اور وہ سمجھے نہیں یہ خامشی کیا چیز ہے

زندگی نام ہے برداشت کا اوربرداشت کا بھروسہ ہے خاموشی ، خاموشی کا تعلق زندگی کے حقیقی مسائل سے ہے جس میں عبارتِ اصل کا دخل عقل کی فراوانی سے ہے ۔ زندگی کی متضاد کیفیتیں یقینی ہو سکتی ہیں جن میں خوشی اور غم شامل ہے خوشی کی عمر گلِ تبسم ہے اورغم کی عمر طوالت کی مالک ہے جس کا آنا مصیبت ہے اور جانا مشکل ہے ۔ زندگی کا مزہ عقل سے حاصل کرنے والے کبھی کہتے ہیں خاموشی نعمت ہے اورزندگی کا لطف زبان سے لینے والے کہتے ہیں ساری باتیں فضول ہیں زندگی کو دل سے جینے والے کہتے ہیں اصل خاموشی تو تسکینِ قلب سے ہیں اورخاموش رہنے والے خود کو کوستے ہوئے نفرت بھی کرتے ہیں ۔خاموشی آدم کو راس آئی اورابلیس کو نہ بھائی اگر ابلیس خاموش رہتا تو شاید آدم کا یہ حشر نہ ہوتا کہ جنت اورجہنم کے درمیان معلق زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوتا جہاں قید حیات بندغم اصل میںدونوں ایک ہے کی سی کیفیت سے وہ دو چار ہے ۔ خاموشی کبھی آدمی کو دو چاردلاتی ہے اور کبھی دو چار کرتی ہے لیکن دو چار کے چکر میں جو چکر چلانا سیکھا جاتا ہے گویا وہ اچھی طرح ہر حال میں ہر غم سے ہر مصیبت سے، ہر پریشانی سے ’’نو دو گیارہ‘‘ ہو جاتا ہے ۔ آدم خاموش رہا تو درجہ انسانیت پر فائز ہوا ابلیس نے خاموشی توڑ ڈالی اور ساری دنیا کا دشمن قرار دیا گیا ہے لیکن جنگ جاری ہے کبھی خاموشی سے وار کرتا ہے اورکبھی بہ آواز بلند اعلان جنگ کرتا ہے مگر آدم بھی عجیب ذات ہے اس کی ہرچال سے واقف ہے خاموشی سے مطلب حاصل کر کے خاموش رہ جاتا ہے اور خاموشی سے آنسوں بہا کر فرار ہو جاتا ہے ۔ دنیا میں کچھ لوگ شور سے مقام حاصل کرتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ خاموشی ہزار نعمت کا اصول اپنا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں اور آواز بلند کرتے ہیں ۔ خاموش رہنا اور نہ رہنا آدم کی طبعیت اور صحت پر منحصر ہے کبھی خاموشی آدم کی جان لیتی ہے اور کبھی خاموشی آدم کی جان بخشتی ہے ۔ تندرستی ہزار نعمت ہے لیکن خاموشی لاکھ نعمت صاحب غصہ کرے تو خاموش رہو، بیگم خشم ناک لہجے میں بات کرے تو خاموش رہو، دشمن گستاخ زبان کا استعمال کرے تو خاموش رہو، مالکِ مکان گھر سے نکالے تو خاموشی اختیار کرو جیسے معاملات لوگوں کے یہاں کارفرما ثابت ہوئے ہیں ۔ خاموش رہنا اور خاموش نہ رہنا نہ صرف ایک عام مسلہ ہے بلکہ فکری اور عقلی مسئلہ ہے اور متضاد خیالت کا نظریہ بھی ہے جس میں ہر سطح پر فکر اور دانش کا عمل دخل کارفرما ہے ۔ ایک انگریزی مقولہ ہے ’’ غصہ کرنے سے کام بگڑ جاتا ہے اور خاموش رہنے سے کام بن جاتا ہے ‘‘۔  ؎
ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی 
اور  وہ  سمجھے  نہیں  یہ  خامشی کیا  چیز ہے 
ندا فاضلی ؔ
