اِسلام کاپیغام رحمت ہی ظلم سے نجات دے سکتاہے

جموں // کائنات ارضی آج ظلم و عدوان کی آماجگاہ نبی ہوئی ہے ،ہوس جاہ و حشم، حرصِ ملک گیری اور خواہشات نفس کے حصول کی بے لگام دوڑنے کرۂ ارضی کو فساد و عناد سے بھر دیا ہے، انصاف، عدل، اخوت، محبت و مودت کی یہ سب اصطلاحیں بس کتابوں کی زینت اور تقریروں کے عناوین بن کے رہ گئے ہیںاِس تیرہ و تار فضا میں اِسلام کا حیات آفرین پیام ہی پژ مردہ اِنسانیت کو حیات نو فراہم کرسکتا ہے۔ یہاں جاری بیان کے مطابق اِ ن خیالات کا اظہار آج جکتی ٹانڈا جموں میں جمعیت اہلحدیث جموں و کشمیر کے اہتمام سے منعقدہ اسلام اور امن عالم کے زیر عنوان بھاری دعوتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمعیت اہلحدیث مولانا مشتاق احمد ویری نے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بندوں کی گردنیں جب جب تک بندوں کی غلامی سے آزاد نہیں کی جاتیں اور سبھی دہلیزوں سے صرف نظر کرکے جب تک انسان صرف اللہ کے دربار میں سجدہ ریز نہیں ہوتا ،توحید و سنت کے پیام کو جب تک کامل طور اپنایا نہیں جاتا، پریشانی و پشیمانی میںکسی طور کمی ممکن نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ امن عالم کے قیام کے نام پر آج خشک و تر میں جو عالمی طاقتیں نشستوں کا اہتمام تو کرتی ہیں لیکن یہی لوگ بدامنی و فساد کو ہوا دے کر اپنی چودہراہٹ اور انا کو برقرار رکھنے کے لئے بے گناہوں اور معصوم لوگوں کو قتل و قتال اور جنگ و جدل کا ایندھن بنا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس اندھیری فضاء میں حق و انصاف کا اُجالا کرنے کے لئے جمعیت اِن کا نفرنس کا انعقاد شرق و غرب اور شمال و جنوب میں کررہی ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت کے شعبہ ادب و صحافت کے سربراہ بشارت بشیرنے کہا کہ آج بے دریغ چمن زار انسانیت کے مہکتے گلوں کو کچلا مسلا جارہا ہے ۔ شام ، لبنان، فلسطین و افغانستان میں خوں آشامیاں جاری ہیں اورکشمیر عشروں سے آتش و آہن اور حرب وضرب کی آماجگاہ بناہوا ہے، معصوموںو مجبوروں کے خوں کی ہولی کھیلی جارہی ہے جو رو ظلم کی اِس طویل رات کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ اُسی سرچشمہ ٔ راحت یعنی اسلام کی جانب رجوع کیا جائے جس نے کمزور و طاقتور کو یکساں حقوق دئے، ضعیفوں کا ملجا بنا، یتامی و مساکین کا معاون بنا، زیر دستوں کو بالا دستوں کی غلامی سے چھڑایا ، پریشان حالوں اور مصیبت کی ماروں کا ترجمان بنا ۔ اُنہوں نے کہا آج کائنات ارضی میں ہر نوع کا فساد سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ فحاشیت،عریانیت ، میڈیائی مضرات ادب و ثقافت کے نام پر انتشار و افتراق عروج کو چھو رہا ہے۔ اِن حالات میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر ایک دوسرے کو مورد الزام بنانا درست نہیں بلکہ حکمرانوں، دانشوروں علماء، معاشرے کے ذمہ داروں ، والدین و اولاد اور اساتذہ و شیوخ سبھی نے اپنے فرائض یک جٹ ہوکر انجام دینے کے لئے تطہیر معاشرہ اور تہذیب اخلاق کے لئے کام کرنا ہوگا۔اس موقع پر مھد امام ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری ؒ کا سنگ تأسیس ایک وسیع و عریض رقبۂ زمین پر رکھا گیا۔ اِس انسٹی چیوٹ میں علوم نبوی کے علاوہ طلباء عزیز عصری علوم سے بھی بہرورہوں گے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالقیوم سراجی ، مولانا بشارت علی ، مولانا عبداللطیف ریاضی، مولانا لیاقت علی ، مولانا محمد ابراہیم سلفی ، مولانا کریم بخش محمدی ، مولانا حافظ عبداالمالک ،مولانا غلام رسول ، مولانا عبدالباقی سلفی ، مولانا اعجاز احمد مدنی ، حافظ عبدالماجد ، حافظ محمد عمران عبدالرؤف ملک اور شائق ملک نے بھی خطاب کیا۔