’اُردو اور کشمیری زبان و ادب کی ترقی میں رسا جاودانی کارول‘ | شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی میں ایک روزہ قومی سیمینارکا اہتمام

عظمیٰ نیوز سروس

جموں //شعبہ اردو، جموںیونیورسٹی ، جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگوئجز اور رسا جاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی کے اشتراک سے پروفیسرگیان چندسیمی نارہال جموں یونیورسٹی میں’’اُردو اور کشمیری زبان و ادب کی ترقی میں رسا جاودانی کا کردار‘‘موضوع پرایک روزہ قومی سیمینار منعقد ہوا جس میں طلبہ، اسکالرس اور معزز شہریوں کے علاوہ اُردو اور کشمیری ادیبوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقعہ پرسیمینار کی صدارت نامور پنجابی اور اردو ادیب خالد حسین نے کی جبکہ ڈاکٹر شہناز قادری ، برج ناتھ بیتاب،شمیم چودھری ریسرچ اسکالرچندی گڑھ یونیورسٹی اورزبیدہ چودھری ریسرچ اسکالردہلی یونیورسٹی ریسورس پرسن تھے۔ ڈاکٹر شہناز قادری نے اردو زبان میں رسا جاودانی کی خدمات پر تفصیلی خیالات کااظاہرکیا ۔ انہوں نے رساجاودانی کو اردو کا ایک بلند پایہ شاعر قرار دیا جس نے زندگی کی حقیقتوں کو اپنی شاعری میں پیش کیا۔رساجاودانی نے اپنی شاعری کا آغاز اُردو میں لکھ کر کیا اور جلد ہی قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر مبنی شاندار اُردو شاعری لکھ کر برصغیر میں شہرت حاصل کی۔ رسا جاودانی 1901 میں بھدرواہ میں پیدا ہوئے، جسے منی کشمیربھی کہاجاتاہے۔انہوں نے اردو میںشاعری اس وقت شروع کی جب وہ ساتویں جماعت میں پڑھ رہے تھے۔ بعد ازاں ان کی اُردو شاعری کو حفیظ جالندھری، جگر مرادآبادی، پنڈت دتا تریاکیفی اور برصغیر کے دیگر بلند پایہ شاعروں نے پسند کیاہے۔ انہوں نے اردو میں ایک شاندار نظم لکھی ہے جس میں انہوں نے اُردو زبان کو ہندوستان کا فخر بتایا ہے۔ ڈاکٹر شہناز قادری نے مزید بتایا کہ رسا جاودانی سیکولر ذہن رکھنے والے انسان تھے جنہوں نے اردو شاعری میں ایک طرف معاشرے کے مسائل کو اجاگر کیا تو دوسری طرف چند رومانوی غزلیں بھی پیش کیں۔ رسا جاودانی کی کچھ غزلیں آج بھی عوام میں مشہور ہیں جسے اردو زبان کے اسکالرس نے مختلف ثقافتی پروگراموں میں پیش بھی کیاہے۔کشمیری ادب کے میدان میں رسا جاودانی کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے برج ناتھ بیتاب نے انہیں رسول میرؔ کے بعد دوسرا اہم ترین شاعر قرار دیا جن کی رومانوی شاعری جموں ڈویژن اور کشمیر کے ساتھ ساتھ کشمیری اسپیکنگ بیلٹ میں سب کو پسند ہے۔ رسا جاودانی کی شاعری جموں و کشمیر کے مشہور گلوکاروں جیسے غلام نبی ڈولوال، غلام محمد صوفی، راج بیگم، کیلاش مہرااور شمیمہ دیووغیرہ نے گائی ہیں۔ کشمیری کے دیگر سرکردہ گلوکار جن کی وجہ سے رسا جاودانی کشمیر میں گھر گھر نام بن گیا ہے۔ برج ناتھ بیتاب نے مزید بتایا کہ رسا جاودانی نے غزلوں کے فن کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلی مرتبہ کشمیری میں غزلیں لکھیں۔ انہوں نے بھدرواہ کی خوبصورتی پر بھی شاندار شاعری کی ہے۔برج ناتھ بیتاب نے کہاکہ محمد یوسف ٹینگ کے مطابق رسا جاودانی 20ویں صدی کے قدآور کشمیری شاعر ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری کے بلند پایہ ادیبوں مثلاً موتی لال ساقی، حامدی کشمیری، امین کامل، پروفیسر پشپ، پروفیسر کے این۔ پنڈتا اور دیگرادیبوں نے اپنے تحقیقی مقالوں میں بھی رسا جاودانی کی کشمیری اوراُردوشاعری کی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔اس کے علاوہ کلچرل اکیڈمی کے ماہانہ ریسرچ جرنل شیرازہ نے بھی رسا جاودانی کی زندگی اور شاعری پر خصوصی نمبر شائع کیا ہے۔ پروفیسر محمداسداللہ وانی نے بھی رسا جاودانی کے غیر مطبوعہ کلام پر ایک مقالہ پیش کیا۔ خالد حسین نے اپنے صدارتی خطاب میں رسا جاودانی کی زندگی اور اردو شاعری پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے انہیں اُردو کا ایک بہترین شاعر قرار دیتے ہوئے انہیں ایک سیکولر اور رحم دل انسان بتایا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے معاشرے کو محبت، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دیا ہے جس کی وجہ سے ان کی شاعری آج بھی عوام میں مقبول ہے۔ موجودہ دور میں اس کی بہت اہمیت ہے۔قبل ازیں پروفیسر شہاب عنایت ملک، صدرشعبہ اُردو نے حاضرین کو خوش آمدید کہا۔ اپنے استقبالیہ خطبہ میں انہوں نے بھی رسا جاودانی کی زندگی اور کاموں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ رسا جاویدانی نے کشمیری اور اردو زبان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے شاعری کے فن کو مدنظر رکھ کر شاعری کی ہے۔بعد ازاں رسا جاودانی میموریل لٹریری ایوارڈ بھرت سنگھ، سکریٹری اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگوئجز جموں و کشمیر کو جموں و کشمیر یوٹی میں آرٹ اور کلچر میں ان کی کارکردگی کے لیے پیش کیا گیا۔ بھرت سنگھ اپنی خرابی صحت کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہیں کر سکے ان کی طرف سے ڈاکٹر شاہ نواز ، کلچرل آفیسر نے ایوارڈ وصول کیا۔ اس موقعہ پر ایک محفل موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں دیپالی واتل اور روی ٹھاکر جیسے نامور گلوکاروں نے رسا جاودانی کی مشہور غزلیں گا کر سامعین کو محظوظ کیا۔ ثقافتی پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالرشید منہاس اسسٹنٹ پروفیسرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی نے انجام دیئے جبکہ جموں و کشمیرکلچرل آفیسر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویج ڈاکٹر شاہ نواز نے شکریہ کا کلمات اداکئے۔ اس موقعہ پرپروفیسرمحمدریاض احمد، ڈاکٹرچمن لال ،ڈاکٹرفرحت شمیم، خورشیدکاظمی، ڈلی ٹکو،انل ٹکو، ٹی آررینہ، مشہوداحمد،ڈاکٹرعبدالقیوم ، ڈاکٹرپرشوتم پال سنگھ، ڈاکٹرجاویداحمد،ڈاکٹراعجازاحمد ودیگران بھی موجودتھے۔