اومیکرون بحران

نئی دہلی//مرکزی حکومت نے کووڈ کے نئے ویریئنٹ اومیکرو ن کے روز بروز بڑھتے معاملوں کے مد نظر اس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے علیحدہ انتظام کرنے کی ہدایت دی ہے ۔مرکزی وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود میں سکریٹری راجیش بھوشن نے بدھ کو سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پرنسپل سکریٹریوں اور ہیلتھ سکریٹریوں کے نام ایک مکتوب میں کہا ہے کہ ملک کے مختلف گوشوں میں کووڈ کا انفکشن بڑھنے کا خطر ہ منڈلارہا ہے ۔ ان میں اومیکرون سے متاثرہ افراد کے ہونے کا بھی امکان ہے ۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ریاستوں کو انفکشن روکنے کے لیے ٹسٹ اور نگرانی پر بطور خاص توجہ دینی چاہئے ۔ بین الاقوامی مسافروں کی 14 دنوں تک خصوصی نگرانی کی جانی چاہئے ۔ ان کے روابط اور مسافروں کی مکمل تفصیل محفوظ رکھیں۔ کووڈ تشخیصی مراکز میں اومیکرون سے متاثرہ افراد کے لیے الگ سے انتظام کیا جانا چاہئے تاکہ انفکشن کو فوری طورپر روکا جاسکے ۔ ٹسٹ کے دوران انفکشن کا شکار پائے گئے افراد کے نمونے جینوم سکونسنگ کے لیے بھیجے جانے چاہئیں۔مکتوب میں مشورہ دیا گیا ہے کہ ٹسٹ کا دائرہ وسیع کیا جائے اور جن اضلاع میں انفکشن کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ ہے ، ان اضلاع میں بطور خاص توجہ دی جانی چاہئے ۔ کووڈ مریضوں کے علاج کے لیے ای سنجیونی، انٹر نیٹ اور مواصلات کے ذرائع کی مدد لی جانی چاہئے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے پھیلاؤ کی شرح ڈیلٹا سے پانچ گنا زیادہ ہے ۔ تاہم یہ ڈیلٹاجتنا خطرناک نہیں ہے ۔