اوڑی کے بجلی پروجیکٹ اورپیداواری صلاحیت ! لیکن چراغ تلے اندھیراکیوں؟

لیاقت عباس،اوڑی

اوڑی ضلع بارہمولہ کی ایک مشہور تحصیل ہے۔ جو ضلع صدر مقام سے 45کلومیٹر ، اور تحصیل بونیار ضلع صدر مقام سے 23کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اوڑی قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ گھنے جنگل، اونچے اونچے پہاڑ، سر سبز میدانی علاقے یہاں کی خوبصورتی کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہاں صدیوں سے سے ہر مذہب و ملت کے لوگ آپسی بھائی چارہ قائم ہے۔ اونچے پہاڑوں کے وسط میں واقع ہونے کے باعث یہاں گرمی زیادہ اور سردی کم پڑتی ہےاور ہر قسم کی میوے، سبزیاں، اناج اور دوسرے کے قدرتی وسائل اوڑی میں پائے جاتے ہیں۔ کارخانوں کی بات کریں تو یہاںچار بڑے بجلی کے کارخانے تعمیر کیے گئے ہیں اور پانچواں زیر تعمیر ہے۔ جن کی بجلی بیرون ریاستوں کو فراہم کی جاتی ہے۔لیکن یہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی کی سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دریائے جہلم پر ہی تعمیر کیے گئے ان چار بجلی پروجیکٹوں کی وجہ سے ہم خود کفیل تو ہیں۔ لیکن مقامی آبادی بجلی کی نعمت سے محروم ہیں۔ گویا چراغ تلے اندھیرا ہے۔
1۔مہورہ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ:۔ میسور کے مہاراجہ نے کاویری پاور سکیم 1902ء میں Shivsamudran کے مقام پر شروع کیا۔ میسور کے ساتھ ساتھ بنگلور میں بھی اس اسکیم کو لاگو کیا گیا۔ اُس وقت کے متحدہ جموں کشمیر کے مہاراجہ راجہ پرتاب سنگھ نے بھی کنیڈا کے ایک ماہر انجینئر ر میجر Dlain De Latbiniere کو دعوت دی کہ وہ اوڑی میں ایک بجلی کا کارخانہ تعمیر کریں۔ اوڑی کو پوری متحدہ ریاست میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ریاست کا سب سے پہلا پروجیکٹ مہورہ میں قائم کیا گیا۔ جو بجلی کی ساری ضروریات کو پورا کرتا تھا، یہ کشمیر کا پہلا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ تھا، جسےہ جنوبی ایشیا کے پرانے پروجیکٹوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد چار میگاواٹ صلاحیت والا پروجیکٹ تھا،جسے سال 1962 میں 9 میگاواٹ صلاحیت والا بنادیا گیا۔ آج سے117سال قبل یعنی 1905 میںمہورہ کے مقام پر واقع یہ پروجیکٹ ریاستی سرکار نے خود ہی تعمیر کروایا تھا۔ جس کی وجہ سے سرینگر ہندوستان کا دوسرا شہر تھا، جسے بجلی کی سہولت دی گئی۔ اس کی تعمیر میں مقامی لوگوں کے علاوہ ہندوستان کے اعلی انجینئروں کی خدمات بروئے کار لائی گئیں۔ اس میں 11کلومیٹر لمبی نہرلکڑی سے بنائی گئی، وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کی تعمیر میں کافی رکاوٹیں حائل رہیں۔ اس کی تعمیرمیں برطانوی انجینئروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی۔ مقامی مزدوروں کے علاوہ لداخ، بلوچستان اور افغانستان سے مزدوروں سے بھی کام لیا گیا جبکہ کچھ مزدوروں کو پنجاب سے بھی آنے کی اجازت دی گئی۔ دریائے جہلم کے بائیں طرف یہ پروجیکٹ اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ تھا، جس میں دریائے جہلم کے پانی کو اونچائی سے لکڑی کی تعمیر کردہ خوبصورت نہر تک پہنچایا گیا۔ اسی لکڑی کی نہر سے سے مقامی لوگوں کو کھیتوں کے لیے بھی پانی مہیا کیا جاتا تھا۔ اس سے پورے جموں کشمیر میں بجلی کی سپلائی پوری کی جاتی تھی اور اسی سے سلک فیکٹری کو بھی پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ واقعی یہ کوئی آسان کام نہ تھا، وسائل کی عدم دستیابی تھی، آمد و رفت کے ذرایع نہ ہونے کے برابر تھے۔ پھر کاریگروں نے جس جانفشانی سے کام کیا، وہ قابل ستائش ہے۔1947 کے قبائلی حملے میں اس پروجیکٹ کو کافی نقصان پہنچا، لیکن حکومت ِ وقت نے 1955میں اس کی دوبارہ مرمت کروائی۔ بدقسمتی کہیں یا کچھ اور کہ جولائی 1959 میں بڑے سیلابی ریلے نے اسے کافی حد تک ناکارہ بنا دیا،تاہم پھر بھی یہ پروجیکٹ1992ء تک کام کرتا رہا۔ پھر اسی سال ایک اور زبردست سیلابی ریلے کی زد میں آ کر یہ بجلی کارخانہ ناکارہ ہوگیا، اور اب تک یہ بند پڑا ہے۔ حکومتِ وقت نے اس کی بازآبادکاری اور مرمت کی طرف کوئی توجہ مبذول نہیں کی۔ حال ہی میں حکومت جموں و کشمیر کی ایک مفصل جائزہ رپورٹ کے مطابق اِسے دوبارہ شروع کرنے میں 120کروڑ کا سرمایہ درکار ہے۔ مرکزی حکومت کے بقول اس پرانے کارخانے کی دوبارہ بحالی کے لیے رقم وزیراعظم راحت گوش سے واگزار کی جا ئے گی، لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ مقامی لوگ یہی اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس پروجیکٹ کی جلد از جلد دوبارہ بحالی ہو ،تاکہ انہیں وہی سہولتیں مل ہوسکیں جو ماضی میں دستیاب تھیں اور یہ جگہ سیاحتی مقام کے طور پر بھی اُبھرآئے گی۔
2 ۔لوئر جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ:۔ لوئر جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ریاستی حکومت کے محکمہ پاؤر ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے پرنگل چہل کے مقام پر تعمیر کیا۔ یہ 105میگاواٹ صلاحیت کی بجلی والا کارخانہ ہے، جو وادی کے لیے برقی رو کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہ بھی دریائے جہلم پر چلتا ہے اور ضلع صدر مقام سے20 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس کا کام 1987-79ء میں مکمل کیا گیا، اس وقت یہ 90 میگاواٹ بجلی فراہم کرتا ہے، اس کے 3یونٹ ہیں اور ہر یونٹ میں 35میگاواٹ بجلی جنریٹ کی جاتی ہے۔ اس کی نہر کالونی زہم پورہ سے دریائے جہلم کے بیچ نکالی گئی ہے۔ یہ کار خانہ 33ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کا10فیصد پاؤر کشمیر کو جب کہ باقی پاؤر مرکز لے جاتا ہے۔ اس پروجیکٹ میں کام کر کے لوگوں نے خوب پیسہ کمایا،جس سے ان کی اقتصادی حالت کافی حد تک سدھر گئی، کئی لوگ اسی کارخانے میں عارضی بنیادوں پرملازمت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لیکن اتنا عرصہ گذرنے کے باوجود بھی آج تک انہیں مستقل نہیں کیا جا سکا۔
