آج بھر پور احتجاج کیا جائے:مشترکہ قیادت

 سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاوق اور محمد یاسین ملک نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے اور شرنارتھیوں کو اقامتی اسناد جاری کرنے کے خلاف آج 30؍ دسمبر 2016 جمعۃ المبارک ریاست کی تمام چھوڑی بڑی مساجد میں بھرپور احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے ریاست کی متنازعہ حیثیت کو دھیرے دھیرے ختم کرکے پوری ریاست کوہندو راشٹر بنانے کی سازشیںہیں۔ آزادی پسند رہنماؤں نے ائمہ حضرات سے درخواست کی کہ جمعہ کے خطبے میں اس بات کی وضاحت کریں کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ ایک دیرینہ اور حل طلب مسئلہ ہے اور کسی غاصب اور قابض ملک کی بڑی سے بڑی عدالت کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس پر کوئی رائے دے سکے۔ انہوں نے پھر ایک بار ائمہ مساجد، دانشور، ٹریڈرس، علماء، طلباء، سول سوسائٹی، ٹرانسپورٹرس اور تمام باشعور اور ذی حس حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ وہ ان خطرات اور اندیشوں سے عوام کو باخبر کرائیں۔ مزاحمتی قیادت نے تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مجوزہ پروگرام میں دئے گئے جمعۃ المبارک اور سنیچروار کی ہڑتال کو ہرصورت میں کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون پیش کریں۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ اور ٹریڈرس سے وابستہ لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون دیں۔