اَراضی قوانین میں ترامیم کے خلاف سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل | ’ڈوگروںکے ساتھ دھوکہ ناقابل قبول‘ | اپنی پارٹی وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے مداخلت طلب کرے گی

سرینگر//اپنی پارٹی نے مرکزی حکومت کی طرف سے جموں کشمیرمیںاراضی قوانین میں ترامیم کو بلاجوازاورغیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے مداخلت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جموں میں پارٹی کے رہنمائوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان قوانین کو واپس نہیں لیاگیا تووہ سڑکوں پرآکراحتجاج کریں گے۔اپنی پارٹی کے سرینگرمیں منعقدہ ایک اجلاس میں جموں کشمیر اراضی قوانین میں ترامیم کو بلا جوازاورغیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں وزیراعظم اوروزیرداخلہ سے ملاقات کرکے ان کی مداخلت طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ایک بیان کے مطابق پارٹی صدر الطاف بخاری کی عدم موجودگی میں میٹنگ کی صدارت جنرل سیکریٹری رفیع احمد میر نے کی۔ میٹنگ میں کہاگیاکہ جموں وکشمیر اراضی قوانین میں جوترامیم کی گئیں وہ بلاجواز ،غیر منصفانہ ہیں اور جموں وکشمیر کی عوام کو ہرگز قبول نہیں۔پارٹی لیڈران نے جموں وکشمیر ریونیو ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے زرعی اراضی کی خریداری پر پابندی عائد کرنے کو بھی ’ مبہم اور ناقابل قبول ‘قرار دیا اور یہ عزم کیا کہ فیصلے پر نظرثانی کے لئے حکومت ِ ہند کو قائل کرنے کی ہرممکن کوششیں کی جائیں گی۔ دوران اجلاس کہاگیاکہ آئین ِ ہند کے تحت جموں وکشمیر کے مستقل باشندوں کو ضمانت شدہ اراضی اور نوکریوں کے حقوق پانچ اگست2019کو یکطرفہ فیصلے سے چھن لئے گئے، تاہم انہوں نے کہاکہ حکومت ِ ہند کی طرف سے نوٹیفائی نئے اراضی قوانین بدقسمت آمیز ہیں اور وزیر اعظم ، وزیر داخلہ کی طرف سے ایوان پارلیمنٹ میں جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کے متضاد ہیں۔ اجلاس میںمتفقہ طور فیصلہ لیاگیاکہ سنیئر لیڈران پر مشتمل پارٹی وفد وقت لیکر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے نئی دہلی میں ملاقات کرے گا اور  اِس معاملہ میں اُن کی مداخلت طلب کی جائے گی۔ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی اور جموں وکشمیر کے شہریوں کے زمین اور نوکریوں سے متعلق حقوق کے تحفظ کے لئے جامع اقامتی قوانین کی غرض سے حکومت ِ ہند کو آمادہ کرنے کے لئے اپنی پارٹی نے پر امن طریقہ سے جدوجہد کا عزم دہرایا۔ادھرجموں میں اپنی پارٹی کے ایک اجلاس میں مرکزی حکومت کی طرف سے جموں کشمیرمیں اراضی قوانین میں کی گئی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ قوانین جموں کشمیرکے عوام خاص طور سے ڈوگروں کے ساتھ دھوکہ ہے ۔صوبائی صدروسابق وزیر منجیت سنگھ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں شرکاء نے کہاکہ جموں وکشمیر کی ثقافتی وتمدنی پہچان کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جموں کے لوگوں کو نئے اراضی قوانین ہرگزقبول نہیں اور اِس کی پرزور مخالفت کرتے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو اپنی پارٹی ڈوگرہ زمین کے لوگوں کی مدد سے سڑکوں پر اِس یکطرفہ فیصلے کیخلاف احتجاج کرے گی۔ جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے کہاکہ مرکزی سرکار نے زمین اور نوکریوں کے تحفظ کایقین دلایاتھالیکن اچانک قوانین میں تبدیلی لانے سے جموں وکشمیر بالخصوص صوبہ جموںکے لوگوں میں بد اعتمادی پیدا ہوگئی ہے جنہوں نے خطہ سے تین رکن پارلیمان کو منتخب کر کے بھیجا تھا۔ ملہوترہ نے کہاکہ جموں خطہ اور ڈوگرہ کلچر کے مفادات کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے اور حکومت کو چاہئے کہ فوری طور اراضی قوانین کے فیصلہ کوواپس لیاجائے۔اجلاس میں کہا گیا کہ جموں میں غریب لوگوں کے پاس بھی اپنی کاشت کی اراضی ہے، اِن نئے قوانین سے یہ خدشات ہیں کہ وہ زمین سے محروم ہوجائیں گے ۔زمین کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے جموں کے میدانی علاقہ جات کے لوگوں کی مشکلیں بڑھ جائیں گی جوکہ جائیداد خریدنے کے اہل نہیں ہوسکیں گے۔ صوبائی صدر منجیت سنگھ نے کہاکہ مغربی پاکستانی رفیوجی، چھمب کے اُجڑے لوگ، ایس سی اور ایس ٹی طبقہ کے لوگ خطہ جموں میں نئے اراضی قوانین سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے، جنہیں زمینی الاٹ کی گئی ہے اور اُن کے زمینوں پر حقوق ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ڈوگرہ شناخت اور خطہ کے دیگر طبقہ جات کی پہچان کو محفوظ رکھاجانا چاہئے اور اپنی پارٹی اس کاز کے لئے لڑے گی۔ انہوں نے کہا’’ہم جموں وکشمیر کو متحد رکھنے، ریاستی درجہ کی بحالی اور زمین ونوکریوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کوئی  دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔
 
