انگریزی کے بھوت سے آزادی

 انگریز سے انگریزی نکلی ہے اور جو حسین شئے انگریز کے سازشی ذہن سے نکلے گی بھلا اُس میں مکاری کی صاف صاف چمک شامل کیوں نہ ہو گی اور درویش صفت مسلمان اپنی سادہ لوحی کا بھرم رکھتے ہوئے انگریزوں کی ظاہراً صاف ستھری انگریزی پر اتنا فریفتہ ہورہے ہیں کہ اس کی مکاری کی چمک ان سادہ دلوں کی آنکھوں سے ہمیشہ اوجھل ہی رہی ۔اگر یقین نہ آئے تو ہسٹری کے اوراق پلٹئے، معلوم ہوگا کہ ایک دن جب یہ گورے مچھلیاں کی تلاش کرتے کرتے ہندوستانی بندرگاہ تک آپہنچے تو اُس زمانے کے مسلمان بادشاہوں کو اپنی چکنی چپڑی انگریزی سے اتنا مرعوب کر گئے کہ وہ بے خودی کے عالم میں ان کو فائدہ مند بھکاری سمجھ کر اپنے ملک میں انہیں تجارت کرنے کی اجازت دے گئے۔ہندوستان کی چمک دھمک دیکھ کریہ مکار بھکاری مالک بننے کے سپنے دیکھنے لگے اور چند ہی برسوں کے اندر اندر ان شائیلاکی ذہن سوداگروں نے اپنے تجارتی نشان یعنی مکاری کا استعمال کرتے ہوئے تمام سلطنت پر قبضہ جما کر اپنے ہی آقاؤں کو دردر کی بھیک مانگنے پر مجبور کردیا۔          
   انہی عیاروں کی شستہ زبان انگریزی بولنے کا بھوت میرے سر پر بچپن ہی سے سوار تھا اور یہ بھوت عمر بھر میرے سر پر سواری کرتا رہا‘کیونکہ میں کبھی بھی انگریزی نہیں سیکھ پایا۔اول سے دسویں تک سرکاری اسکول میں تعلیم پائی۔ آپ کو تو معلوم ہوگا کہ سرکاری اسکولوں میں دسویں جماعت تک انگریزی کے سوا تمام کتابیں اردو میں ہوا کرتی تھیں اور انگریزی بھی ایسی کہ میٹرک تک ہم صرف اے فار ایپل اور بی فار بال تک پہنچ پاتے تھے۔میں پہلے ایک پر ائمری اسکول میں پڑھتا تھا۔اسکول بھی کیا تھا وہ تو گاؤں والوں نے ایک غریب کے مویشی خانے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ ایک حصے میں انسانی نسل کی ذہنی پرورش ہوتی تھی اور دوسرے حصے میں حیوانی نسل فروغ پارہی تھی۔ایک دن جب تعلیم کا کوئی افسر اسکول کا انسپکشن کرنے کی غرض سے ہمارے اسکول میں داخل ہوا تو نیم اندھیرے میں وہ حیوانوں کے کمرے میں داخل ہوا اوراندھیرے میں وہ جونہی آگے بڑھا تو ایک بیل نے اُسے اپنے سینگ پر اٹھا کر اسکول کے کمرے میں پھینک دیا۔وہ جب انگریزی میں کچھ بڑ بڑانے لگا تو ماسٹر جی سمجھ گئے کہ یہ ضرور افسر ہوگا اور وہ دوڑ کر اُسے سہارا دینے لگا۔
میں جس اسکول میں پڑھتا تھا وہاں کی پانچ جماعتیں ایک مڈل پاس ٹیچر کے حوالے سرکار نے کی تھیں اور خوش قسمتی سے اُس کو بھی اتنی ہی انگریزی آتی تھی جتنی کہ ہم لوگوں کو۔ایک دن وہ ہماری جماعت کے بلیک بورڈپر How کا لفظ لکھ کر بولنے لگے کہ اگر انگریزی سیکھنی ہے تو پہلے How کا تلفظ سیکھو۔ تلفظ سمجھا کر وہ کہنے لگا کہ تم لوگ آج دن بھر کلاس میں صرف اس ’’ہَو‘‘ کی گردان اونچی اونچی آواز میں کرتے رہوگے۔ہم نے بھی ماسٹر جی کے سامنے ہی’’ ہَوہَو‘‘ کی گردان اس امید پر شروع کردی کہ اب دن بھر ماسٹر جی کی مار نہیں کھانا پڑے گی۔ہم مستی کے عالم میں ’’ہَو ہَو‘‘ کا شور مچا رہے تھے اور گاؤں کے آوارہ کتوں نے ’’ووں ووں‘‘ کرتے ہوئے اسکول کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ہم بھی خوش ہوئے اور ماسٹر جی بھی پتہ نہیں کس گھر میں تمباکو پینے کے لئے چلے گئے تھے، اس لئے ہم بھی اسکول کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر کتوں کے ’’ووں ووں ‘‘کا جواب ’’ہَو ہَو‘‘ سے دیتے رہے۔اس ’’ہَو ہَو‘‘ سے ہم نے اُس وقت فراغت پائی جب گاؤ خانے کا غریب مالک ہائے میرے بھیڑ ہائے میرے بھیڑ! کرتے ہوئے ہمیں ڈنڈے سے پیٹنے لگا کیونکہ کتے ووں ووںکرتے ہوئے مویشی خانے کے اندر گُھس گئے تھے اور اُس کے بھیڑوں پر حملہ کر کے ان کی بوٹی بوٹی کر ڈالی تھی۔
