اور جموں نے انسانیت دکھائی

14؍  فروری ۲۰۱۹ ء کو پلوامہ سانحہ کے بعد جموں میں مخصوص حلقوں کی جانب سے پیداکردہ صورت حال میں خوف و ہراس،ظلم وتشدد،تعصب ومنافرت،فرقہ واریت،جان و املاک کے نقصان، اورآتش زنی کے واقعات کا منظرنامہ پوری دنیائے انسانیت نے دیکھا ۔ ناگفتہ بہ واقعات کے اس چکر پر ہر منصف مزاج اور امن پسند نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ریاستی انتظامیہ کے سامنے انسانیت سے عاری بعض شر پسند امن دشمنوں نے گجر نگر(جموں) میں سفاکیت ودرندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہوں کے مکانات کو نقصان پہنچایا،سینکڑوں گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی اور بعض ایک کو نذر آتش کیا، اور جب امن وقانون کے حالات قابو سے باہر ہوگئے تو پھر انتظامیہ کو مجبوراً پورے شہر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا،اور پوری ریاست میں انٹرنیٹ سروسز کو بھی معطل کرنا پڑا۔ اس دوران خوف وہراس کا ایسا الم ناک بلکہ شرم ناک ماحول پیدا کیا گیا کہ جموں میں بطور خاص اور پورے ہندوستان میں بالعموم موجود ہر کشمیری پر خداواسطے دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا،ان پر حملے ہوئے اور ہر کشمیری تعلیمی اداروں، دوکانوں ، دفتروں ، ہسپتالوں اور پبلک مقامات سے لے کر ہوٹلوں اور قیام گاہوں تک میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگا، انہیں شر پسند عناصر کی طرف سے دھمکیاں ملنے لگیں،مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم طلباء کو کالجز اور ہوسٹلوں سے نکالا بھی گیا۔اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد محفوظ ومامون مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ مختلف ریاستوں میں موجود طلباء، تاجرین، پھیری والوں اور سیاحوں نے سخت دباؤ اور خوف کے نتیجے میں چار وناچار اپنے وطن عزیز کا رخ کیا۔اسی طرح جموں شہر کے مختلف محلوں میںمقیم مسلمان بھی محفوظ مقامات میں جا چھپنے پر مجبور ہوئے۔
افراتفری ،شروفساد اور بد امنی کے خوف ناک ماحول میں ابتدائی مرحلے میں تمام درماندہ مسافروں، خوف زدہ افراد، بیماروں، بے سہاروں اور مظلوموں کے لئے جموں کا مسلم اکثریتی علاقہ بھٹنڈی ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوا، جہاں مکہ مسجد کی مسجد انتظامیہ نے خصو صاً اور پورے علاقے کے مکینوں نے عموماً درماندہ مسافروں  اور تحفظ کی تلاش میں تمام لوگوں کے لئے اپنے گھروں کے دروازے وا کردئے اور ان کے قیام وطعام اور سفر کے جملہ انتظامات کی ذمہ داریاں ایسی خوبی نبھائیں کہ جموں کے امن پسند عوام نے بالفعل انسانیت کی ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ مکہ مسجد کے علاوہ شہر کی مرکزی جگہ تالاب کھٹیکاں کی مرکزی جامع مسجد، راجندر بازار کی مسجد ابرہیم اور گجر نگر میں جماعت اسلامی صوبہ جموں کے کمپلیکس میں بھی درماندہ متاثرین کے لئے قیام وطعام کے لئے معقول انتظامات کئے گئے تھے۔ سب سے اہم اور قابل دید منظر وہ تھا جب سکھ برادری کی جانب سے درماندہ مسافروں کے لئے گردواروں کے دروازے کھول دئے گئے۔اُن کی طرف سے لنگر لگایا گیا اور پنجاب کے متعدد شہروں میں مختلف ریاستوں سے کشمیریوں کو لا لاکر انہیں جموں شہر پہنچانے کے لئے خصوصی بسوں اور گاڑیوں کا انتظام کیا۔سکھ برادری نے جس قابل قدرانداز میں خوف زدہ اور بے یارومددگارا فراد کی مدد کی ، وہ کہانی تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھی جائے گی۔
