اَنگارے کہانی

filter: 0; fileterIntensity: 0.0; filterMask: 0; module:31facing:0; hw-remosaic: 0; touch: (-1.0, -1.0); modeInfo: Beauty Bokeh ; sceneMode: Night; cct_value: 5882; AI_Scene: (-1, -1); aec_lux: 71.078064; hist255: 0.0; hist252~255: 0.0; hist0~15: 0.0;

سبزار احمد بٹ

بیٹا آج کافی خوش لگ رہے ہو ۔
آپ کی مائک اور کیمرے نے شاید آج پھر کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔
ہاں بابا ۔ آج میری مائک اور کیمرے نے ملک کے چند بڑے منشیات فروشوں کو بے نقاب کیا ہے ۔ بابا ان میں سے کچھ لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے جو شرافت کا نقاب اوڑھے ہوئے تھے ۔ کروڑوں روپے کمائے ہیں ان لوگوں نے ۔ اپنے بچوں کو باہر کے ملکوں میں پڑھائی کے لیے بھیجا ہے اور یہاں کے نوجوانوں کو زہر کا عادی بناتے تھے
لیکن بیٹا یہ لوگ اثررسوخ والے لوگ ہوتے ہیں ۔ یہ آپ کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ۔ بابا میں حق کی لڑائی لڑ رہا ہوں ۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا ۔ فی الحال پولیس نے ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے ۔ یہ کہہ کر شجاع نے مائک اور کیمرہ اٹھایا اور پھر کام پر نکل گیا ۔
شجاع کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا ۔ باپ پیشے سے ایک مزدور تھا ۔ لیکن باحوصلہ اور ایماندار انسان تھا ۔ جس نے شجاع کی اچھی تربیت کی تھی ۔ اسے ایمانداری کا درس دیا تھا اور سر اٹھا کر چلنے کی ترغیب دی تھی ۔شجاع نے گریجویشن کی اور اب آگے کی پڑھائی کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ ایک دن شام کو بیٹھا تھا، باپ کو پریشان دیکھا اور پوچھا
بابا آپ کیوں پریشان ہیں؟ کیا سوچ رہے ہیں آپ؟
کچھ نہیں ۔ بیٹا سوچ رہا ہوں کہ لوگوں نے اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور نہ جانے کیا کیا بنایا۔ لیکن میری غربت تمہارے پاؤں کی زنجیر بن گئ ۔
نہیں بابا نہیں ۔ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ آپ کے بس میں جو تھا آپ نے کیا. اپنا پیٹ کاٹ کر مجھے پڑھا رہے ہیں آپ ۔ اور تو اور مجھے ڈاکٹر انجینئر نہیں بلکہ ایک ایماندار صحافی بن کر سماج کی خدمت کرنی ہے ۔
بیٹا آجکل صحافت کا حال دیکھ رہے ہو نا… ہر چوتھا شخص صحافی بنا ہوا ہے ۔ٹی آر پی، لائکس اور ویوز کے لیے کیا کیا کرتے ہیں اللہ ہی حافظ ہے ۔ یہ تو صحافت کے ص سے بھی ناواقف ہیں…
ہاں بابا.. یہ تو سچ ہے اسی لئے میں صحافت میں آنا چاہتا ہوں تاکہ صحافت کا نقشہ بدل دوں،دنیا کو صحافت کے اصل معنی سمجھاؤں اور حق کی پاسداری کروں ۔
بیٹا سچ کا ساتھ دینا انگاروں پر چلنا ہے، چل سکو گے ۔
آپ کا ساتھ رہا تو میں کسی بھی مصیبت کا مقابلہ کر سکوں گا۔
پھر کیا تھا شجاع کو صحافی بننے کا جنون طاری ہوگیا ۔ ماس کمنیکیشن پاس کرنے کے بعد، صحافت کے اصولوں کی اچھی خاصی آگہی حاصل کر لی ۔
