اومیکرون کی ویکسین بنانے کیلئے عالمی دوڑ شروع

واشنگٹن //دنیا بھر کی حکومتوں نے ملک کو لاک ڈاون کی صورت میں معاشی تباہی سے بچانے کے لیے کورونا کی نئی قسم اومیکرون کی ویکسین بنانے کی کوششیں تیز کردیں۔ ہوائی اڈوں پر مسافروں کی جانچ کرکے متاثرہ افراد کی شناخت کی جارہی ہے،جب کہ اومیکرون وائرس کو ڈی کوڈ کرنے کا کام بھی تیز کردیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے تیزی سے پھیلنے کاخدشہ ہے۔ مملکت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بعد امریکہ میں بھی کورونا وائرس کی اومیکرون اسٹرین کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے ۔ متاثرہ شخص جنوبی افریقہ سے 22 نومبر کو امریکہ آیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق اومیکرون سے متاثرہ شخص ویکسین کا کورس مکمل کر چکا تھا، مریض کا علاج جاری ہے ۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ تمام ممالک پُرسکون رہ کر اومیکرون کے خلاف حقیقی اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ نئے ویرینٹ اومیکرون سے متعلق ابھی بہت سے سوالات جواب طلب ہیں، تمام ممالک منطقی، مناسب اور خطرے میں کمی لانے والے اقدامات کریں، اور یہی وہ اقدامات ہیں جو آنے والے خطروں سے ہمیں بچاجاسکتا ہے ۔ اس سے قبل جاپان میں اومیکرون کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد کھلبلی مچ گئی تھی۔ تیزی سے وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر بازاروں میں سناٹا چھا گیا ہے۔  اس وقت دنیا کے قریب ہر خطے میں حکومتیں جس تیز رفتاری سے حفاظتی اقدامات کررہی ہیں، اس سے معاشی دباوکی کیفیت واضح ہورہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے جنوبی افریقا اومیکرون کی شناخت کی خبرعام ہوئی تھی اور اس کے بعد سے دنیا کے ایک درجن سے زائد ممالک میں اس کی موجودگی کا پتا چل چلا ہے۔ برطانیہ اور دنیا کی دیگر بڑی معیشتوں نے جنوبی افریقاجانے اور وہاں سے آنے والی تمام تر پروازوں پر فوری طور پر پابندی لگا دی ہے۔ دوسری جانب امریکانے اومیکرون سے نمٹنے کے لیے ہوائی اڈوں پر اقدامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں امریکاکے 4بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر نگرانی بڑھائی جائے گی۔یو این آئی