سات مراحل کے طویل تر دورانیہ میں منعقد کرائے گئے اُترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کافی تہلکہ آمیز رہے۔ جیت کس کے حق میں درج ہوئی ؟ سیکولر فورسز کی پسپائی کے محرکات کیا ہیں ؟ہارکا ذمہ دار کون ہے ؟اس وقت یہی سارے سوالات ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں۔ 403 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں 312 نشستوں کے ساتھ بی جے پی نہ صرف بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے بلکہ 325 نشستوں کے ساتھ بی جے پی اتحاد نے یوپی میں جیت کی نادر مثال تاریخ بھی رقم کی ہے اور فتح کے سابقہ تمام ریکارڈ کو بے معنی کردیا ہے ۔ اس تاریخ ساز کا میابی کے نتیجے میں15 سالوں کے طویل ’’بن باس‘‘ کے بعد اُتر پردیش میں بی جے پی اب حکومت بنانے جا رہی ہے،لیکن غور طلب یہ ہے کہ عالمی پیمانے کا ایکسپریس وے بنانے، ریاست کے دوردرازمقامات تک سماج وادی ایمبولنس دوڑانے، 100 نمبر ہیلپ لائن قائم کرنے جیسے منصوبوں کو عملی شکل دینے اور لاکھوں کی تعداد میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے ،تعلیم یافتہ بے روزگارنوجوانوں کی معاشی مدداور پینشن منصوبہ جیسے ترقیاتی کام پورے کر نے کے بعددھرم اور ذات پات کے برخلاف ترقی کی باتیں کرنے اور ریاست کی ترقی کے لئے ووٹ مانگنے والے والے اکھلیش یادو کو 47؍ سیٹوں تک ہی کیوں سمٹنا پڑا؟افسوس کی بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اُترپردیش کو دھرم کے پاکھنڈ سے بچانے کیلئے کانگریس کو اپنے ساتھ لیا، یہ سخت فیصلہ لیتے ہوئے اُنہیں ملائم سنگھ یادو ، شیوپال یادو اور محمد اعظم خان جیسے پارٹی کے بڑے لیڈران کی برہمی اور ناراضگی کو بھی برداشت کرنا پڑا۔خود اپنے گھر میں شدید افرا تفری اور بے چینی کا دردانہیںجھیلنا پڑا، مگر ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے بعد بھی ان کے نوجوان ساتھی راہل گاندھی یعنی کانگریس پارٹی کو بھی صرف سات سیٹوں پر اکتفاء کرنا پڑا۔ای وی ایم میں گڑ بڑی کا الزام عائد کرنے والی بی ایس پی سربراہ مایا وتی کا لمبا تڑنگا ہاتھی بھی ہانپنے لگا اوراسے صرف 19 سیٹوں تک محدود رہنا پڑا۔یہ نتائج پسپائی سے دوچار ہونے والی سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں اورمیڈیا مہارتھیوں کیلئے بھی حیران کن ہیں۔کل سے پہلے دو تین روزتک میڈیا مہارتھی بھی اپنے اپنے ایگزٹ پول میں بی جے پی کو کامیاب ہوتا دکھارہے تھے،مگراس طرح کی کامیابی کا قیاس کسی نے بھی نہیں لگا یا تھا،ایگزٹ پول پر بیشتر رائے دہندگان کواعتراضات تھے اوران کیلئے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ ایگزٹ پول صحیح قیاس لگا رہے ہیں۔ نتائج اس قدر طوفانی ہوں گے شاید کسی نے بھی اس کا تصور نہیں کیا تھا۔ ایسے میں اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پارٹی،کنبہ اور اپنے سینئر لیڈروں سے لوہا لینے کے بعد بھی یوپی کے مقبول و متحرک اور فعال وزیر اعلیٰیعنی اکھلیش یادو کو صوبے کے عوام نے کیوں مسترد کر دیا؟اگرچہ کل شیوپال یادو بھی اس پسپائی کیلئے کانگریس سے اتحادکو ذمہ قرار دے رہے تھے مگر خود عین انتخابات کے درمیان شیو پال یادو نے ملائم سنگھ یادو کو گمراہ کرکے پارٹی کے اندر اضطراب کی جو لہر پیدا کی تھی ،کیا اس پسپائی کیلئے شیوپال خیمہ ذمہ دار نہیں ہوسکتا؟جس نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفاد کو پارٹی کی کامیابی سے آگے رکھاہے۔ان کے خیمہ نے پارٹی کے اندر رہ کر آستین کے سانپ کا کردار نبھایا ہو،کیا یہ ممکن نہیں ہے؟
