اوڑی اور رفیع آباد میں حادثات

 بارہمولہ//ضلع بارہمولہ کے اوڑی اور فیع آبادمیں بجلی کرنٹ لگنے سے دو افراد ازجان ہوئے جبکہ ایک شہری شدید زخمی ہواجس کی وجہ سے ان علاقوں میں صف ماتم بچھ گئی۔تفصیلات کے مطابق اوڑی کے لمبر علاقے میں بدھ کے روز اُس وقت صف ماتم بچھ گئی جب وہاں ایک بجلی ٹرنسفامر کو ٹھیک کرنے کے دوران محکمہ بجلی کا ایک عارضی ملازم فرید احمد خان ساکنہ بمیار بونیارکرنٹ لگنے سے ازجان ہوا ۔مقامی  لوگوںکے مطابق مذکورہ ملازم کرنٹ لگنے کے بعد کئی گھنٹوں تک ٹرنسفارمر کی تاروں میں پھنس گیا اور جان بچانے کیلئے کئی گھنٹوں تک تڑپتا رہا ۔ستم ظریفی کا عالم یہ تھا کہ نہ ہی سٹیشن پر موجود محکمہ بجلی کے ملازمین نے پاور سپلائی کو بند کردیا نہ ہی اُس کی جان بچانے کو کوئی آیا اُس کے بعد مقامی لوگوں نے لاٹھی ڈنڈوں سے ٹرانسفامر کی تاریں کاٹ دی اور پولیس کو خبر دی جس کے بعد پولیس اور مقامی لوگوں نے غریب ملازم کی لاش کو ٹرانسفارم سے اُتارا اور قانونی لوزمات کے بعد لاش کو لواحقین کے حوالے کیا ۔اس دوران مقامی لوگوں نے سرینگر ۔مظفر آبا شاہراہ پر محکمہ بجلی کے آفسران کے خلاف سخت احتجاج بھی کیا۔ حیرت کی بات یہ کہ محکمہ کے آفسران کو شام دیر گئے تک کوئی اطلاع نہیں تھی۔دراثنا رفیع آباد کے دازنا علاقے میں بھی بدھ کے روز اُس وقت کہرام مچ گیا جب وہاں کواں کھود نے کے دوران دو افراد جن میں خورشید احمد نجارولد عبدالغفار اور آصف احمد گنائی ولد غلام محمد ساکنان دازنا جو کہ کویں میں ایک اسٹیل پائپ ڈال رہے تھے اس دوران ایک پیپ ایک بجلی لائن کے ساتھ چھو گئی جس کی وجہ سے دونوں کو کرنٹ لگی اور خورشید احمدنجارموقع پر ہی ازجان ہوا ۔جبکہ آصف کو ضلع سپتال بارہمولہ منتقل کیا گیا جہاں اُس کا علاج و معالجہ جاری تھا۔