لیکن یہ مقولہ مناسب حالات، موافق ماحول اور بہترین سماں کا محتاج ہے ۔ بے موقعہ خاموش رہنا دانائی نہیں ہے اور موقعہ محل پر خاموشی اختیار نہ کرنا جہالت ہے ۔ انسان کی جبلت میں مختلف فطری قرینے موجود ہوتے ہیں جن کا ہونا بھی لازمی اور ضروری جز ہے ایک مکمل انسان کی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے تو ان باتوں کا خیال ضرور رکھنا ہوتا ہے کہ موصوف کتنا برداشت کرتا ہے کتنا غصہ کر سکتا ہے ، کس حد تک خاموش رہ سکتا ہے ، کس قدر غم کا اثر خودپر لیتا ہے ، کس حدتک خوشی کا اظہار کر سکتا ہے اور کس حد تک یہ آدمی Introvert ہو سکتا ہے یا کس حد تک Extrovert ہو سکتا ہے ۔ ان مطالعوں سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ آدمی کا خاموش رہنا اور خاموش نہ رہنا اس کی فطرت کا ایک لازمی نیز فطری عمل ہے ۔ 
انسان کی افزائش سے قبل اگر کائنات کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو کتنی خاموشی رہی ہو گی اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ اگر دنیا کے تمام انسان ایک ہی وقت پر خاموش رہینگے تو کس طرح کامنظر نظر آئے گا۔ آدم کی وجہ سے محفل میں رنگت اور چاشنی موجود ہے پرندوں کے شور و غل سے سماعت جان افزاہے اگر یہ خوش رنگ شور و غل نہ ہو تو زندگی کا مزہ پھیکا پڑ جائے گا۔ 
خاموشی ایک لاجواب شے ہے جو کبھی ہزار سوالوں کا ایک ہی جواب ہوتی ہے اور کبھی ہزار سوالوں کو جنم دیتی ہے ۔ خاموشی میں کبھی سوال کے ہاں  میںجواب پوشیدہ ہوتا ہے اور کبھی اِنکار کا زار چھپا ہوتا ہے ۔ خاموشی ایک دریا ہے جس کی گہرائی کا اندازہ لگانا صرف مشکل بلکہ ناممکن عمل ہے ۔ اگر کبھی ضرورت وقت پر استفار کرنے والے شخص کے سامنے آپ خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہزار سوالات پیدا کر سکتا ہے۔ ظالم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا مظلومیت ہے اور مظلومیت آدمی کو خاموش رہنا سِکھاتی ہے لیکن کبھی غیر ضروری خاموشی آدمی کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ۔     ؎
نکالے گئے اس کے معنی ہزار
عجب چیز تھی اک مری خامشی
خلیل الرحمن اعظمی 
ہر آدمی ایک بیگم رکھتا ہے اور بیگم کو برداشت کرنے کے لئے خاموشی ایک اہم ہتھیار ہے وہ ہتھیار جس سے آپ شکار کر سکتے ہیں اور جس سے آپ جنگ جیت سکتے ہیں۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ کے یہاں بیگم کا ہونا لاکھ سوالات کے نرگے میں داخل ہونے کے مترادف ہیںگویا آپ ایک امتحانی مرکز میں موجود ہے اس کا نتیجہ پوچھے جانے والے سوال سے پہلے ہی آکو بتا دیا جاتا ہے اور یہ بتانے کا عمل بھی ایسا کہ آپ خوشی خوشی خود کشی کا من بنا لیتے ہیں دانائوں کا کارآمد قول ہے کہ بیگم ہزار طرح کے سوالات استفسار کرے ، وجہ تلاش کرے، بہانہ تلاش کرے تو آپ برداشت کریں خاموشی کے ساتھ تب کچھ بات بن سکتی ہے لیکن اگر آپ میں خاموش رہنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یا چپی لینے کا ہنر نہیں ہے تو آپ کو نکالا جائے گا ابلیس کی طرح اپنے گھر سے نہیں بلکہ دل کے ہر کونے سے تو آپ غالبؔ کا یہ شعر گنگناتے ہوئے خاموش ہو جائینگے۔ ؎