ماں نے ایک ایک پائی جمع کر کے پانچ ہزار روپے سنبھال کر رکھے تھے ۔ جو اس نے شجاع کو مائک اور کیمرہ خریدنے کے لیے دئیے اور ساتھ میں یہ دعا بھی کی کہ جا اللہ تمہیں حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے اور حق پر ثابت قدم رکھے ۔
شجاع بڑی ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیتا رہا ۔ دس سال تک کام کرنے کے بعد شجاع نے اپنے لئے بڑی مشکل سے ایک موٹر سائیکل خریدی اور اپنے ماں باپ کا پیٹ پالنا ممکن ہوا ۔ لیکن کبھی بھی اللہ سے کوئی شکوہ نہیں کیا بلکہ اپنے کام سے سو فیصد مطمئن تھا ۔
جبکہ اسی علاقے کا ایک صحافی نوید بھی تھا جس نے پانچ سال میں سٹی میں اپنے لئے نہ صرف ایک شاندار مکان خریدا بلکہ اپنے لئے دو دو گاڑیاں بھی رکھیں اور کافی بینک بیلنس بھی بنائی ۔ نہ کہیں سے صحافت کے لئے درکار تعلیم حاصل کی تھی اور نہ ہی صحافت کے اصولوں سے کوئی واقفیت تھی ۔ بس مائک اور کیمرہ ہاتھ میں تھا ۔ جب چاہئے لوگوں کے منہ میں مائک ٹھونس دیتا تھا ۔ اس چیز کی پرواہ کئے بغیر کہ کس چیز کو کیمرہ پر لانا ہے اور کس چیز کو نہیں ۔اُسے نہ کسی کی عزت کا خیال تھا اور نہ ہی زبان درست تھی جبکہ شجاع کی ہر سٹوری جاندار اور شاندار ہوتی تھی ۔
پچھلے سال ہی شجاع نے ایک جسم فروشی کے اڈے کا پردہ فاش کیا تھا ۔ جس میں چند بڑے لوگوں کے نام سامنے آئے ۔ اس سکینڈل کے طشت از بام ہونے سے پندرہ معصوم لڑکیوں کی زندگی اور عزت بچ گئی جس میں شجاع کے گاؤں کی بھی دو معصوم لڑکیاں تھیں جنہیں ورغلا کر اس گندے کام پر لگایا گیا تھا ۔ اور یہ سب اس طرح ہوا کہ ایک بھی لڑکی کا چہرہ یا نام سوشل میڈیا پر نہیں آیا ۔نوید جیسا کوئی اور صحافی ہوتا تو وہ ان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والوں کا بھی انٹرویو لیتا ۔ یا ان حیوانوں سے ایک بڑی کھیپ لے کر معاملہ دبا لیتا جو یہ سکینڈل چلاتے تھے ۔
سکینڈل کے تشت از بام ہوتے ہیں شجاع اور اس کے والدین کو دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں ۔ بات یہاں تک پہنچی کہ شجاع کو اپنے والدین سمیت کچھ دن چھپ کے رہنا پڑا ۔ جب شجاع کو ڈرانے کے سارے حربے ناکام ہوئے تو تو اسے دس لاکھ کا آفر دیا گیا اس معاملے کو دبانے کے لیے ۔ غریب ہونے کے باوجود شجاع کے قدم نہیں ڈگمگائے اور وہ پیسوں کے لالچ میں نہیں آیا اور یہ پہلا موقع نہیں تھا جب شجاع کو اس طرح کے آفر ملے تھے ۔ بلکہ اس سے پہلے درجنوں بار ایسا ہوا کہ شجاع کو خریدنے کی کوشش کی گئی ۔لیکن سجاع ہمیشہ اصولوں کا پاسدار رہا کبھی بھی اپنے کام کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا ۔ ہمیشہ معیاری سٹوری کی تلاش میں رہتا تھا۔ کبھی بھی کوئی فضول ویڈیو یا سٹوری نہیں چلاتا تھا ۔ شجاع کو کبھی بھی یہ فکر نہیں رہتی تھی کہ اسے کتنے لوگ پسند کرتے تھے، اسے بس معیاری کنٹنٹ کی فکر رہتی تھی اور کبھی بھی کنٹینٹ کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا ۔
