انہدامی کارروائی کیخلاف سنجواں جموں میں پُرتشددمظاہرے

 جموں//جموں کے سنجوان علاقہ میں اُسوقت جموں میونسپل کارپوریشن کے دو ڈرائیور اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے اوردو جے سی بی کے علاوہ ایک پولیس گاڑی کونقصان پہنچا ،جب یہاں مبینہ طورغیرقانونی طورپرتعمیر کی گئی عمارات کومنہدم کرنے کی کارروائی شروع کی گئی ۔ معلوم ہواکہ جموں میونسپل کارپوریشن کی انہدامی ٹیم جب پولیس کے ہمراہ یہاں مبینہ طور غیر قانونی طریقے سے تعمیر کی گئی عمارات کومنہدم کرنے کیلئے پہنچی توبڑی تعدادمیں مقامی لوگ یہاں جمع ہوئے اورانہوں نے جی ایم سی اہلکاروں اورپولیس پرسنگباری شروع کردی ۔جموں میونسپل کارپوریشن کی کمشنر انوے لواسا نے کشمیرعظمیٰ کوبتایا کہ ’’جے ایم سی سے اجازت نامہ حاصل کئے گئے بغیر علاقہ میں 14عمارات پر غیر قانونی کام چل رہاتھا۔ہم نے خلاف ورزی کرنے والوںکونوٹس جاری کرکے مزید کام بند کرکے غیر قانونی ڈھانچے از خود منہدم کرنے کیلئے کہاتھا۔چونکہ انہوںنے از خود ڈھانچے منہدم نہ کئے تو ہمارے لئے ایسا کرنا ناگزیر بن چکاتھا‘‘۔انہوںنے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی ٹیم ان ڈھانچوںکو منہدم کرنے جارہی تھی جب ان پر حملہ ہوا۔ہم ان لوگوںکے خلاف کیس درج کرائیں گے جنہوںنے ٹیم پر حملہ کیا۔ہمارے دو جے سی بیز پر حملہ ہوا اور دونوں ڈرائیور زخمی ہوگئے ہیں۔ان کا مزید کہناتھا کہ کووڈ لاک ڈائون کے دوران بہت سارے لوگوںنے اجازت ناموںکے بغیر ہی عمارات بنائی ہیں۔ ایس ڈی پی ائوجموں ایسٹ وکرم کمار نے نامہ نگاروںکوبتایاکہ سنجوان علاقہ میں رونماہوئے پُرتشددواقعے میں جے ایم سی کے دو ڈرائیورزخمی ہوگئے۔انہوںنے ساتھ ہی بتایاکہ پتھربازی کی وجہ سے جی ایم سی کی دو جے سی بی اورپولیس کی ایک گاڑی کوبھی نقصان پہنچا۔ایس ڈی پی ائوکامزیدکہناتھاکہ غیرقانونی طورپر تعمیر کئے جارہے ایک شاپنگ کمپلیکس کومنہدم کرنے کیلئے وہاں گئے جی ایم سی کے افسروملازم اورپولیس اہلکار تشددبھڑک جانے کے بعدواپس لوٹ آئے ۔انہوںنے کہاکہ کچھ لوگوںنے تب سنگباری شروع کردی جب جی ایم سی کی ٹیم اورپولیس اہلکار ابھی راستے میں ہی تھے ۔انہوںنے کہاکہ اب وہاں حالات قابومیں ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ نو آباد سنجواں میں علی الصبح پولیس کی بھاری جمعیت کو دو جے سی بی مشینوں سمیت آتے ہوئے دیکھا تو لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوںنے پولیس او ر جے ایم سی ٹیم کو روک لیااور دو بدو جھڑپیں شروع ہوئیں۔مشتعل لوگوںنے پولیس اور جے ایم سی ٹیم پر سنگبازی کی جس کی وجہ سے انہیں پسپا ہونا پڑا۔بعد میں سیول انتظامیہ کی مداخلت سے حالات کو قابو میں لایاگیا۔