آئے روزٹھٹھرتی سردی میں تلاشی کارروائیاں

 سرینگر// آئے روز ٹھٹھرتی سردی میں تلاشی کارروائیوں کے نام پر لوگوں کو گھروں سے نکال کر گھنٹوں تک کھلے آسمان تلے رکھنے اور توڑ پھوڑ کرنے کی کارروائیوں کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ امن اور گڈ گورننس کے دعوے کرنے والوں نے زمینی سطح پر عوام کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے ۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے صوبائی سطح کے ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کیا۔مقررین نے اجلاس کو اپنے اپنے علاقوں کی زمینی صورتحال سے آگاہ کرنے کے علاوہ پارٹی سرگرمیوں اور لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا۔ جہاں جنوبی کشمیر کے شرکاء نے آئے روز کریک ڈائونوں، تلاشی کارروائیوں، توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرنے کے علاوہ بجلی، پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی عدم دستیابی جیسے مسائل اُجاگر کئے وہیں جبکہ وسطی اور شمالی کشمیر کے شرکاء نے بھی اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کو درپیش کچھ ایسے ہی مسائل و مشکلات کا خلاصہ کیا۔ علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میںکہا کہ موجودہ حکومت نے جو طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے وہ وادی کو تبادہی اور بربادی کی جانب دھکیلنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ ساگر نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی سرکاریں 2017کو پُرامن سال گردانے میں کوئی کثر چھوڑ رہے ہیں لیکن جب زمینی سطح پر حالات و واقعات پر نظر دوڑائی جاتی ہے تو حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امسال 61عام شہری گولوں اور پیلٹ کی بھینٹ چڑھ گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور تین سو سے زائد سیکورٹی فورسز اہلکار اور جنگجو مارے گئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کیخلاف امسال طلباء و طالبات بھی احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے، آئے روز کریک ڈائونوں کا سلسلہ جاری رہا، ٹورازم سیکٹر دم توڑنے کے قریب پہنچے گیا اور حکمران امن کو جھوٹے دعوے کرتے پھر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی بھاجپا مخلوط حکومت کا مقصد نہ صرف ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنا ہے بلکہ یہاں کی نوجوان نسل کے مستقبل کو تاریک بنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر کشیدگی ہے جبکہ اندرونِ وادی آئے روز انکائونٹر ہورہے ہیں، سرحدی گولی باری سے آر پار لوگ مررہے ہیں جبکہ وادی میں عام لوگوں کے خون بہنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف لوگ بنادی ضروریات کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ دوسری جانب حکومت ذرائع ابلاغ میں سب کو ٹھیک جتلا کر بلند بانگ دعوے کررہی ہے اور لوگوں کو بڑی بڑی میٹنگوں کے انعقاد کی تصویریں اور فلمیں دکھائے جارہے ہیں۔