اُردو ختم ہوگئی تو ایک تہذیب ختم ہوجائے گی: پروفیسر ابن کنول

سرینگر/ اقبال انسٹی ٹیوٹ کلچر اینڈ فلاسفی کشمیر یونیورسٹی کے اہتمام اور میزان پبلشرز سرینگرکے اشتراک سے ایک تحقیقی ،ادبی محفل اور کتب ہا کی رسم رونمائی انجام دی گئی ۔شعبہ ڈسٹنس ایجوکیشن کے کانفرنس ہال میں منعقدہ مجلس میں دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اُردو کے صدر اور معروف اُردو دانشور پروفیسر ابن کنول نے اُردو تحقیق کے مختلف زائویوں اور تحقیقی طریقہ کار پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اُردو ایک تہذیبی زبان ہے ،اگر اُردو زبان ختم ہوگئی تو ایک تہذیب ختم ہوجائے گی۔ انہوںنے اُردو زبان کو درپیش چیلنجوں کے پیش نظر اُردو کے طلبہ ، تحقیق کاروں اور اساتذہ پر زور دیا کہ موجودہ دور میں اس زبان کا تحفظ کرنے کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کشمیری اسکالروں کے تحقیقی کام کی سراہنا کرتے ہوئے اُن کی حوصلہ افزائی کی۔ اس سے قبل پروفیسر بشیر احمد نحوی، پروفیسر حمید نسیم رفیع آبادی اور ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی، کوارڈی نیٹر اقبال انسٹی ٹیوٹ نے موضوع کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کئے۔ تقریب میں ڈاکٹر محمد سلطان اصلاحی کی کتاب ’’شوقی اور اقبال‘‘، مرزا بشیر احمد شاکر کی کتاب ’’کتابیں ہم نشیں میری‘‘، مولوی اسداللہ کی کتاب ’’قلم سلیم‘‘ (شرح ضرب کلیم)، دیپک بدکی کی کتاب ’’اردو کے غیر مسلم افسانہ نگار‘‘ اور پروفیسر سجان کور کی کتاب ’’لہو کا رشتہ‘‘ کی پروفیسر ابن کنول کے ہاتھوں رسم رونمائی انجام دی گئی اور ان کتابوں پر تبصرہ بھی پیش کیا گیا۔ آخر پر ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