حالات انتہائی نازک تھے اور اسی درمیان شیوپال یادو نے اپنے منصب کا غلط استعمال کر کے کئی غنڈہ عناصر کو جنہیں اکھلیش یادومسترد کرچکے تھے،انہیں سرکاراور پارٹی میںواپس لینے پر مجبور کردیااور اس کے بعد انتخابات کی تشہیری مہم میں پارٹی کی کشتی کوپار لگانے کی بجائے اسے ڈبو دینے کا تانابانا ہموار کرنااور آپسی اختلافات کو ہوادے کر ضمیر فروش میڈیا کو عوام کے درمیان کنفیوژن پیدا کرنے کا موقع دینے کو کوئی بھی شخص پارٹی کے لئے مفیدکیسے کہہ سکتا ہے اور اس دوغلی حرکت کیلئے شیوپال یادو کو کیسے نہیں کوسا جائے گا؟آج تجزیہ نگاروں نے بھی ایس پی اتحادکی شکست اور بی جے پی کی اس عظیم الشان کامیابی کیلئے سما جوادی پارٹی کے اندراور ملائم سنگھ کے کنبہ میں جاری جوتم پیزار کو ہی اتحاد کے ہار کی اصل وجہ قراردے رہے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اکھلیش یادواسمبلی انتخابات ہار رہے ہیں، اس کا اشارہ بھی انتخابات کے آخری مرحلے سے ٹھیک ایک دن پہلے ان کے گھر سے ہی دیا گیا تھا۔ملائم سنگھ یادو کی اہلیہ سادھنا یادونے آخری مرحلے کی پولنگ سے ٹھیک ایک دن پہلے میڈیا کے سامنے یہ بیان دیا کہ نیتا جی یعنی ملائم سنگھ یادو اور ان کی کافی زیادہ توہین ہوئی ہے۔ سادھنا یادو نے شیو پال کے تئیں بھی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکھلیش کے ذہن میں کسی نے زہر بھرا ہوا ہے۔ انتخابات سے عین قبل سماج وادی پارٹی کے اندر شروع ہوئی گھمسان کی خبریںانتخابی حلقوں تک جا پہنچیںاور رائے دہندگان میں اس آپسی سر پھٹول نے کنفیوژن پیدا کردیا۔ با لخصوص اٹاوہ اورسیفئی جیسے ملائم سنگھ یادو کا گڑھ کہلانے والے حلقوں میں شیو پال یادو کے حامیوں نے کھلے طور پر پارٹی کے امیدواروں کو شکست دلانے کیلئے سخت محنتیں کیں اور ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ یہ سارا کھیل صرف اس لئے کھیلا گیا کہ امرسنگھ کی سماجوادی میں واپسی کے ساتھ ہی بی جے پی کیلئے ریاست کا ماحول ہموار کرنے کی مہم شروع ہوگئی تھی،مگر اس جانب کسی نے توجہ دینے کی زحمت نہیں کی ، خاص طور پر شیو پا ل یادو اور ملائم سنگھ نے امرسنگھ کی پارٹی میں موجودگی اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔یہ اگر چہ انجانے میں ہوا ہو،مگر شکست کی موجودہ صورت حال اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ یہ سارا معاملہ درپردہ منظم تھا اورمنصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نفرت کی سیاست کرنے والوں نے سماجودی پارٹی کے اندر ہی سیندھ ماری کی گئی تھی۔اب یہ ذمہ داری اکھلیش یادو کی ہے کہ جن لوگوں نے یوپی کے سیکولرزم اور پارٹی کو نیست و نا بود کردینے کے بھاجپائی منصوبے میں آلہ کار کے طور پر کام کیاہے،ان کی شناخت کرکے ان کیے خلاف سخت تادیبی کاروارئی کریں۔علاوہ ازیں ملائم سنگھ یادو بھی سماج وادی پارٹی کے ہار کی بڑی وجہ نظر آ تے ہیں، ان کی کارکردگی سیکولرزم کی بالادستی کے معاملہ میں ہمیشہ مشتبہ رہی ہے۔چاہے وہ پارلیمنٹ میں انسداد فرقہ ورانہ فسادات بل رکوانے کا معا ملہ ہو یا بہار عظیم اتحادکی راہوں روڑے ڈالنے کی مذموم حرکت یہ سارے کارنامے ازخود نیتا جی وابستہ ہیں۔ پارٹی صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ملائم سنگھ یادو نے بار بار اپنے بیانات بدلے، کبھی اکھلیش یادوکی حمایت میں تو کبھی ان کی مخالفت میں لگاتاربیان دیتے رہے، اسی کے ساتھ انہوں نے انتخابی مہم سے اپنے کو لگ بھگ دور ہی رکھا۔ انہوں نے صرف شیو پال یادو اور چھوٹی بہو ارپنا یادو کی حمایت میں ہی انتخابی تشہیر کی مہم چلائی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اجمالی طورپر پارٹی سے خود کویکسر علیحدہ رکھا،جب کہ زمینی سطح پر نہ صرف پارٹی کو کھڑا کرنے میں بلکہ سماجی تنظیم کاری ، اور یادو مسلم ماحول بنانے میں بھی ملائم سنگھ نے اپنی زندگی لگا دی تھی ،لیکن عین وقت پر ان کا انتخابی مہم سے منہ موڑلینا پارٹی ورکروں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنا۔نیتا جی کی کردگی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ چاہتے ہی نہیں تھے کہ اکھلیش کی جیت ہواور وہ دوبارہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوں۔ان ساری تشاویش سے جو نتیجہ نکل رہا ہے اس سے تو کم ازکم یہی لگتا ہے کہ نیتا نے جی ہی بی جے کی بساط میں اصل مہرے کا کام کیا ہے۔
رابطہ 09891759909