آبی وسائل کی فراوانی کے باوجود ضلع رام بن کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت سے لوگ پریشان

محمد تسکین
بانہال// ضلع رامبن کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے جبکہ پینے کے پانی کے موجود وسائل کے باوجود پائپ لائینوں کی برسوں سے مرمت نہ کئے جانے کی وجہ سے پینے کا قیمتی پانی ضائع ہورہا ہے۔ اگرچہ ایک طرف سے جل جیون مشن اور گھر گھر جل پہنچانے کیلئے سرکاری سطح پر ایک بڑی مہم شروع کی گئی ہے تاہم ابھی تک زمینی سطح پر اس سکیم کے اثرات نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ رام بن ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع رامبن میں بھی جل جیون شکتی کے تحت سرگرمیوں کی بازگشت ہے لیکن بانہال ، رامسو گول اور رام بن کے درجنوں علاقوں اور دیہات شہر و گام میں پہلے ہی سے قائم بیشتر واٹر سپلائی سکیموں کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور ان پرانی سکیموں پر مرمت کے نام پر لاکھوں روپئے کی رقومات خرچنے  کے باوجود کوئی سدھار نہیں آیا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں علاقوں میں نلکے کا ساکٹ اور یونین نہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ قیمتی پانی ضائع ہورہا ہے اور لوگ موم جاموں کو لگا لگا کر پینے کی پانی کی بحالی کا انتظام کرتے ہیں یا از خود نلوں کا سامان خرید کر پانی کی بحالی ممکن بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی یا پی ایچ سی کے ملازمین اور افسروں سے جب بھی پائپ لائنوں کی مرمت کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ محکمہ جل شکتی کے پاس ٹینڈروں کے بغیر ایک پائپ اور ساکٹ لگانے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر بانہال کے میر پورہ کھارپورہ ، کھڑی آکھرن ، بزلہ ، ترگام ، رامسو ، نیل، بہوردار ، پوگل ، سینابتی ، کھڑی ، ٹھاچی امکوٹ ، رامبن کے ٹنگر ، کبھی ، ڈتھن اور چمار سوئی کے علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی یا عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے اور پانی کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود محکمہ کے ملازمین کی خود غرضیوں پر مبنی سکیموں سے لوگوں کو کوئی خاص فائیدہ نہیں پہنچایا جاسکا ہے اور ابھی بھی لوگوں کو ندی نالوں کا پانی فراہم کیا جاتا ہے اور ضلع میں  لاکھوں روپئے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے کئی فلٹریشن پلانٹ لوگوں کیلئے بے سود چابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی بے بسی کی وجہ سے معمولی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی پانی ضائع ہورہا ہے اور لوگ پریشان ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے پانچ سات سال کے دوران سب ڈویژن بانہال ، سب ڈویژن گول اور رام بن سب ڈویژن میں سرکاری رقومات کو مبینہ طور پر ٹھکانے لگانے کیلئے بِنا مطلب کی درجنوں پائیپ لائینیں بچھائی گئی ہیں ، واٹر سپلائی سکیمیں بنائی گئی ہیں اور ہزاروں گیلن کی صلاحیت والے پانی کے ریزرور اور فلٹر پلانٹ بھی تعمیر کئے گئے ہیں لیکن بیشتر کو قابل استعمال نہیں بنایا گیا ہے اور ابھی تک ان لائنیوں سے لوگوں کو کوئی فائیدہ پہنچ نہیں سکا ہے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ اور چیف انجینئر محکمہ جل شکتی جموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضلع رامبن میں پینے کے پانی کی سپلائز کو بہتر بنانے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی پائپ لائینوں اور واٹر ورکس سکیموں کی تجدید و مرمت کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کے محتاج ہزاروں لوگوں کو راحت مل سکے ۔اس سلسلے میں ایگزیکٹو انجینئر محکمہ جل شکتی ڈویژن رام بن سے رابط کیا گیا لیکن انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت گوارانہیں کی ۔