اْکڑال ہسپتال عمارت کے باہر گلوکوز کی لاوارث بوتلیں،عوام سیخ پا

بانہال// ضلع رام ن میں کمیونٹی ہیلتھ سینٹر اْکڑال کے باہر بھاری مقدار میں سرکاری سپلائی کی گلوکوز بوتلیں ملنے کے بعد لوگوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے اور لوگ اس کی بڑے پیمانے پر تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہسپتال سپلائی کی ان گلوکوز بوتلوں کے لاوارث حالت میں ملنے کے بعد ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے سب ڈویژنل مجسٹریٹ رامسو دل میر چوہدری کی قیادت میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ڈپٹی سی ایم او رام بن ڈاکٹر محمد اقبال بٹ اور میڈیکل سپراٹنڈنٹ ضلع ہسپتال رام بن ڈاکٹر عبدالحمید زرگر پر مشتمل ہوگی اور اس ٹیم کو ایک ہفتے کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ پورے ضلع رام بن میں تعینات بیشتر ڈاکٹر مریضوں کو مفت سرکاری سپلائی میں آنے والی ادویات تجویز نہیں کرتے ہیں اور مریضوں کو میڈیکل دکانوں پر بھیجا جاتا ہے جبکہ سرکاری سپلائی میں آنے والی ادویات کو یوں ہی باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اْکڑال ہسپتال کے باہر جو گلوکوز کی بوتلیں ملی ہیں ان کی معیاد ابھی ختم نہیں ہوئی تھی اور یہ معاملہ جب لوگوں کی نوٹس میں آیا تو وہاں پڑی گلوکوز بوتلوں اور دیگر لاوارث سامان کو آگ لگا دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جموں وکشمیر میڈیکل سپلائیز کارپوریشن کی طرف سے یہ ادویات مفت میں غریب مریضوں کو تجویز کرنی ہوتی ہیں لیکن بانہال ، اْکڑال، رام بن ، بٹوت اور گول کے علاقوں میں بیشتر ڈاکٹر اپنی کمیشن کی خاطر سرکاری مفت سپلائز کو نظر انداز کرکے مریضوں کو باہر میڈیکل دکانوں سے ادویات خریدنے کیلئے مجبور کرتے ہیں اور میڈیکل سپلائیز کو لوگوں کو دینے کے بجائے ایسے ہی ضائع کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی اس مبینہ خود غرضی ، لالچ اور کمیشن خوری کی وجہ سے بہت سارے مریض مارکیٹ سے ادویات خریدنے سے رہ جاتے ہیں اور بیب سے رقم نہ ہونے کی وجہ سے ایسے غریب اور لاچار مریض خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام کی طرف سے منگل کے روز تشکیل دی گئی کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس سلسلے میں بلاک میڈیکل افسر اْکڑال ڈاکٹر جاوید اقبال نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بحیثیت مقامی افسر کے ان کی کوشش ہے کہ میڈیکل بلاک اْکڑال کو ہر لحاظ سے بہتر بنایا جائے اور اس کیلئے ضلع انتظامیہ کی مدد سے کئی کام انجام دیئے گئے ہیں اور حال ہی میں ہسپتال کی نئی عمارت انہیں حوالے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کا احاطہ بیرونی دیوار بندی نہ ہونے کی وجہ سے شاہراہِ عام بنا ہوا ہے اور یہاں یہ ایکسپائر ادویات کب اور کس نے ہسپتال کے نزدیک پھینکی ہیں انہیں اور ہسپتال عملے کو اس بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