 
 

بھاجپا کاجموں کشمیرکے لوگوں کو نیاتحفہ | لوگوں کے حقوق پر شب خون :کانگریس صدر

گریز//نئے اراضی قوانین کو جموں کشمیرکے لوگوں کے لئے بھاجپا کا نیا تحفہ قراردیتے ہوئے ،جموں کشمیرکانگریس کے صدر غلام احمد میرنے کہا کہ کانگریس نئے اراضی قوانین کو مسترد کرتی ہے اور وہ لوگوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے لڑے گی۔ دھوکہ دہی کوبھاجپا کی سیاست کا طرہ امتیازقراردیتے ہوئے میرنے کہا کہ یہ جماعت جموں کشمیراور لداخ کے لوگوں سے سب کچھ چھین کرلینے کے درپے ہے اور اسی لئے وقت وقت پر قوانین میں ترامیم کی جارہی ہیں اور نئے قانون بنائے جارہے ہیں ۔جموں کشمیرکانگریس صدر گریز میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے نئے اراضی قوانین پر شدیدتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کوجموں کشمیرکے لوگوں کی خواہشات اورامنگوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ لوگوں کی خواہشات کے برعکس عوام مخالف اور سیاسی فیصلے لیتی ہیں ۔جموں کشمیر پردیش کانگریس صدر کے ہمراہ نائب صدراور سابق ممبراسمبلی حاجی عبدالرشید،ضلع صدرامتیازاحمدپرے،محمداسماعیل لون ،اور دیگر رہنما تھے۔غلام احمد میرنے نئے اراضی قوانین کو لوگوں کے حقوق پرشب خون قرار دیتے ہوئے کہا کانگریس عوام دشمن قوانین کو قبول نہیں کرے گی اوربھاجپا کی استحصالی اوردھوکہ دہی کے خلاف لڑے گی۔انہوں نے کہا کہ نئے قوانین سے جموں کشمیرمیں بیچینی میں اضافہ ہوگاجسے دفعہ370کی تنسیخ کے بعد مرکزی زیرانتظام علاقہ میں تبدیل کیاگیا  ۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے لوگوں کو اب پتہ چلا ہے کہ بھاجپا اپنے ایجنڈاکوغیرجمہوری،غیرآئینی طورعملانے پر بضدہے اوربیانیہ کو تبدیل کرنے کیلئے آئے روزنت نئے قوانین بنائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک اور دھوکہ ہے جموں کشمیرکے لوگوں کے ساتھ ،پہلے اقامتی قانون کے ذریعے غیر مقامی لوگوں کیلئے یہاں نوکریوں کے دروازے کھولے گئے اور اب جموں کشمیرکی شناخت اور منفرد کلچر کی بنیاد پرغیرمقامیوں کو یہاں زمین خریدنے کی اجازت دی گئی۔میرنے کہا کہ لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور وہ ان کے حقوق پرحملوں کے خلاف لڑیںگے۔
 
 
 

جموں و کشمیر کے عوام کے مفادات کے خلاف | کیا ہندوستان کی جمہوریت لکھن پور تک ہی محدود ہے؟ | نیشنل کانفرنس اراکین پارلیمان کا سوال

