اوڑی کی جواں سال خاتون سڑک بند ہونے کی وجہ سے اسپتال نہ پہنچ پائی، چارپائی پر دم توڑ بیٹھی

اوڑی /شمالی ضلع بارہمولہ کے چرنڈہ اوڑی کی ایک جواں سال مگر بیمار خاتون جمعرات کو رابطہ سڑک بند ہونے کی وجہ سے اسپتال وقت پر نہیں پہنچ پائی جس کے نتیجے میں وہ لقمہ اجل بن گئی۔
اوڑی میں کنٹرول لائن پر واقعہ چرنڈہ نامی گاوں کی ایک خاتون اس وقت لقمہ اجل بن گی جب اسکو چار پائی پر اوڑی اسپتال لے جایا جا رہا تھا اور وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھی۔جاں بحق خاتون کی شناخت 25 سالہ زرینہ بیگم زوجہ نصیر احمد دیدڑ کے طور ہوئی ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ خاتون کی موت محکمہ پی ایم جی ایس وائے کی غفلت شعاری کی وجہ سے ہوئی ہے، جس نے دو ہفتوں سے بند پڑی سڑک کو بحال کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا اور یوں ایک خاتون وقت پر اسپتال نہیں پہنچ پائی اور وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھی۔مقامی ذرائع کے مطابق اوڑیا۔ چرنڈہ سڑک 8 مارچ کو بارش کے بعد پسیاں گر آنے کی وجہ سے بند پڑی ہے اور دو ہفتے گذر جانے کے باوجود مگر محکمہ پی ایم جی وائے ایس نے اس رابطہ سڑک کو گاڑیوں کے لئے بحال نہیں کیا۔
مرحومہ کے چاچا نذیراحمد دیدڑ نے بتایا کہ اس کی بھتیجی کو آج صبح سخت بخار آیا اور علاقے کی رابطہ سڑک بند ہے اس لئے اُسے چار پائی پر لٹاکر اسپتال کی طرف لے جایا جا رہا تھا مگر اس کی موت راستے میں ہی واقع ہوئی۔انہوں نے الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ مرھومہ کی موت کی ذمہ داری محکمہ پی ایم جی ایس وائے پرہے۔انہوں نے کہا” اگر سڑک کو وقت پر بحال کیا گیا ہوتا تو آج ایک قیمتی جان کو بچایا جا سکتا تھا“۔
ایگزیکٹیو انجینئر پی ایم جی ایس وائے سب ڈویژن اوڑی پیر شاجہان نے اس ضمن میں بتایا کہ علاقے میں زمین بارشوں کی وجہ سے بہت گیلی ہے اور پسیاں گر آنے کا عمل جاری ہے جسکی وجہ سے سڑک کی بحالی کیلئے کام کرنا مشکل ہے۔انہوں نے بتایا ” امید ہے کہ دو دن کے اندر مذکورہ رابطہ سڑک کو بحال کیا جائے گا“۔