اِلتوأ میں پڑے تمام معاملات

بارہمولہ//جموںوکشمیر ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی محمد ماگرے جو کہ ضلع بارہمولہ کے انتظامی جج بھی ہیں، نے سنیچرکو ضلع کورٹ کمپلیکس کا دورہ کرکے وہاں کام کاج کا جائزہ لیا۔پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج بارہمولہ سنجیو گپتا نے انہیں ضلع عدالت کے روزمر ہ کے کا م کاج کے علاوہ مدعیان اور وکلاء کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس ماگر ے نے اِلتوأ میں پڑے تمام معاملات کو جلد از جلد نمٹانے پر زور دیا ۔اُنہوں نے اے ڈی آر کے ذریعے بھی معاملات نمٹانے کی تلقین کی جس کے تحت فریقین فیصلے پر متفق ہوتے ہیں۔دریں اثنا جسٹس ماگر ے نے ضلع کی مختلف عدالتوں میں الگ الگ عمل آوری ایجنسیوں کے ذریعے دردست لئے گئے ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ان کاموں وقت مقررہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔انہوں نے اے ڈی سی بارہمولہ کو مختلف کاموں کے لئے زمین کی حصولیابی یقینی بنانے کے لئے کہا۔ محکمہ صحت عامہ بارہمولہ ڈویژن کے ایگزیکٹیو انجینئر کو ہدایت دی گئی کہ وہ عدالتوں کو فراہم کئے جانے والے پینے کے پانی کے معیار اور مقدار کو یقینی بنائیں۔اِ س موقعہ پر سوپور کورٹ کمپلیکس میں رہائشی کوارٹروں کی تعمیر کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج بارہمولہ نصیر احمد ڈار ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سوپور اعجاز احمد خان، سب جج بارہمولہ فیضان الحق اور ضلع انتظامیہ کے دیگر افسران بھی اس موقعہ پر موجو دتھے۔بعد میں جسٹس ماگرے نے بارہمولہ بار ایسو سی ایشن کے ممبران کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس دوران بار ممبران نے جج موصوف کو اپنے مطالبات اور مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔ ممبران نے مانگ کی کہ جوڈیشل افسروں کی خالی اسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جانا چاہیئے تاکہ عدالتوں کے کام کاج میں حائل رکاوٹوں کو دور کیاجاسکے۔ بار ممبران نے کوروناوائرس کے خطرے پر قابو پانے کے لئے مناسب اقدامات کا بھی مطالبہ کیا ۔جسٹس ماگر ے نے متعلقہ افسروں کو اس سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی ہدایت دی تاکہ کسی بھی صورتحال سے مؤثر طور نمٹاجاسکے۔اُنہوں نے بار ممبران سے تلقین کی کہ وہ اس سلسلے میں جانکاری عام کرنے کے لئے اپنا رول ادا کریں۔