اُستاد کی تلقین سے زیادہ عمل و کردار ،طالب علم کی تربیت کے لیے اہم

 حیدرآباد،// طالب علم پر استاد کی تربیت کا تلقین اور ہدایت کے مقابلے کہیں زیادہ اثر مرتب ہوتا ہے۔طالب علم استاد کو نہ صرف سنتے ہیں بلکہ دیکھتے بھی ہیں۔ قول و فعل میں تضاد استاد کی شبیہ کو مجروح کردیتا ہے۔ پیدائش سے موت تک تعلیم کا عمل جاری رہتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت محمدؐ نے جنگ بدر میں ان لوگوں کو آزاد کردیا جنہوں نے مسلمانوں کو تعلیم دی۔ پروفیسر خالد محمود، سابق صدر شعبۂ اُردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں   یوم اساتذہ لکچر بعنوان ’’تعلیم، مقصد تعلیم، معلم اور معلم کی ذمہ داریاں‘‘ دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ یومِ اساتذہ کا اہتمام اسکول برائے تعلیم و تربیت نے کیا تھا۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ پروفیسر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر اور ڈاکٹر ایم اے سکندر، رجسٹرار بالترتیب مہمانِ خصوصی و مہمانِ اعزازی تھے۔ مہمان مقرر نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام علوم کا منبع و مبدا اللہ رب العزت کی ذاتِ باکمال ہے اسی لیے قرآن کی پہلی وحی میں بھی اقرا کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم میں تلقین اور ہدایت کے ساتھ تربیت بھی شامل ہے۔ ہمارے بچپن میں پورا محلہ تربیت کرتا تھا۔ استاد کو اپنے پیشے سے عشق ہونا چاہیے۔ تب ہی وہ تدریس سے انصاف کرسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز صحیح معنوں میں عاشقِ اُردو ہیں۔ کوئی بڑا کام کرنے کے لیے شوق اور دیوانگی ضروری ہے۔ دیوانوں کی دیوانگی فرزانوں کے کام آتی ہے۔ طلبہ زمین کے چاند ستارے ہیں۔ یہ زمین و آسمان دونوں کو روشن کرتے ہیں۔ انہوں نے رادھا کرشنن کے بارے میں بتایا کہ وہ علم کے مندر کے پجاری بنے۔ استاد کو مثالی انسان ہونا چاہیے۔ اس کی شخصیت، کردار اور گفتار طالب علم کے لیے چراغ رہ گزر بنتی ہے۔