52 رنز کی اننگز سے بھی اپنی اہمیت ظاہر کی ۔ہندوستان کو انگلینڈ کے خلاف جہاں محدود اوور کی سیریز میں اسپنروں نے جیتنے میں مدد کی تو وہیں میڈیم تیزگیندباز پانڈیا کے علاوہ تجربہ کار محمد سمیع بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔روی چندرن اشون نے سب سے زیادہ اوور تک گیندبازی کی ہے ۔ ان کے علاوہ ایشانت شرما کی کارکردگی بھی تسلی بخش رہی ہے ۔ ٹرینٹ برج کی کامیابی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ وراٹ ساوتھمپٹن میں بھی یہ ٹیم اتار سکتے ہیں۔ اگرچہ گروئن چوٹ سے متاثر اشون کا فٹنس کے سلسلے میں کچھ شبہ ہے لیکن میچ سے پہلے منگل کو پریکٹس میں وہ گیندبازی اور بلے بازی دونوں کے لیے اترے جس سے ان کے کھیلنے کی امید ہے ۔ دوسری طرف انگلش ٹیم کے پاس سیریز میں قبضہ کرنے کا سنہرا موقع ہوگا۔ اگرچہ اس کے سٹار وکٹ کیپر بلے باز جانی بیرسٹو کی انگلی میں چوٹ تشویش کا سبب ہے جو اگر کھیلنے اترتے ہیں تو مہمان ٹیم کے نشانے پر رہیں گے ۔ انگلش ٹیم انتظامیہ بیرسٹو کو وکٹ کیپنگ کے بجائے بطور بلے باز چوتھے نمبر پر اتار سکتی ہے جبکہ کیپنگ کی ذمہ داری جوس بٹلر کو دی جا سکتی ہے ۔ بیرسٹو نے سیریز میں اب تک 206 رن بنائے ہیں اور آرڈر میں تبدیل سے ان کو پریشانی ہو سکتی ہے ۔اگرچہ کپتان جو روٹ، ایلیسٹیر کک، کیٹن جینگس، عادل راشد، اسٹیورٹ براڈ اور بین اسٹوکس جیسے اچھے کھلاڑی مہمان ٹیم کو پریشان کر سکتے ہیں۔یواین آئی