اومیکرون سے نپٹنے کیلئے حکومت کی تیاریاں

نئی دہلی// ملک میں دہلی، مہاراشٹر اور تلنگانہ سمیت 15ریاستوں میں کووڈ کے نئے ویریئنٹ ‘اومیکرون’ کے 213مریض سامنے آنے اور امریکہ میں اس سے ایک شخص کی موت کے بعد حکومت نے ضلعی سطح پراس انفیکشن سے نپٹنے کی تیاری شروع کردی ہے ۔مرکزی حکومت نے اومیکرون کے معاملات میں اضافہ کے مدنظر ضلعی سطح پر نگرانی اور ٹیسٹ بڑھانے اور اسپتالوں کو کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کے لئے تیاررکھنے کے لئے کہا ہے ۔ اس درمیان وزیراعظم نریندرمودی اومیکرون سے نپٹنے کی تیاریوں کے جائزہ کے لئے آج میٹنگ کریں گے ۔صحت اور خاندانی فلاح وبہبود کی مرکزی وزارت میں سکریٹری راجیش بھوشن نے کہاکہ اومیکرون کا پھیلاو ڈیلٹا کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کا پھیلاو روکنے کے لئے اضافی احتیاط کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں اور مرکزکے زیرانتظام ریاستوں سے کہا ہے کہ جن اضلاع میں کووڈ انفیکشن کی شرح 10فیصد سے زیادہ ہے یا جن اضلاع میں کووڈ اسپتالوں کے 40فیصد سے زیادہ بستر بھر چکے ہیں، وہاں کووڈ نگرانی اور ٹیسٹ میں اضافہ کیا جانا چاہئے اور کووڈ پیمانوں پر سختی سے عمل کیا جانا چاہئے ۔ ان اضلاع کے اسپتالوں میں کووڈ کی تمام دستیاب سہولیات یقینی کی جانی چاہئیں۔مسٹر راجیش بھوشن نے کہاکہ ملک کے کچھ حصوں میں اومیکرون کا پھیلاو تیزی سے ہور ہاہے جبکہ ڈیلٹاانفیکشن کا اثر ابھی برقرار ہے ۔ صورتحال کے مدنظر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستوں کو فاضل احتیاط برتنی چاہئے ۔ مرکزی حکومت کی ہدایات پر مکمل طورپر عملدرامد کیا جانا چاہئے ۔ کووڈ سے نپٹنے کیلئے ضلعی سطح پر حکمت عملی تیا ر کرنے پر زور دیتے ہوئے مسٹر بھوشن نے کہاکہ پابندی شدہ علاقوں کی سخت نگرانی کی جانی چاہئے اور کووڈ سے متاثرہ کے رابطہ اور تعلق پر نظر رکھی جانی چاہئے ۔ ضلعی سطح پر صورتحال کی سنگینی کے سبب پابندی شدہ علاقوں میں رات کا کرفیو لگایا جانا چاہئے اور بھیڑ کو کنٹرول کیا جانا چاہئے ۔حکومت نے خطرے والے ممالک سمیت غیرملکی سفر سے واپس آنے والے لوگوں پر سخت نظر رکھنے کے لئے کہا ہے ۔ تمام مسافروں پر ایئر سوویدھا پورٹل پر کووڈ سے متعلق اعلان کرنا اور آر ٹی۔ پی سی آر ٹیسٹ رپورٹ لیکر آنا لازمی کردیا ہے ۔ تقریباً تما م بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر کووڈ ٹیسٹ کی سہولت دستیاب کرائی گئی ہے ۔اس درمیان ملک گیر ٹیکہ کاری مہم کے تحت اب تک 138.96سے زیادہ کروڑ ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