اِلزام تراشی معاشرے کے لیے سمِ قاتل

 صاحب کردار وہ ہوتے ہیں جو کسی کے کردار پہ بات نہیں کرتے۔لوگ اپنے ہوں یا پرائے ہمیشہ اچھی فطرت ، سوچ اور کردار نے لوگوں کا دل جیتاہے۔محبت،دوستی،ہمدردی،رہنمائی یا مدد اس دنیا میں کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جائیں جو یہ بتاتی رہے کہ اس راہ سے آپ گزرے تھے۔خوبصورتی تو ختم اور تبدیل ہوجاتی ہے لیکن سیرت نہ تو ختم ہوتی ہے اور نہ تبدیل۔
ہمارے معاشرے میں تہمت لگانا، الزام تراشی کرنا، بہتان لگانا اور بدگمانی پیدا کرنا ہمارے سکون کے لیے زہرقاتل ہیں۔ یہ رویے ہماری خوشیوں کو برباد کردیتے ہیں اور ہر ایک فرد ان سے متاثر ہوتا ہے۔منفی خیالات اور دوسروں کے بارے میں غلط سوچ اور خوہ مخواہ کا تجسس ہمیں ایک دوسرے سے دور لے جاتا ہے۔بےبنیاد خیالات ،غلط فہمیاں،شک اور دوسرے کے بارے میں ازخود کوئی رائے قائم کر لینا یا دوسروں کی غلط معلومات اور الزام تراشی کو تصدیق کئے بغیر سچ جان لینا بدگمانی اور نفرت کا باعث بن جاتا ہے، جس سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آجاتا ہے۔بعض اوقات کسی پر ایسا الزام لگادیا جاتا ہے کہ اسے سننے والا حیران وششدر رہ جاتا ہے۔الزام تراشی اور بدگمانیاں پھیلانے والا اکثر یہ کہتا ہے کہ میں نے آپ کو بتا دیا ہے لیکن اس بات میں میرا نام نہ آئے۔جو شخص کسی کے خلاف جھوٹا الزام لگاتا ہے، وہ خود کو دوسروں کا ہمدرد ثابت کرتا ہےاور اپنے آپ کو معتبر گردانتا ہے لیکن فریق مخالف کو بغیر کسی جرم و خطا کے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کردیتا ہے ۔دراصل ایسا شخص خود ہی یہ سب باتیں پھیلا رہا ہوتا ہے، کوئی اس بیان کو درست تسلیم کر لیتا ہے اور خواہ مخواہ اشک اور بدگمانی اپنے دل میں ڈال لیتا ہے۔حالانکہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل تصدیق کر لینی چاہیے اور دوسرے فریق سے بھی وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ قرآن حکیم نے اسی لیے حکم دیا ہے کہ جب بھی کوئی فاسق اس قسم کی خبر تمہارے پاس لائے تو اس اس کی تحقیق کرلیا کرو۔یہ حکم انفرادی باتوں کے متعلق بھی بھی ہے اور اجتماعی امور سے بھی ہے۔تہمت ،بہتان اور جھوٹے الزام کو اللہ تعالیٰ نے بدترین جرم قرار دیا ہے۔ایسا کرنے والا کمینہ خصلت،بدترین کردار اور پست ذہنیت کا حامل ہوتا ہے۔متاثرہ فرد اور اس سے جڑے ہوئے دیگر افراد کا سکون تباہ ہوجاتا ہے اور وہ اُس ناکردہ گناہ کی وجہ سے مفت میں بدنام ہوجاتا ہے۔قرآن حکیم نے اسی لئے اس کو بہت سنگین جرم قرار دیا ہے۔کسی کی عزت اور کردار کو معاشرہ میں رسوا کرنے کے بعد اگر معافی طلب کی بھی جائے تو جو نقصان ہوچکا ہوتا ہے، اُس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔اِنہی سماجی رویوں کے باعث دلوں میں دوریاں اور نفرتیں پروان چڑھتی ہیں ،اسلام کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے ۔جو دین دلوں کو جوڑنے آیاہے،اُسی دین کے پیرو کار ایسا کچھ کررہے ہیں۔اور ہماری حالت بقول حالیؔ ؎
جس دین نے غیروں کے تھے دل آکے ملائے
اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جدا ہے
ماہرین نفسیات ان منفی رویوں کو سماجی مسائل اور بگاڑ کا باعث سمجھتے ہیں۔قران حکیم نے ان امور کے بارے میں واضح تعلیمات دی ہیں۔فرمایا کہ دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں نہ لگے رہو،کسی کے خلاف تہمت نہ لگاؤ ۔ قرآن حکیم میں یہ بھی ہے کہ خود جرم کا مرتکب ہونا اور اس کا بہتان دوسروں پر لگا دیناسخت جرم ہے۔ایک دوسرے کی غیبت مت کرو،یہ نہایت ناپسندیدہ ہے۔ایک دوسرے کا تمسخر نہ اُڑاو،ایک دوسرے کی ذلت نہ کرو، ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو۔ باری تعالیٰ نے یہ بھی حکم دیا کہ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی مت کرو،کسی سے حسد نہ کرو،خواہ مخواہ افواہیں نہ پھیلاؤ اور غلط باتوں کا چرچا نہ کرو۔قرآن حکیم جو تعلیمات دی ہیں ان کا تقاضا ہے کہ اگر کسی کے خلاف کوئی الزام لگایا جائے تو مومنین کا پہلا ردعمل نیک رکھنا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ یہ بات غلط ہے۔قرآن حکیم یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ جب کسی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنیں ،جو نامناسب ہو تو اُسے آگے نہ پھیلائیں بلکہ کہہ دیں کہ یہ بہتان تراشی ہے۔قران حکیم نے سخت تنبیہ کی ہے کہ اس قسم کی باتوں کا چرچا کرنے والے بھی مجرم ہیں۔قرآن حکیم نے سورہ نساء، نور ، احزاب اور حجرات میں اس بارے میں تفصیلی احکامات دئے ہیں ۔ان احکامات پر عمل کرکے جہاں ہم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں وہاں ہم اپنے رشتوں اور تعلقات میں آنے والی رنجشوں اور دوریوں کو ختم کرسکتے ہیں۔ ان پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں ہمارا معاشرہ محبت اور دوستی کا گہواراہ بن سکتا ہے۔ ہمیں انفرادی،معاشرتی اور قومی سطح پر ان ہدایات کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے۔میڈیا اور ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کو تو سختی سے ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
(سوگن شوپیان،رابطہ۔9070931709)