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی نے حکومت ہند کی طرف سے جموں وکشمیر اراضی قوانین میں ترمیم اور ملک کے کسی بھی شہری کو یہاں زمین خریدنے کا اہل بنانے کے اقدام کو جموں و کشمیر کے عوام کے مفادات کیخلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز کے ان اقدامات سے لوگ پشت بہ دیوار ہوجائیں گے اور اس سے نئی دلی اور جموں و کشمیر میں مزید دوریاں پیدا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور ایک جمہوری ملک میں اس قسم کے ڈکٹیٹرانہ اقدامات کئے جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا  کہ کیا ہندوستان کی جمہوریت لکھن پور تک ہی محدود ہے؟ کیونکہ جب جموں وکشمیر کی بات آتی ہے تو جمہوریت اور آئین کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں۔ یہاں ایک فوجی افسر کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جموںوکشمیر میں کسی بھی قطعہ اراضی کو دفاعی علاقہ قرار دے سکتا ہے۔اگر ملک کی کسی بھی ریاست میں ایسا قانون موجود نہیں تو پھر جموںوکشمیر میں ایسا کیوں لایا جارہا ہے؟ اراکین پارلیمان نے کہا کہ ہندوستان کی بہت سی ریاستوں کو خصوصی درجہ حاصل ہے اور دیگر ریاستوں کے لوگ وہاں زمینیں نہیں خرید سکتے ہیں اور نہ ہی نوکریاں حاصل کرسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے جموں وکشمیر کو ایسے مراعات سے جبری طور پر محروم کیا گیا۔ اگر باقی ریاستوں کے خصوصی اختیارات مرکز کو منظور ہیں تو پھرجموں وکشمیر کے خصوصی اختیارات ہی برداشت نہیں ہورہے ہیں؟ کیا ایسا اس لئے ہے کہ جموں وکشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے؟اراکین پارلیمان نے کہا کہ مرکز کے 5اگست 2019اور اس کے بعد کے یکطرفہ فیصلوں نے جموں وکشمیر کے عوام اور ملک کے درمیان اتنی دوریاں پیدا کردیں ہیں جن کو پاٹنا ناممکن بن گیا ہے۔ ملک کے بڑے بڑے لیڈران بشمول بھاجپا کے رہنمائوں نے جموں وکشمیر کے عوام کو گلے لگانے ، جمہوریت ، انسانیت اور کشمیریت اور آزادی سے کم کچھ بھی دینے کے وعدے کئے اس کے برعکس 5اگست 2019کے بعد یہاں جمہوریت اور آئین کا قلع قمع کرکے یہاں کے عوام کا اعتماد اور بھروسہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک کے عوام کو جموں وکشمیر کے بارے میں جھوٹ اور فریب کے ذریعے گمراہ کیا جارہا ہے اور غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات کو جواز بخشا جارہا ہے۔ دونوں اراکین پارلیمان نے کہا کہ مرکزی حکومت کو خبردار کیا کہ جموںوکشمیر خصوصی پوزیشن کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور 5اگست2019اور اس کے بعد کے تمام یکطرفہ اقدامات کو یکسر منسوخ کیا جائے۔
 
 
 

بھاجپااراضی خریدنے کی اجازت دینے کے اہل نہیں:عوامی نیشنل کانفرنس

سرینگر//بھاجپاجموں کشمیرمیں کسی بھی شہری کو زمین خریدنے کی اجازت دینے کے احکامات جاری کرنے کی اہل نہیں ہے ۔دفعہ370کی تنسیخ اورجموں کشمیرکو دومرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کئے جانے کا معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ہے اور5 اگست 2019 کے بعد لئے گئے تمام فیصلے غیرآئینی اورغیرقانونی ہیں۔ ان باتوں کااظہار عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے پارٹی کی کور کمیٹی کی ہنگامی میٹنگ کے بعد جاری ایک بیان میں کیا۔عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر نے مزیدکہا کہ یہ توہین آمیزکارروائی ہے اور اس کا سیاسی اور قانونی سطح پر مقابلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرکے تینوں خطوں کے لوگوں نے بیک زبان ان فیصلوں کورد کیا ہے اور وہ مرکزی حکومت کے غیرجمہوری رویہ کی مذمت کرتے ہیں اوراسے کشمیرسے متعلق پالیسی کی ایک اور غلطی سے تعبیر کررہے ہیں۔بیگم خالدہ شاہ نے کہا عوامی نیشنل کانفرنس گپکار اعلامیہ پرڈٹی ہے ۔اس دوران پارٹی کے نائب صدر مظفر شاہ نے کور کمیٹی کوتازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیااور  عوامی اتحاد کے گپکار الامیہ کی پیش رفت سے باخبر کیا جووہ جموں کشمیرکے تینوں خطوں کے لوگوں تک پہنچنے کیلئے کررہا ہے ۔عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئرنائب صدر نے سماج کے تمام طبقوں پرزوردیاکہ وہ عوامی اتحادبرائے گپکار اعلامیہ کو مضبوط بنائیں اورایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوکر ناانصافی کے خلاف جدوجہدکریں ۔  
 
