اوڑی میں لیموں،انار،اخروٹ اور سنتروں کے پودے تقسیم

 اوڑی/ظفر اقبال//ڈائریکٹر جنرل باغبانی کشمیر اعجاز احمد بٹ نے ضلع بارہمولہ کے اْوڑی سب ڈویژن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سلام آبادنرسری میں محکمہ باغبانی کی طرف سے منعقدہ بیداری کیمپ میں شرکت کی۔  یہ کیمپ قبائلی اور سرحدی علاقوں کے لوگوں تک پہنچنے کے لیے حکومت کے اقدام کا ایک حصہ تھا۔ تقریب کے آغاز میں چیف ہارٹی کلچرافسر بارہمولہ نے کیمپ میں ڈائریکٹر جنرل اور دیگر شرکاء کا خیرمقدم کیا اور انہیں سب ڈویژن اوڑی میں باغبانی کے موجودہ منظر نامے کے بارے میں آگاہ کیا اور محکمہ کی طرف سے پیش کردہ مختلف مرکزی اوریوٹی سکیموں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی جی ہارٹیکلچر نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں، محکمہ باغبانی کے ساتھ منسلک ہوں اور مختلف اسکیموں کے فوائد حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے مخصوص پھلوں اور اقسام پر توجہ دی جائے گی کیونکہ وادی کے باقی حصوں کے برعکس اوڑی سب ڈویڑن میں معتدل آب و ہوا۔انہوں نے کہا کہ انہیں ان کا حصہ دیا جائے گا اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے محکمہ کی طرف سے تکنیکی اور مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمانہ اسکیموں اور پروگراموں میں سرحدی علاقوں کے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ کی جانب سے مناسب طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔انہوں نے فیلڈ کے ذمہ داران کو نچلی سطح پر ورکشاپ اوربیداری کیمپوں کا انعقاد کرنے کی بھی ہدایت کی، خاص طور پر ورمی کمپوسٹنگ، اخروٹ اور زیتون کے پودوں وغیرہ کی گرافٹنگ پر توجہ مرکوز کریں۔مقامی لوگوں کی طرف سے 'اخروٹ اسٹیم بورر' 'انار کی تتلی' وغیرہ سے ہونے والے نقصان جیسے بہت سے مسائل اٹھائے گئے جس پر ڈی جی نے یقین دلایا کہ آنے والے دنوں میں محکمہ کی طرف سے ضروری ایڈوائزری جاری کی جائے گی۔ تقریب کے اختتام پر ڈی جی نے لیموں، انار، سنترے، اخروٹ وغیرہ کے تقریباً 12000 پودے کسانوں میں تقسیم کیے اور چیف ہارٹیکلچر آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ راجستھان سے زیتون کے پودے درآمد کریں اور علاقے میں نئی اقسام متعارف کروائیں۔ کیمپ میں کسانون کے علاوہ, چیف ہارٹیکلچر آفیسر بارہمولہ ظہور احمد بٹ، ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ افسر اوڑی حامد علی خان، ایس ڈی پی او اْوڑی، جنید ولی اور محکمہ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل نے سلام آباد میں زیتون کے باغات اور زیتون کے تیل نکالنے والی مل کا معائنہ کیا اور انہیں بتایا گیا کہ اس سال تقریباً 15 کوئنٹل زیتون کی کاشت کی گئی ہے۔