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں 
بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
غالبؔ
خاموشی اختیار کرنا خود میں ایک ہنر ہے عام فہم خیال ہے’’ جو لوگ خاموش رہتے ہیں وہ عقلمند ہوتے ہیں ‘‘ یعنی کبھی کبھار خاموشی آپ کو عقلیت کے درجہ تک پہنچاتی ہیں اور آپ لوگوں کی نظر میں فہیم بن جاتے ہیں ، دانا بن جاتے ہیں ۔ زیادہ بولنا بے وقوفی اور زیادہ سننا بھی عقلمندی سے تعبیر ہے ۔ جہان رنگِ و بو میں ہزار طرح کے لوگ رہتے ہیں کچھ لوگ وہ جو جاننے کے باوجود بھی خاموش رہتے ہیں اور کچھ لوگ وہ جو کچھ بھی نہ جاننے کے باوجود بھی بولتے رہتے ہیں ۔ آدمی کی زبان اور بول چال اس کی شخصیت کو سامنے لاتی ہے لیکن خاموشی آپ کی ذات کو ہزار پردوں کے اندر چھپا لیتی ہے اور یہ چھپا لینے کا عمل بھی خاصہ حوصلہ چاہتا ہے اگر آپ حوصلہ مند ہیں تو ہی اندر کی بات اندر ہی چھپا سکتے ہیں اور اگر آپ میں چھپا لینے کا حوصلہ بلند نہیں ہے تو آپ کی ذات کو عیاں ہونے کا خطرہ لاحق ہے ۔ یہ خطرہ نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اس خطرے کے اندر آپ کی ذات ، آپ کی شخصیت ،آپ کا وجود بھی فنا کی راہ لے سکتا ہے اس لیے مناسب ہے کہ بولنے سے قبل ہزار بار سوچیے اور سوچنے کے دوران ہر خیال بار بار قوت ممیز کی کسوٹی پر پرکھیں تو کی کلہم صحت کے لیے آپ کی گفتگو بہتر بن سکتی ہے ۔
کتوں کی خاموشی کو ہر گز نظر انداز نہیںکرنا چاہے خاموش کتنے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی دانائی کا تعلق کسی بھی طرح خاموشی سے نہیں ہے بلکہ ان کی تیز طراری کا اندازہ ان کے بھونکنے سے لگایا جا سکتا ہے کہ کس قدر وہ بھونکتے ہیں اور کس قدر وہ کاٹ سکتے ہیں۔ 
چرند پرندوں کی خاموشی تمام تر فضا اور ماحول سے متعلق ہے ۔ پرندے خاموش ہوئے تو ماحول اثر انداز ہو سکتا ہے ۔ گل و بلبل کی خاموشی باغ کی ویرانی کا منظربیان کر سکتا ہے ۔ کوئل خاموش رہی تو آدمی کی سماعت بے مزہ رہ جائے گی ۔ جگنو نے خاموشی اختیار کی تو رات کا حسین منظر پھیکا پڑ جائے گا۔ کوئے کی کاؤ کاوئی بند ہوئی تو نظارہ سانجھ شام کا اداس پڑ جائے گا اور یہ تمام الفاظ بے معنی ہو کر رہ جائینگے: ؎
جسے صیاد نے کچھ گل نے کچھ بلبل نے سمجھا 
چمن میں کتنی معنی خیز تھی اک خامشی مری
جگر  ؔ
جہاں محفل خاموشی کی ہو وہ خاموش رہنا علامت ہے ملال کی اور جہاں مجلس غم کی ہو وہاں خاموش نہ رہنا ہزار طرح کے معنی قائم کر اسکتا ہے جب آپ خاموشی سے لوگوں کو سنتے ہیں تو آپ پسند کئے جاتے ہیں لیکن جب آپ خاموشی سے لوگوں کو نہیں سنتے ہیں تو آپ ناپسند دیدہ شخص ہے۔ اقوال زریں بھی یہی ہے کہ سننا بولنے سے بہتر ہے ۔