 
 

مرکز کی سوچ ٹیڑھی | ہمارااحتجاج عالمی سطح پرسناجائے گا:پروفیسرسوز

سرینگر// سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہ مرکزی سرکار کی ریاست جموںوکشمیر میں آبادی کا تناسب بگاڑنے کی فرقہ ورانہ سوچ کے خلاف اگر قومی سطح پر حزب اختلاف ایک ساتھ ہوکر سازشی سوچ کے خلاف کمربستہ نہیں ہوجاتی تو کشمیر کے لوگ اپنی زور دار آواز اٹھائیںگے جس سے دُنیا کی رائے عامہ بیدار ہو جائے گی اور کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر نئے انداز سے اُجاگر ہو جائے گا ، جس کی ساری ذمہ داری مرکزی سرکار پر عائدہوگی۔سی این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کی سوچ اس قدر ٹیڑھی ہے کہ اُس کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی دستاویز الحاق کے ذریعے اس ریاست نے محدود الحاق کیا تھا مگر یہ ریاست دوسری ریاستوں کی طرح یونین میں مدغم نہیں ہوئی تھی۔اب جو مرکزی سرکار نے جموںوکشمیر میں رہائش کے قانون کو ترمیم کے ساتھ لاگو کیا ہے ، تو اُس کے تحت باہر کے لوگ یہاں بآسانی رہائش پذیر ہو سکتے ہیں جس کو جموںوکشمیر خصوصاً کشمیر کے لوگ کسی صورت میں تسلیم نہیں کریںگے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کو یہ بات بخوبی سمجھنی چاہئے کہ کشمیر کے لوگوں کا احتجاج عالمی سطح پر سُنا جائے گا اور اس کا رد عمل ہندوستان کے مجموعی مفاد کے خلاف ہوگا۔ اس موقع پر قومی سطح کے حزب اختلاف کو کشمیر کے مین اسٹریم الائنس کے ساتھ رابطہ قائم کر کے حالات کو سمجھنا چاہئے تاکہ وہ مرکزی حکومت کو سمجھا ئے کہ اس طرح کے اقدامات کرنے سے جموں و کشمیر میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔دریں اثناء، کٹھوعہ بار ایسوسی ایشن نے بھی مرکزی سرکار کی پالیسی کی زبردست نکتہ چینی کی ہے۔
 
 
 

 جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ دھوکہ :سول سوسائیٹی فورم

سرینگر // سول سوسائٹی فورم نے  جموں و کشمیر اراضی قوانین میں کی گئی ترامیم کے حکومتی فیصلے پر زبردست برہمی کااظہار کیا ہے۔جے کے سی ایس ایف کے چیئرمین اور سابق ٹریڈ یونین رہنما عبدالقیوم وانی نے ایک بیان میں اس عزم کا اظہار کیا  ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے زمین اورملازمتوں پر جامع ڈومیسائل حقوق ہیں اور یہ سراسر ایک دھوکہ ہوگا کہ گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ مرکز نے اس قانون کو مستقل طور پر ترک کردیا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعہ 17 کی روسے  ، دفعہ 370 اور 35 اے   کے خاتمے کے ایک سال بعد جموں و کشمیر سے باہر کے لوگوں کو جموں و کشمیر اور لداخ میں زمین خریدنے کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر اور لداخ کے لئے حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے نئے اراضی قوانین پر تنقید کی اور کہا کہ نیا متعارف کرایا گیاجموں کشمیر ترقیاتی قانون، ’’جموں ، کشمیر اور لداخ کے عوام کے مفادات کا مخالف ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ نئے قوانین جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کی خواہشات نہیں ہیں ، بلکہ منصوبہ سازجموں و کشمیر کی زمین میں  دلچسپی رکھتے  ہیں۔وانی نے کہا کہ یہ جموں ، کشمیر اور لداخ کے عوام کے حقوق پر ایک بہت بڑا غیرآئینی حملہ ہے۔جے کے سی ایس ایف ، جموں وکشمیر کے لوگوں کے قانونی ، آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے تمام محاذوں پر کام کرے گا اور قدرتی وسائل ، گلیشیرز، چراگاہوں ، زمین اور زندگی کے ہر مفید چیز اور بالخصوص جموں و کشمیر کے لوگوں کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرے گا۔
 