خوف وہراس اور وحشت و دہشت کے اس پورے ماحول میں تمام امن پسند افراد نے اپنے اپنے اعتبار سے نہایت قابل ستائش کردار ادا کیا ۔ان ہنگامی حالات میں بیس کیمپ کے طور پر مکہ مسجد کے کمپلیکس کو استعمال کیا گیا۔ مکہ مسجد کی انتظامیہ نے نہایت ہی خوش اسلوبی اور خندہ پیشانی کے ساتھ متاثرہ مہمانوں کے لئے ہر چیز کا معقول انتظام کیا۔مسجد انتظامیہ اور رضاکار نوجوانوں نے اپنی مصروفیات ترک کر کے اور اپنے آرام کو قربان کر کے جاں نثاری،فدا کاری اور ایثار وقربانی کی ایک نئی تاریخ رقم کر کے دکھا یا کہ آزمائش کی گھڑی آنے پر جموں کے خادمانِ انسانیت کسی سے کم نہیں۔ یہ بات بھی بصد اطمینان نوٹ کی گئی کہ جموں کے انسان دوست لوگوں نے جوق در جوق آگے آکر عدم تحفظ کے شکار کشمیری اور جموی مسلمانوں کے لئے رضاکاروں سے دل کھول کر تعاون کیا، کوئی نقدی رقم کی شکل میں تعاون پیش کر رہا تھا، کوئی کھانے پینے کی اشیاء پیش کرنے میں سعادت محسوس کررہا تھا، کوئی خوف زدہ گان کو محفوظ مقام تک لانے کے لئے گاڑیاں پیش کرنے سے مسرت پاتا تھا، کسی نے اپنا مکان پیش کر کے غریب الوطن لوگوں کو بے یارویاور ہونے کے احساس سے نکال باہر کیا، کوئی دہشت وخوف میں مبتلا افراد کے لئے کھانا تیار کررہا تھا، کوئی انہیں کھانا کھلانے کے لئے دستر خوان بچھا تھا اور کوئی انہیں حرف تسلی سے نفسیاتی پسپائی سے بچا رہا تھا ۔ گردونواح کی مساجد کے اہل ایمان نے بھی اپنی اپنی مساجد سے ہر ممکن تعاون پیش کیا،یہاں تک کہ بھٹنڈی کے مرکز المعارف مدرسے کے طلباء واساتذہ اور جمعیت طلبہ جموں وکشمیر کے اراکین ِ جموںنے بھی اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کیں،ہر ایک نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق متاثرین کے لئے اپنی خدمات پیش کر کے امن پسندی اور انسان دوستی کے اس قافلے میں شامل ہو کر انسانیت کا درس دیا اورخوف ودہشت کے ماحول میں امن وامان، ایثار ومحبت، قربانی وفداکاری اور بھائی چارے کا وہ ایمان افروز سماں باندھا کہ اس تعمیری جذبے کو الفاظ کے جامے میں ڈھالنا کرنا احقر کے بس کی بات نہیں۔
کوئی بھی درماندہ مسافر اور خوف زدہ شخص بٹھنڈی کے حدود میں داخل ہوتے ہی محسوس کر لیتا تھا گویا وہ اپنے گھر میں محفوظ مقام پر پہنچ چکا ہے، صبح سویرے سے ہی مسافروں اور متاثرین کی آمد شروع ہوجاتی تھی اور رات بھر یہ سلسلہ جاری رہتا ۔ اس سلسلے میں مقامی پولیس کا کردار بھی قابل قدر رہا کہ انہوں نے مطلوبہ حفاظتی انتظامات کے ساتھ درماندہ افراد اور متاثرین کو یہاں لانے اور یہاں سے لے جانے میں اپنی خدمات اور گاڑیاں چوبیس گھنٹے وقف کئے رکھیں۔روزانہ رات نو بجے بعد مسافروں کو وادی کشمیر کے مختلف اضلاع سمیت ڈوڈہ ، کشتواڑ، بانہال، رام بن، راجوری ، پونچھ ا ور دیگر مقامات کی جانب پولیس جمعیتوں کی نگرانی میں لے جایا جاتا، جس کے پاس کرایہ نہ ہوتا، اس کے لئے کرایہ کا انتظام کیا جاتا، بیماروں کے لئے دوائی کا انتظام کیا جاتا، بعض مسافروں کو راستے کے لئے کھانا پیک کر کے دیا جاتا۔ یہ سب وہ انسانی خدمات ہیں جو عصری تاریخ میں زریں الفاظ میں یاد کی جائیں گی۔ مکہ مسجد کے امام صاحب کے بقول افراتفری کے اس عالم میں بعض افراد کے پیسے گم بھی ہوئے تھے، ان کے لئے مطلوبہ رقم کا بھی اطمینان بخش انتظام کیا گیا،  نیز مسجد کی جانب سے روزانہ اوسطاً دو ہزار افراد کے کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا رہا، مکہ مسجد کی انتظامیہ نے متاثرہ لوگوں کی آسانی کے لئے اپنے فون نمبرات اخبارات اور مختلف ذرائع سے مشتہر کرائے تاکہ کوئی بھی کسی وقت ان سے رابطہ کر کے مدد حاصل کرسکے۔ مسجد انتظامیہ نے خود ہی ہر جگہ کے لئے کرایہ بھی متعین کرلیا تھا اور ٹکٹیں کاٹنے کی ذمہ داری بھی خود لے رکھی تھی تاکہ کسی سے کوئی زیادتی نہ ہو۔ خوش آئند بات یہ دیکھنے میں آئی کہ اس پورے عرصے میں جو بھی رضاکارانہ خدمات پیش کی گئیں وہ صرف انسانی بنیادوں پر پیش کی گئیں ، مسلم اورغیر مسلم کی کوئی تفریق یا قید کہیں نظر نہ آئی اور ہر مکتب ِفکر کے افراد یہاں ایک ساتھ جمع اور یکجا تھے ۔ا س فی اللہ وللہ کام میں تعاون کرنے والوں میں بھی ہر مکتب فکر نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تعاون حاصل کرنے والوں میں بھی ہر طرح کے لوگ تھے۔ مسجد انتظامیہ کی جانب سے بار بار اس کی وضاحت کی جاتی رہی کہ اس پورے خادمانہ کام کا کسی بھی سیاسی پارٹی یا کسی اور دنیوی مفاد سے کوئی براہِ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں ہے ، یہ کام صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ 
واضح رہے کہ جب پورے جموں شہر میں بد امنی ،فساد اور شر انگیزی کی وجہ سے کرفیو لگا ہوا تھا،تمام ادارے ،اسکول، تجارتی مراکز اور بازار بند تھے، ہر طرف ہو کا عالم تھا، افواہوں کا بازار بھی گرم تھا، ایسے میں بٹھنڈی امن کا گہوارہ بنا ہوا تھا، ہر خوف زدہ اور بے بس فرد بشر کا رُخ اسی جانب تھا، امن کے متلاشی اسی کو اپنے لئے جائے امن سمجھ رہے تھے اور یہاں کے امن پسند لوگ عملی طور پر بھی ہر کس و ناکس کو یہ راحت بخش پیغام بزبان حال دے رہے تھے کہ ہم سب انسانیت کے ناطے آپ کے خادم اور میزبان ہیں ، بے گناہوں پر ظلم وتعدی کے خلاف ہیں اور تمام شر پسند عناصر اور امن دشمنوں کا جواب دینے کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں،فرقہ پرست عناصر اور ظلم وعدوان کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم سب یک جٹ ہیں،ہر ایک اپنی استطاعت کے اعتبار سے اس قافلۂ امن میں شریک وسہیم ہوکر اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا چاہے تو اس کا خیر مقدم ہے، تمام امن پسند لوگ ان ہنگامی حالات میں آپسی روابط کو مضبوط ومستحکم رکھیں، ایک ساتھ رہنے کی کوشش کریں اور جب بھی کوئی نا خوش گوار صورت حال پیش آئے تو اُس وقت ہر منصف مزاج  اور انسان دوست شخص کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کمزور و بے نوا بھائیوں کی مدد کرنے کے لئے آگے بڑھے اور متحدہ طور پر کوشش کی جائے۔ا س پیغام ِ انسانیت نے اپنا کام کرکے پھر ایک بار دنیا کو دکھایا کہ انسانی قلب و ضمیر میں چھپا درد ِ دل اور مروت وہ لافانی جذبہ ہے جس پر انسانیت کی ساری عمارت استوار ہے اور جموں میں یہ فلک بوس عمارت مذہب و ملت کی حدبندی سے بالاتر اپنے پورے قدسے کھڑی ہے ۔
