اومیکرون کا پھیلاؤ | متعددممالک میں نئی پابندیاں نافذ

لندن //دنیا بھر کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر نیوزی لینڈ نے بین الاقوامی سرحدیں کھولنے کا فیصلہ مؤخر کردیاجبکہ متعدد ممالک میں سماجی فاصلہ رکھنے کی پابندی دوبارہ نافذ کردی گئی ہے۔ کرسمس کے تہوار اور نئے سال کی تقریبات سے قبل ہی متعدد ممالک میں چند ہی روز رہ گئے ہیں جبکہ اومیکرون یورپ ،امریکا اور ایشیا میں دگنی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔جاپان میں ایک ہی فوجی دستے میں 180 کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔نیوزی لینڈ کے وزیر کرس ہیپکنز کا کہنا تھا نیوزی لینڈ وہ ملک ہے جہاں کورونا وائرس کے خلاف دنیا کے سب سے زیادہ سخت اقدامات کیے گئے ہیں، اور یہاں سرحدیں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ فروری کے اختتام تک مؤخر کردیا گیا ہے۔سنگا پور میں بھی وزارت صحت نے اومیکرون کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کرنا شروع کردیے ہیں اس سیقبل یہاں جم میں اومیکرون کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، انہوں نے تنبیہ کی ہے کہ مزید کیسز کا امکان ہے۔امریکا میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کو کورونا وائرس کے ویرینٹ کی وجہ سے ٹیکساس میں ایک غیر ویکسنیٹڈ شخص انتقال کرگیا، ویرینٹ ملک میں تیزی سے غالب آرہا ہے۔دوسری جانب کورونا وائرس ٹیسٹ کے لیے نیو یارک، واشنگٹن اور امریکا کے دیگر شہروں میں شہریوں کی قطاریں لگ گئی ہیں کیونکہ کرسمس چھٹیاں خاندان کے ساتھ منانے سے قبل شہری جانتا چاہتے ہیں کہ وہ متعدی بیماری میں مبتلا تو نہیں ہوئے ہیں۔جنوبی کوریا، نیدر لینڈ، جرمنی اور آئرلینڈ کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں حال ہی میں جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن یا سماجی فاصلے کے اقدامات کا نفاذ کردیا گیا ہے۔اومیکرون کے پھیلاؤکے خدشے کے تحت اسرائیل نے امریکا کو ’نو فلائٹ‘ فہرست میں شامل کرتے ہوئے امریکا پر سفری پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ کویت کا کہنا ہے کہ وہ ان مسافروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے جو ویکسین کا دوسری خوراک لگانے کے 9 ماہ بعد بوسٹر شاٹ لگواچکے ہیں۔برطانوی وزیر اعظم بورس جوہنسن کا کہنا ہے کہ حالات ’انتہائی سنگین‘ ہوگئے ہیں، کیونکہ لندن میں ہسپتالوں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ان کی حکومت کی جانب سے جزوی طور پر سیاحت محدود کرنے سمیت کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں آسٹریلیا میں اومیکرون کیسز میں اضافہ ہورہا ہے لیکن یہاں شہریوں کے ہسپتالوں میں داخل ہونے کے رجحان میں کمی ہے، تاہم وزیر اعظم اسکاٹ مریسن نے ریاستی اور علاقائی رہنماؤں سے لاک ڈاؤن میں توسیع نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم دوبارہ لاک ڈاؤن پر نہیں جارہے ہیں، ہم وائرس کے ساتھ عام فہم اور ذمہ دارانہ زندگی گزاریں گے۔اومیکرون کا سب سے پہلا کیس گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ اور اس کے بعد ہانگ کانگ میں سامنا آیا تھا جس کے بعد ابتک کم و بیش 89 ممالک میں کورونا کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔کورونا وائرس کے ویرینٹ سے ہونے والی بیمار کی شدت ابھی تک واضح نہیں ہے، لیکن عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور ان لوگوں کو متاثر کر رہا ہے جو پہلے ہی ویکسین لگوا چکے ہیں یا جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
 
 
 

ورلڈ اکنامک فورم اجلاس ملتوی

لندن //کورونا کی صورتحال کے باعث سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقد ہونے والا سالانہ ورلڈ اکنامک فورم منسوخ کردیا گیا ہے۔یہ فورم 17 سے 21 جنوری تک ’ان پرسن‘ منعقد ہونا تھا لیکن کورونا وائرس اور اس کے نئے ویرئنٹ کے باعث اب یہ ڈیوس کی بجائے آن لائن منعقد ہوگا۔یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے سردیوں کیلئے معروف سیاحتی مقام ڈیوس میں ہرسال ورلڈ اکنامک فورم کے تحت اجلاس منعقد ہوتا تھا، جس میں دنیا بھر سے 50 سے زائد سربراہان مملکت و حکومت اور 100 سے زیادہ ارب پتی اور کاروباری افراد شریک ہوتے اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس فورم میں شرکت کی فیس 50 ہزار ڈالر فی آدمی ہے جبکہ ممبر شپ فیس اور پارٹنر شپ فیس 65ہزار  ڈالر سے لیکر 6لاکھ 50 ہزار ڈالر تک ہوتی ہے۔گزشتہ سال بھی یہ اجلاس کورونا کے باعث آن لائن منعقد ہوا تھا جبکہ اس سال بھی نئے ویرئنٹ اومی کرون کے تیز پھیلاؤ کے باعث ورلڈ اکنامک فورم شخصی موجودگی کی بجائے دوبارہ آن لائن ہی منعقد ہوگا۔