اُمت ِ مسلمہ کیلئے فلاح و کامرانی کی راہیں

اعلان نبوت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکی زندگی کے شب و روز میں کوئی دن اور کوئی رات ایسی نہیں ہوتی تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ کے دلوں کے بند دروازوں پر دستک نہ دی ہو، اپنوں کے پاس گئے، انجانوں بیگانوں کی خوشامدیں کیں،جو آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتے تھے، آپ نے اُن پر شفقت و محبت کے پھول برسائے، کوچہ کوچہ آبلہ پائی کی ، صحرا اور بیابانوں میں راہ نوردی کی، ہر تلخ کلامی کو صبر و ضبط سے برداشت کیا، تمسخر اڑانے والوں کی کڑوی کسیلی باتوں اور طعنہ زنی کوہمت سے سہا۔ ان بدترین اور صبر آزما حالات میں دو شخصیات آپ کے لئے حمایت ومحافظت کا سایہ اور سہارا بنے ہوئے تھے، ایک آپ کے محسن و مشفق چچا حضرت ابو طالب جو بنی ہاشم کے سربراہ اور سرپرست کی حیثیت سے آپ کی ڈھال بنے ہوئے تھے۔ دوسری آپ کی دمساز و غم خوار زوجہ محترمہ حضرتِ خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ کے زخموں پر دل داری اور محبت کے مرہم رکھا کرتیں تھیں۔ مشیت ایزدی کہ نبوت کے دسویں سال ان دونوں ہی شفیق و مہربان شخصیات کا انتقال ہو گیا۔ 
ان دونوں شخصیات کی جدائی اور رفاقت و حمایت سے محرومی ایسا ہی تھا کہ جیسے آپ کی تائید و تقویت کے دو اہم ستون گر گئے۔ اس صدمہ کی شدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سال کو ’’غم کا سال‘‘ سے موسوم کیا۔ غم و اندوہ کے ان حالات میں جہاں مخالفتوں میں تیزی آئی، وہیں بنی ہاشم کی سرداری آپ کے بدترین دشمن ابولہب کو حاصل ہو گئی۔ جس سے دشمن شیر ہو گئے اور اب نوبت جسمانی ایذا رسانی تک پہنچ گئی۔ 
اس بے سرو سامانی اور مکہ میں زندگی مشکل ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل ِطائف سے پوچھنے گئے کہ آیا تم سچائی کی اس مشعل کو اٹھاسکتے ہو؟ اہل ِطائف نے جواب دیا کہ میں تو مکہ سے بھی بڑھ کر نا اہل ہوں ، طائف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو کچھ گزری اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک بار حضرت عائشہ ؓ نے دریافت کیا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ پر اُحد کے دن سے بھی سخت دن کوئی گزرا ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’ تمہاری قوم کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچیں سو پہنچیں، مگر سب سے بڑھ کر سخت دن وہ تھا جب میں نے طائف میں عبد یا لیل کے سامنے دعوت رکھی اور اُس نے اسے رد کر دیا ۔‘‘ غرض کہ آلام و مصائب کا طوفان سر سے اونچا ہو چکا تھا، مایوسیوں اور نا اٖٖمیدیوں نے شش جہت سے گھیرا ہوا تھا اور بظاہر راستے بند ہو چکے تھے۔ ان نامساعد حالات میں معراج کا واقعہ پیش آیا جو ہوا کا ایک سکون آور جھونکے سے بڑھ کر تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف رسول اللہؐ کے لئے جسمانی و روحانی طور پر ’’رفعنا لک ذکرک‘‘ کا مشاہدہ و نظارہ تھا تو دوسری طرف اسلام کی عالمگیر دعوت کے ارتقاء اور عروج و کامیابی کی نوید بھی تھا۔ اس واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد ہجرتِ مدینہ کا حکم الہٰی آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اہلِ طائف کا یاس انگیز جواب سن کر طائف سے باہر نکل رہے تھے تو دور سے یثرب کی مدہم سی آواز آئی کہ میں ’’مدینہ النبی‘‘ بننے کو حاضر ہوں۔
میں نورِ حق کی مشعل کو اٹھاؤں گا اور ساری دنیا کو روشنی عطا کروں گا۔ میری گود میں نیکی کا نظام پرورش پائے گا اور میری گہواروں میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گی ، گویا طائف قریب تھا اور دور ہو گیا، یثرب دور تھا، مگر قریب آگیا ۔ غرض کہ طائف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ابتلا و آزمائش کا نقطۂ عروج تھا ،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے واقعۂ معراج کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دل داری کا سامان کیا اور اس کے بعد ہجرت مدینہ کی شکل میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی دعوت و تحریک کے لئے فتح مندی، کامیابی اور عروج و ارتقاء کا ایک نیا دروازہ کھل گیا۔