خاموشی کی مختلف منزلیں ہو سکتی ہیں جیسے خود کی ذات پر قابو رکھنا، اللہ کی رحمت کا شاکر ہونا، مدابرانہ انداز برتنا، محبت سے سب کچھ سہنا، وارفتگی حاصل کرنا ، شجاعت کا مظاہرہ کرنا، خاموشی کبھی انسان کو بیمار بنا دیتی ہے اور کبھی بیمار انسان کو شفایاب کرتی ہے ۔ خاموشی آدمی کو کسب اختیار کرنی پڑی ہے اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ عاشق کی خاموشی نہایت لطیف اور مزیدار ہوتی ہے ۔ جس میں عجیب قسم کا وسوسے اور غم شامل ہوتے ہیں ۔ وہ وسوسے اس قدر حسین ہوتے ہیں جیسے کہ ہری گھاس پر شبنم کے قطرے، عاشق کا بدن پسینہ سے شرابور لاچاری کے عالم میں ہوتا ہے جہاں وہ تصورِ جاناں کو بار بار یاد کر کے خود کو بھروسہ دے رہا ہواور اپنے محبوب کی یادوں کو چادر بنا کر تان لیتا ہو اس طرح کہ وہ خود خاموشی کا ایک حصہٗ بن جاتا ہے ۔ 
خاموشی کی مختلف قسمیں ہیں جن میں زبان کی خاموشی ، دل کی خاموشی، آنکھ کی خاموشی، روح کی خاموشی وغیرہ شامل ہیں ۔ زبان کی خاموشی آپ کے صبر کی قوی سند ہے ۔ دل کی خاموشی کبھی جان بھی لے سکتی ہے اگر آدمی کا دل خاموش ہوا تو سمجھ لو صاحب ٹھنڈا پڑ گیا جس کی سند آنکھوں کی خاموشی عطا کر سکتی ہے ۔ آدمی کا دماغ جب خاموش رہتا ہے تو منظر ہی کچھ اور نظر آتا ہے وہ نیم زندہ اور نیم مردہ تصور کیا جاتا ہے مانو معلق کچھ اِس دنیا اور کچھ اُس دنیا میں رہتا ہے ۔ 
سب سے بہترین خاموشی رات یا شب کی خاموشی ہوتی ہے وہ خاموشی جب تمام دنیا کے لوگ خود سے بے خبر ہو کر یا تو کائنات کی تخلیق میں محو ہو کر گر پڑتے ہیں یا پھر بے خوابی کے عالم میں شیخ چلی کے منصوبے بُن رہے ہوتے ہیں ۔ بہرحال رات کی خاموشی کا عالم ہی نرالا ہوتا ہے ہر طرف سے سکوت ، خاموشی ، سناٹا چھایا رہتا ہے اور مطابق ماحول و فضا یا شمسی جدول اوقات کے حساب سے چاند کائنات میںروشنی بکھیر دیتا ہے وہ روشنی جو کسی کے ہونے کا پتہ دیتی ہے اور وہ پتہ کچھ لوگوں کے لئیے کوئی مقام رکھتا ہے اور کچھ لوگوں کے لئے کوئی مقام نہیں رکھتا ۔ جن لوگوں کے لئے مقام لامقام نہیں ہوتا ہے وہ خاموشی سے وہ مقام حاصل کرنے کا ہنر سیکھتے ہیں لیکن وہ حضرات جنھیں پتہ کا مقام لاحاصل معلوم ہوتا ہے وہ نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں اور یہ واپس لوٹنے کا عمل بھی خاصا دلچسپ ہوتا ہے جس میں آدمی حیران بھی رہتا ہے اور پریشان بھی تمنائے وائے شوق بھی رکھتا ہے اور نامرادی پر پشیمان بھی ہوتا ہے ۔ اگرچہ علم کے سمندر میں صاحب علم غوطہ زن بھی ہوچکا ہوتا ہے لیکن اس ہنگامے کی کیفیتیں یکسر بدل جاتی ہیں جس نے حصول علم کے خاطر خود سے بھی لڑائی باند ھ رکھی ہوتی ہے اور اپنوں سے تو کیا غیروں سے بھی اس ہنگامہ آرائی میں نکل جاتا ہے تو رات کا سنناٹا پن ، چاند تاروں کی خاموشی اور شب بھر تاروں کے چمکنے کا منظر زیر چرکھ یوں خاتون فلک کا روش و دل فریب نظارہ بس یو ں محسوس کراتا ہے کہ بقول شاعر     ؎
رنگ ردکار تھےہم کو تری خموشی کے
ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں
ناظر وحیدؔ
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ
علم کی انتہا ہے خاموشی
فردوس ؔگیابی