 اس صورت حال کا حق پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو دو متضاد تصویریں سامنے آتی ہیں: ایک تصویر دکھاتی ہے کہ کس طرح یہاں بعض فرقہ پرست عناصر موقعے کی تاک میں  بیٹھے ہیں کہ کب وہ انسانیت کو بالائے طاق رکھ کر قوم ومذہب کی بنیاد پر انسانیت کو نشانہ بنائیں۔اس کے لئے یہ منصوبہ بند اور منظم طریقہ سے کوشاں رہتے ہیں اور تعصب وتنگ نظری کی سیاہ عینک پہنے درندگی اورسفاکیت کی حدیں پار کر نے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔ ان سے کبھی کوئی اچھائی کی توقع رکھنا عبث ہے ۔ دوسری تصویر یہ خوش کن منظر دکھاتی ہے کہ جموں ہی ان امن پسند اور انصاف کے دلداے عوام کا مسکن ہے جو امن دشمنوں اور فرقہ پرست عناصر کی تمام ریشہ دوانیوں اور خصومتوں سے متاثر ہوئے بنا انسانیت کے جیالے ہیں ۔ انہوں نے اس بار بھی گمراہ ،بد باطن اور فتنہ پرور عناصرکو منہ توڑ جواب دیا کہ ہمارے نزدیک انسانیت اعلیٰ وبالا چیز ہے جس پر کسی مذہب، ملت یا نسل کی اجارہ داری نہیں ، جس سے ہر ایک کو زندگی میںکچھ اچھا کر نے کا سبق ملتا ہے ۔اس خوش نما تصویر میں اپنے عمل کا رنگ بھر کر انسانیت کے بہی خواہ لوگوں نے بہت کچھ دکھا یا،ا نہوں نے فرقہ اور طبقہ کی تقسیم سے بالاتر ہوکرجموں کے حالیہ واقعات کے دوران متاثرہ اہل وطن کے تئیں اپنی گراں قدر حسنِ کارکردگی اور انسانی اداؤں سے ثابت کیا کہ انسانیت ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئی ہے کہ اس کی کوکھ سے اب کسی اچھائی اور بھلائی کی پیدائش ممکن ہی نہ ہو  بلکہ خرابی ٔ بسیار کے باوجودابھی بلکہ ریاست میں ایسے جوان مرد موجود ہیں جو ظلم کے مخالفت میں اور مظلوم کی حمایت میںسد آ ہنی بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، جو ہنگامی  حالات میں کوئی بھی قربانی دینے میں پس وپیش کرنے والے نہیں۔اس تصویر کو مزید جاذبِ نظر بنانے کے لئے ضروری ہے جموں میں ایسے انسان دوست عناصر کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جا ئے بلکہ ان تما م انسان دوست لوگوں کو سماجی خدمات کا گلشن خلوص ومحبت اور ثابت قدمی کے پھولوں سے مزین کر نے کے لئے اپنے ہم خیال وسیع البنیاد انسانی اتحاد سے مر بوط کیا جائے تاکہ یہ مشک بار گلشن آگے بھی فرقہ پرستوں کے چلنجوںکا مقابلہ کر نے کے لئے منظم ومتحد ہو ۔ یاد رکھئے کہ فرقہ پرستی نے ووٹ کی سیاست میں اپنا جو ڈیرا ڈالا ہے ،اس لئے ان کی کوشش ہوگی کہ لوگوں کو مذہب ، مسلک، زبان ، نسل اور دوسری چیزوں کے گورکھ دھندے میں اُلجھاکر اپنامطلب نکالیں ۔ لہٰذا جموں میں انسان دوستی کی مشعل ہنگامی حالات میں فروزاں رکھنے والوں کو آگے بھی اپنا انسانی کردار اداکر نے کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔ بدیں وجہ ان کو چا ہیے کہ اپنے تمام انسانی اوصاف، جذبہ ٔمروت، خدمت انسانی کی جوت جگائے رکھ کر جموں اور کشمیر کے درمیان مثبت انسانی رشتوں کی نیو ڈالیں   ؎
نہیں ہے نومید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی
رابطہ :اسسٹنٹ پروفیسر(عربی) گورنمنٹ ڈگری کالج ،ڈوڈہ