اوآئی سی کشمیر مسئلہ پر اپنا موثر رول ادا کرے

سرینگر// حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف الاعتمین کے نام ایک مراسلے میں جواو آئی سی وزرائے خارجہ کے’کشمیر رابطہ گروپ‘‘،جس میں پاکستان ، سعودی عرب ، ترکی، نائجر اور آئیوری کوسٹ کے وزرائے خارجہ شامل ہیں کے44 ویں اجلاس کے دوران حریت اے جے کے  چیپٹر کے کنوینر سید فیض نقشبندی نے پڑھا ،کے دوران او آئی سی ممبران کا کشمیریوں کی حق خود ارادیت کیلئے حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ میرواعظ نے کہا کشمیری عوام پچھلے 7 دہائیوں سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی طرف سے پاس شدہ قرار دادوں کے تحت حاصل حق خود ارادیت کے حق کے استعمال کیلئے لگاتار جد وجہد کر رہے ہیںاور اسکے لئے آج تک مال وجان کی بڑی قربانیاں دی ہیں۔چونکہ میرواعظ خانہ نظر بند ہیں اور حکومت نے انہیں سفری دستاویزات اجراء نہیں کی ہیں جس وجہ سے وہ ذاتی طور مذکورہ کانفرنس میں شرکت سے قاصر رہے۔ میرواعظ نے کہا کہ جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے جائز حقوق اور ہماری خواہشات و احساسات کو ہندوستانی فورسز بزور طاقت دبانے میں مصروف ہیں یہاں تک کہ ہمارے بنیادی انسانی حقوق کو بھی سلب کیا گیا ہے ، کسی بھی احتجاج پر تشدد ، سیاسی لیڈروں اور کارکنان کی نظر بندی بار بار مزاحمتی قیادت بشمول میرے کو خانہ نظر بند رکھنے، آئے روز کرفیو و قدغنوں کا نفاذاورانٹرنیٹ پر پابندی کشمیر میں ایک معمول بن گیا ہے۔ انہوں نے 2016 کی عوامی تحریک کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے مراسلے میں کہا کہ اس عوامی تحریک کے دوران 120 نہتے افراد کو جاں بحق کیا گیا سینکڑوں کی تعداد میں پیلٹ فائرنگ کے ذریعے لوگوں کی بینائی یا تو جزوی طور یا مکمل طور پر چھین لی گئی۔ تقریباً18 ہزار لوگ زخمی کئی گئے جن میں سے درجنوں ناکارہ ہوئے۔ میرواعظ نے کہا کہ پیلٹ گن کے استعمال سے یہاں کے نہتے عوام کو بینائی سے محروم کرنا اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ دنیا کے مشہور اخبار ـ’نیویارک ٹائمز‘ نے اس سال کو ـ"Dead Eyes in Kashmir" کا نام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2017 میں آج تک سرکاری فورسز کی طرف سے 55 نہتے افراد کو جاں بحق کیا گیا اور گولیوں اور پیلٹ کے ذریعے سینکڑوں کو زخمی کردیا گیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بلاجواز گرفتاری اور املاک کی تباہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ میرواعظ نے کہا یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ حکومت ہندوستان کشمیر کی زمینی حقائق سے چشم پوشی کر رہی ہے اور اس کے سیاسی محرکات و انسانی پہلو کو نظر انداز کرکے صرف ظلم و تشدد اور دھونس دبائو کے ذریعے مسئلے کو دبانا چاہتی ہے۔میرواعظ نے اپنے مراسلے میں کہا کہ جموں کشمیر کے عوام نے او آئی سی کے ممبر ممالک کی طرف سے کشمیریوں کے حق کی حمایت کو ہمیشہ قدرکی نگاہ سے دیکھا ہے اور اسکے لئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر او آئی سی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیری عوام کو درپیش موجودہ مشکل اور تکلیف دہ صورتحال سے نکالنے کیلئے سامنے آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی حکومت ہندوستان کو متاثر کن انداز میں واضح کریں کہ وہ کشمیریوں پر ظلم و تشدد بند کریں، اُن کو حق خود ارادیت کے استعمال کا موقعہ دیں اور پاکستان اور کشمیری عوام کیساتھ بامعنی مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں تاکہ اس دیرینہ مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے تاکہ پوری جنوبی ایشائی خطے میں پائدار امن ، سلامتی اور ترقی یقینی بن سکے۔