3۔ اوڑی فسٹ:۔ یہ کارخانہ بھی دریائے جہلم پر ہی تعمیر کیا گیا ہے، اس کی صلاحیت 480میگاواٹ ہے۔ اس کارخانے پر1997 میں کام مکمل کیا گیا۔ اوڑی فسٹ راجر وانی بانڈی ،جو اوڑی سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے،پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ کارخانہ سارے کا سارا زیر زمین ہے۔ اس کی نہر بونیار سے زیر زمین ہی بڑے بڑے پہاڑ چیر کر بانڈی تک لائی گئی، اس کی لمبائی 12کلومیٹر ہے اور اس میں کوئی بڑی ڈیم تعمیر نہیں کی گئی ہے۔ اس کی تعمیر سویڈش Skankra، سویڈش NCC، ABB، برٹش Boving Kvearner، سویڈش اور برطانوی حکومت نے مل کر کرلی۔ اس کارخانے میں 200سے زائد بیرون ممالک کے لوگوں اور 4000ہندوستانی اور مقامی لوگوں نے مل کر کام کیا۔ اس کی تعمیر میں ڈیڑھ سال کی تاخیر ہوئی۔ جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی، سرحدوں پر گولہ باری، نا مصائب حالات، درگاہ چرار شریف کو نذر آتش زدگی اور درگاہ حضرت بل جیسے سنگین حالات رہے۔ یہ کارخانہ 33ارب روپیہ کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن ‌‌(NHPC) جو کہ مرکزی سرکار کا ادارہ ہے۔ آج یہی ادارہ پوری طرح اس کی رکھ رکھاؤ اور دیکھ بھال بھی کر رہا ہے۔ اس کار خانے سے مقامی لوگوں کی اقتصادی حالت بھی سدھر گئی اور کئی لوگوں کو عارضی بنیادوں پر ملازمت تو ملی تاہم وہ آج تک مستقلی کے منتظر ہیں۔ اس کارخانے کو دیکھنےاور سیر کرنے کے لئے ملک اور بیرون ملک سے سیاح آتے رہتے ہیں۔
4۔ اوڑی سیکنڈ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ:۔ یہ کارخانہ ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی نے سلام آباد کے مقام پرجو کہ اوڑی سے4 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ،نےتعمیر کیا۔ اس کی صلاحیت 240میگاواٹ ہے۔ یہ 22.9 ملین کی تخمینہ لاگت سے تعمیر کیا گیا۔ یہ کارخانہ بھی زیر زمین ہی تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کا کام 2005 میں شروع کیا گیا۔ اسی سال 7/8اکتوبر کے تباہ کن زلزلے سے اس کی تعمیر میں تاخیر ہوئی اور 2014 میں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے اس میں کام کرنے والے مزدوروں اور انجینئروں کو کافی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ سال 2014 میں اس کارخانہ کو مکمل کیا گیا۔ اس کی سپلائی کا کچھ حصہ جموں کشمیر کو جب کہ باقی ساری بجلی ہریانہ، ہماچل پردیش، اترکھنڈ، اترپردیش، دہلی، پنجاب، راجستھان اور چندی گڑھ کی ریاستوں کو دی جاتی ہے اور اب اس کی دیکھ بھال نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کر رہی ہے۔ اس کار خانے کی تعمیر کے دوران سال2008ء میں پرن پیلاںکے مقام پر زیر تعمیر ایک پل گر گیا۔ جس میں 27مزدور ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی اورجے سی گپتا کو بطور جرمانہ4.39کروڑ روپے ادا کرنے پڑے۔ سال 2016 میں وزیراعظم جناب نریندر مودی نے اس کارخانے کو قوم کے نام وقف کیا۔ اس کارخانے کی تعمیر کے لیے مقامی لوگوں کی کاشتکار ی زمینوں کو استعمال میں لایا گیا،جس کا انتظامیہ نے انہیں معاوضہ بھی دیا۔ لیکن کچھ بڑے وعدے بھی کئے جو آج تک پورے نہ ہو سکے۔ یعنی کارخانے ہمارے، زمینیں ہماری، پانی ہمارا، لیکن ہمیں ہی بجلی کی روشنی سے محروم رکھا گیا۔ ان کارخانوں سے بجلی باہر کی ریاستوں کو سپلائی کی جاتی ہے۔ نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کی انتظامیہ نے مقامی لوگوں کے ساتھ بلند بانگ وعدے کئے تھے۔ جن میں زمین مالکان کو معقول معاوضہ دینا، مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا، انہیں مستقل بنیادوں پر مقامی کارخانوں میں ملازمت دینا، 5کلومیٹر تک مقامی لوگوں کو مفت بجلی فراہم کرنا، جدید سہولیات سے لیس 20بستروں والا ایک ہسپتال قائم کرنا، چہل کے مقام پر نوجوانوںکےلیے ایک بڑے کھیل کے میدان کے لیے 300لاکھ روپیے دینا، اوڑی بس سٹینڈ کے لیے 50لاکھ روپے فراہم کرنا، مقامی انڈسٹریل اداروں میں فنڈس واگزار کرنا، اور اس طرح کے کئی اور بلند بانگ وعدے تو کئے گئے، لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کوئی بھی وعدہ وفا نہ ہوسکا۔ اس کی ایک وجہ کچھ شر پسند عناصر کی انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت، سیاست کا براہ راست عمل دخل، لوگوں سے حقائق چھپانا، وقت کے اعلی حکام کی لاپرواہی اور مقامی لوگوں کی غفلت شعاری بھی ہے۔ آج ہم بجلی میں خود کفیل ہو کر بھی اندھیرے میں ہیں۔ ستم بالائے ستم کہ بجلی کی فیس دوگنا کر دیا گیا ہے،الغرض اوڑی اور بونیار کے لوگ قدیم زمانے کی طرز پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ چند برس قبل مقامی لوگوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اس پروجیکٹ پر چل رہے کام کو اس بنا پر بند کروا دیا کہ این ایچ پی سی مقامی لوگوں کے جائز مطالبات پر ہمدردانہ غور کرے اور انہیں جلد از جلد مستقل بنیادوں پر حل کرے۔ مگر کسی نے ان کی نہیں سنی۔ چند افراد کو عارضی بنیادوں پر نوکری تو دی گئی مگر انہیں تاایں دم مستقل نہیں کیا گیا۔ کچھ افراد 30 برس سے اور کچھ 20برس سے عارضی بنیادوں پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، اُن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مقامی سیاسی قائدین، رضاکار، نوجوان، بزرگ، طلباء و طالبات اور سول سوسائٹی مل کر اعلیٰ حکام سے اپنے جائز مطالبات کا مستقل حل تلاش کرانے کے لیےآواز بلند کریں۔ اوڑی اور بونیار دونوں تحصیلوں کے لوگوں کو ان تینوں کارخانوں سے 810میگاواٹ بجلی میں سے صرف 70سے 80میگاواٹ بجلی درکار ہے نہ کہ اس سے زیادہ۔ مرکزی حکومت، این ایچ پی سی اور یو ٹی انتظامیہ اس پر ہمدردانہ غور کرے۔ کسی ایک پروجیکٹ سے ہمیں سستے داموںبجلی فراہم کی جائےاور جو وعدے لوگوں کے ساتھ گئے،اُن کا وفا کریں تاکہ یہاں کےعوام راحت کی سانس لے سکیں۔ ہر کسی کے پاس اتنی استعداد نہیں کہ وہ دوگنی فیس ادا کر سکے،اور وہ بھی محض پانچ یا چھ گھنٹےکی بجلی سپلائی کی۔ یہ ایک جائز مطالبہ ہے،جس پر سیاست سے بالاتر ہو کر غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اب انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ جو وعدے انہوں نے ماضی میں اوڑی کی عوام کے ساتھ کئے ہیں ،اُن وعدوںکو پورا کریں۔
(رابطہ نمبر۔ 9697052804)