آج شجاع کافی خوش تھا کہ اس نے منشیات کا سکینڈل بے نقاب کیا ۔ کیونکہ اب ہر تیسرا نوجوان نشے کا عادی بن چکا تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انسانوں کی بستی نہیں بلکہ جانوروں کا جنگل ہے ۔ جہاں نشے کی حالت میں ہر روز نوجوان گندی نالیوں میں پڑے ملتے تھے ۔ شام کے وقت لڑکیاں گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں ۔ کوئی نشہ کرنے والا اگر پکڑا بھی جاتا تھا تو اپنے آقاؤں کی مہربانی سے فوراً ہی چھوٹ جاتا تھا ۔ نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتں دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ بیٹا باپ کو مارتا تھا تو کبھی ماں کو ۔ لیکن کسی کو بھی اس مسئلے پر نہ بولنے کی ہمت ہو رہی تھی اور نہ ہی کوئی اس مسئلے پر بولنا ضروری سمجھتا تھا سوائے شجاع کے۔
شجاع پچھلے تین سال سے لگا تار اس وباہ کو قابو کرنے اور اس میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے کے لیے شواہد اور ثبوت اکھٹے کرنے میں لگا تھا ۔ آج شجاع نے ایسی سٹوری کی کہ پولیس فوراً حرکت میں آگئی اور سب لوگوں کے خلاف کاروائی ہوئی۔
شجاع خوشی خوشی آج پھر گلے میں کیمرہ لٹکا کر کام پر نکل گیا ۔
شام کو واپس لوٹا تو اپنے گھر کے صحن میں سارے لوگوں کو جمع دیکھ کر حیرانی ہوئی ۔ شجاع کا گھر اب گھر نہیں راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا ۔ دھواں اٹھ رہا تھا ۔ گھر کے بستر جل چکے تھے ۔ادھ جلے قلم، کتابیں اور کاغذ بکھرے پڑے تھے ۔ ماں کا عصا اور باپ کا چشمہ بھی اسی راکھ کے ڈھیر کا حصہ بن چکے تھے ۔اور یہ سب چیزیں جیسے شجاع سے کہہ رہیں ہوں کہ دیکھو سچائی کا ساتھ دینے کا نتیجہ ۔گھر کی یہ حالت دیکھ کر شجاع کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ں۔ ہر طرف سے پاگلوں کی طرح اپنے ماں باپ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ دور ایک کونے میں باپ اپنی بربادی کا تماشہ دیکھ رہا تھا ۔ دیکھ رہا تھا کہ اس کی عمر بھر کی کمائی کیسے دھواں بن رہی تھی ۔ آنکھیں جیسے پتھرا گئیں تھیں ۔شجاع ماں کو ڈھونڈنے لگا ۔ اتنے میں حاجی عبدالکریم نے شائع کو گلے سے لگایا ۔
بیٹا تمہاری ماں شدید زخمی ہوئی ہے اس کے ہاتھ پیر جل گئے ۔ اسے ہسپتال پہنچایا گیا ہے ۔ بیٹا آپ نے ہم سب پر بہت سارے احسانات کئے ہیں ہماری بیٹیوں کی عزت بچائی اور ہمارے نوجوانوں کو منشیات کے دلدل سے نکالا ۔
ہاں انکل لیکن اس کا بدلہ یہ………………..
جلتے ہوئے مکان کے انگاروں پر پھر سے نظر پڑتے ہی شجاع کو اپنے والد صاحب کی بات یاد آگئی کہ
بیٹا حق کا ساتھ دینا انگاروں پر چلنا ہوتا ہے چل سکو گئے ۔
یہ جملہ یاد آتے ہی شجاع نے اپنے آپ کو سنبھالا ۔ اور پھر سے کیمرہ اور مائیک لئے انگاروں کے اس راستے پر چل پڑا۔
اویل نورآباد، کولگام
موبائل نمبر؛70067384436