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام تر جدوجہد مکہ کی تکالیف، طائف کی اذیتیں ، پھر معراج یعنی افلاک کی نظر نوازی، آسمانوں پر عزت افزائی اور پھر عرش الہٰی پر دیدارِ الہٰی اور اس کے بعد مکہ کو الوداع کہنا، مدینے کا آپ کو مرحبا کہنا، اسلام کا عروج اس ساری داستان عزیمت و عظمت اور آخر الامر ’’غلبۂ دین‘‘ میں آج مسلمانوں اور عالم اسلام کے لئے، امید اور کامیابی کی ایک نوید ہے۔ عصر حاضرمیں امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام ہر سطح اور ہر جگہ پر جن حالات سے دوچار ہیں، وہ یہی ہیں کہ قدم قدم پر انہیں ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے۔ 
ہر محاذ پرہزیمت اور شکست ہے، ناکامیاں پوری امت کو گھیرے ہوئی ہیں،عالم اسلام پر عالم کفر اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، مسلمانوں کی شہِ رگ معیشت پرہنود ویہود اور مغربی طاقتیں اپنے پنچۂ استبداد کو گاڑے ہوئے ہیں۔ مقصد ان سب کا ایک ہی ہے کہ مسلمانوں کو کسی بھی طرح دہشت زدہ و مرعوب کر کے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جائے، جیسا کہ مکہ کے سرداروں اور مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ کیا تھا، لیکن اسلام وہ پودا ہے کہ اسے جس قدر کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی جڑیں اس قدر گہری اور مضبوط ہوتی جاتی اور اس کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں۔ 
قرآن کریم نے عہد رسالتؐ کی اس کیفیت کو بہت دل نشین انداز سے بیان کیا ہے کہ’’جن سے لوگوں نے کہا کہ مکہ والے تمہارے مقابلے کے لئے جمع ہو گئے ہیں ،لہٰذا تم اُن سے ڈرو تو اس سے ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں تو اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔‘‘(سورۂ آل عمران : 173)
اس وقت بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے کہ تمام غیر مسلم ایک دوسرے سے گلے مل مل کر اورایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مجتمع ہو رہے ہیں۔ان حالات میں مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہئے ، عالم اسلام کی کیا حکمتِ عملی ہونا چاہئے۔ اس سب ظلم و زیادتی کے عالمی ماحول میں ہمیں چاہئے کہ ہم حوصلہ، ہمت اور متاع گراں مایہ کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں، جابرانہ عالمی نظام ہماری پست ہمتی اور کم حوصلگی کا ذریعہ نہ ہو، بلکہ مسلم دنیا کے استحصال پر مبنی اس تمام عالمی ماحول اور ریشہ دواینوںمیں ہمارا اللہ پر ایمان و یقین اور بھی بڑھ جانا چاہئے، ہم مادی طاقتوں کی کارسازی اور مکرو فریب پر یقین کرنے اور ڈرنے کے بجائے اللہ کی قدرت اور کاسازی پر یقین کریں۔ صبر و استقامت سے ثابت قدم رہیں اور یہ پکار اٹھیں کہ ’’ حسبنا اللہ و نعم الوکیل‘‘۔ اللہ ہی ہمارے لئے کافی ہے اور وہی ہمارا کارساز ہے۔‘‘
یاد رکھیئے ! جو قومیں او ر امتیں اپنی مرضی سے بہ رضا و رغبت اپنے جان و مال کا اللہ کے ہاتھوں سودا کر لیتی ہیں ، جنہیں اللہ کے راستے میں پانے سے زیادہ کھونا اور جینے سے زیادہ مرنا عزیز ہو اسے کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ واقعۂ معراج امت مسلمہ کے لئے دل داری اور طمانیت کا سبق ہے کہ وہ مصیبت اور مایو س سے مایوس کن حالات میں بھی ہمت و حوصلہ نہ ہاریں، بلکہ اس طرح کے استحصال اور استعماریت پر مبنی حالات و واقعات اُن کی ثابت قدمی کو مضبوط سے مضبوط کرتے چلے جائیں۔ 
دنیا کا لا دینی ماحول اللہ پر ان کے ایمان و یقین کو اور بھی فزوں تر کرتا چلا جائے کہ جیسے رات کی تاریکی سے صبح پھوٹتی ہے اور گرمی اور حبس جب انتہا سے بڑھ جائے تو بارش کی نوید ہوتی ہے۔ بعینہ باطل اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ اور ظہور کے بعد حق ایک نئی قوت و طاقت اور آب و تاب کے ساتھ دنیا کی ظلمتوں پر چھا جاتا ہے، اور عالم کفرکی طاغوتی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس چراغ کواس نوید خداوندی کے باوصف بجھایا نہیں جا سکتا کہ ’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کااتمام کر کے رہے گا چاہے کافروں کو یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ (سورۂ صف :۸)
یہ ایک آفاقی سچائی ہے کسی گروہ کے لئے سب سے بڑی طاقت اس کا اندرونی حوصلہ اور ہمت مردانہ ہی ہوتی ہے۔ جو قوم اس متاع حیات سے محروم ہو جائے وہ ایک باعزت اور خود دار قوم کی حیثیت سے دنیا کی اقوام میں اپنا وجود کھو دیتی ہے۔واقعۂ معراج کا پیغام اور سبق یہی ہے کہ جہدِ مسلسل، یقین کامل اور ثبات محکم بالآخر آج بھی امت کو عروج و سربلندی سے سرفراز کرے گی اور آخری غلبہ، اسلام اور عالم اسلام ہی کو حاصل ہو گا۔