اوڑی حملہ

نئی دہلی// بھارتی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اوڑی حملے میں سہولت کاری کی شبہ میں گرفتارکئے گئے دو پاکستانی لڑکوں کو رہا کردیا۔دونوں پاکستانی لڑکوں کو گزشتہ سال ستمبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ این آئی اے نے لڑکوں کے حوالے سے اپنی حتمی رپورٹ میں لکھا کہ ’فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید دہشت گردی کی اس کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔‘بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ’دونوں لڑکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی ہیں اور اپنے والدین سے تعلیم کے معاملے پر جھگڑا کرکے سرحد کرکے غلطی سے سرحد پار کرگئے تھے۔‘رپورٹ کے مطابق ’دونوں لڑکوں کے بیانات اور ان کے موبائل کے تکنیکی تجزیوں کی صورت میں حاصل ہونے والے ثبوتوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان کا اوڑی میں آرمی کیمپ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں سے کوئی تعلق تھا۔‘این آئی اے نے دونوں پاکستانی لڑکوں کے خلاف کیس بند کرکے انہیں پاکستان واپس بھیجنے کے لئے فوج کے حوالے کردیا۔قبل ازیں  رپورٹ میں اعلیٰ سرکاری حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ دونوں پاکستانی لڑکوں کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا جارہا ہے، کیونکہ پاکستان نے حال ہی میں بھارتی فوجی اہلکار چندو چَون کو رہا کیا جو گزشتہ سال بھاگ کر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق کشمیر کی مقامی پولیس نے دونوں لڑکوں کو گرفتاری کے بعد ہی بے گناہ قرار دے دیا تھا۔فیصل نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ مظفر آباد کے علاقے پوٹھا کا رہنے والا اور ترکھان کا بیٹا ہے جبکہ احسن کا کہنا تھا کہ اس کے والد سعودی عرب میں باورچی ہیں۔