 
 

مرکزکافیصلہ عوام کو ناقابل قبول :ساگر

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ پارٹی ریاست کی انفرادیت ،وحدت اور شناخت پر کسی بھی طاقت کو حاودی نہیں ہونے دے گی۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر اور لداخ کے لوگ پورے عزم اور متحد ہوکر ان تمام جمہوری اور آئینی حقوق کو حاصل کرنے کیلئے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے پے درپے کالے قوانین کو خصوصاً جموں کشمیر کی اراضی کو غیر ریاستی باشندوں کو خریدنے کی اجازت دینے کا فیصلہ عوام کو نا قابل قبول ہے۔علی محمد ساگر نے کہا کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہے ا ور یہ بھارت کی جمہوریت،آزادی اور سالمیت کی بقاء کیلئے لازمی ہے۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ جموں کشمیر کو آئین ہند کے تحت یہ اختیارات حاصل ہیں کہ یہاں کی زمین اور نوکریاں کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ حاصل نہیں کرسکتا۔انہوں نے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ جموں کشمیر کے حالات کو پٹری پر لانے کی کوشش کریں اور لوگوں کو جمہوری حقوق فراہم کئے جائیں۔
 
 
 

ہماری شناخت ختم کرنے کیلئے مرکز جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا :حریت (ع)

سرینگر//مرکزی حکومت جموں کشمیرمیں آبادی کے تناسب کوتبدیل کرنے کیلئے مسلسل اپنی جارحانہ پالیسیوں کوآگے بڑھارہی ہے تاکہ ہماری زمین کو ہم سے چھین کرہماری شناخت کو ختم کیاجاسکے اور ہمیں اپنی ہی سرزمین پراقلیت میں تبدیل کیاجائے۔ان باتوں کااظہارحریت کانفرنس (ع) نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔بیان میں حریت کانفرنس نے اس موقف کاعادہ کیا ہے کہ جموں کشمیرکامسئلہ جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ عدم تحفظ اور سیاسی غیریقینی کی فضامیں زندگی گزاررہے ہیں ،کوپرامن ذرائع سے حکومت ہند حل کرانے کے اقدام کرتی ،لیکن اس کے برعکس اس طرح کے اقدامات سے حکومت امن کی تمام ترامکانی کوششوں کوناکام بنانے پرتلی ہوئی ہے۔بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ نئی دہلی جموں کشمیرکے عوام پر یکے بعددیگرے ایسے قوانین نافذکررہی ہیں جن کے ذریعے بیرون کشمیرکاکوئی بھی شہری یہاں زمین جائیداد خریدنے کا مجازہوگااوراس قانون میں ترمیم کی وجہ سے جموں کشمیرمیں سول سروسزاوسرکاری ملازمتوں اورتعلیم کے شعبے میں بیرون کشمیرکے افراد کے براہ راست شامل ہونے کی وجہ سے ہمارے قدرتی وسائل کابڑے پیمانے پراستحصال ہوگا۔بیان میں اس امرپر شدیدتشویش کااظہار کیاگیا کہ اس طرح کے قوانین کانفاذجموں کشمیرکے پشتینی باشندوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہیں  اور اس کا مقصد یہاں کے عوام کو اپنی زمین جائیداد سے بے دخل کرکے ہندوستان کے کسی بھی فرد کو جموں کشمیرکی حدودمیں زمین جائیداد خریدنے کاحق حاصل ہوگااوروہ یہاں مستقل طور رہائش اختیارکرسکے گا۔بیان میں اس بات پر بھی تشویش کااظہار کیا گیا کہ حکومت کوکسی بھی علاقے کو فوج کے کہنے پر ’دفاعی علاقہ‘قرار دینے کا حق حاصل ہوگا۔حریت نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں کشمیرکے عوام گونگے بہرے جانوروں کی طرح اس طرح کے قوانین کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گے ۔