میں جب چھٹی کے بعد گھر میں ’’ہَو ہَو‘‘ کرتے ہوئے داخل ہوا تو میرے دادا جان گھر کی دوسری منزل میں سوئے ہوئے تھے ۔میرا ’’ہَو ہَو‘‘ سن کر وہ پریشانی کے عالم میں ڈنڈا ہاتھ میں اٹھا ئے نیچے آئے اور ’’کہاں ہے کتا ‘ کہاں ہے کتا؟‘‘ کہتے ہوئے سارے گھر کو چھان مارا ۔جب اُسے کہیں بھی کتا نظر نہیں آیا تو وہ مجھ سے پوچھنے لگا کہ کہاں ہے کتا؟ تو کیوں گھر سے کتا بھگانے کی آواز نکال رہا تھا ؟ یہ سنتے ہی میں ہنس کر بولا کہ دادا جان! میں انگریزی پڑھ رہا تھا، آج ماسٹر جی نے ہمیں اسکول میں انگریزی پڑھائی۔ یہ سنتے ہی داداجان بول پڑے کہ تمہارے اُس اَن پڑھ ماسٹر کو تو خود یہ’’ اُونگریزی‘‘ نہیں آتی تمہیں کیا خاک ’’اُونگریزی‘‘ پڑھائے گا ۔وہ آٹھ پاس ماسٹر آج بھی کسی باغ کی رکھولی کرتا ہوتا اگر میں نے منسٹر صاحب سے اُس کی نوکری کے لئے منت سماجت نہ کی ہوتی۔
ہمارے علاقے میں دو دیہات کے درمیان ایک ندی بہتی تھی ۔علاقے کے لوگوں کی دیرینہ مانگ کا خیال رکھتے ہوئے سرکار نے ندی کے اوپر ایک چھوٹا سا پل تعمیر کروایا ۔ متعلقہ محکمہ کے کاغذی ریکارڈ کے مطابق پل کی تعمیر پر لاکھوںروپے خرچ ہوئے تھے ۔ تعمیر شدہ پل پر پہلے منسٹر کے قدم پڑنے لازمی تھے۔ ایک دن جب ایک منسٹر صاحب کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکمے کے افسران بھی ٹھیکیدار سے پل پر صرف شدہ رقم کا حساب کتاب کر کے پل کو الوداعی سلام کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے تو علاقے کے لوگوں کے سامنے اسٹیج پر منسٹر صاحب نے انگریزی میں اپنے فلاحی اور تعمیراتی کارناموں کی روداد بیان کرنا شروع کردی۔لوگوں کے پلے اگرچہ کچھ بھی نہیں پڑتا تھا تو بھی وہ مسکراتے ہوئے کبھی کبھی تالیاں بجایا کرتے تھے اور منسٹر صاحب تقریر کے دوران پیارے ووٹرواور پل کا لفظ بار بار دہرارہا تھا ۔ لوگوں میں منسٹر کا ایک اَن پڑھ چمچہ میرے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ پل کا لفظ سنتے ہی بندر کی طرح اچھلتے منسٹر صاحب زندہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیتا تھا ۔ میں اُس کی اُچھل کود دیکھ کر محسوس کر رہا تھا کہ منسٹر نے شاید اُسے کہا ہے کہ جتنی بار تو پل کا نام سن کر نعرے لگائے گااتنے ہی گُل تیرے اوپر پھینکو ں گا ۔ایک مرتبہ جب وہ پل کے بدلے بُل کے لفظ پر اُچھل پڑا تو میں نے اُسے پوچھا کہ او منسٹر کے بُل! اس وقت تو منسٹر کی زبان سے پُل کا نہیں بُل کا لفظ نکلا تو توکس خوشی میں اُچھل پڑا۔ویسے مجھے ایک بات بتا کہ جب ہم میں سے کوئی پڑھا لکھا آدمی بھی منسٹر کی انگریزی تقریر صحیح طرح سے نہیں سمجھ پارہا ہے تو گنوار ہونے کے باوجود کس بناء پر زندہ باد زندہ باد چِلا رہا ہے ۔مجھے تو اس پُل کی مضبوطی پر بھی شک ہو رہا ہے ۔ یہ سن کر وہ مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ گھورتے ہوئے بھیڑ کی دوسری جانب چلا گیا۔
بہر حال منسٹر صاحب جب پُل پر قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھنے لگے تو افسروں اور ورکروں کی ایک بڑی جماعت ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پُل کی دوسری جانب نعرے لگاتے ہوئے پہنچ گئی۔ اب منسٹر کو وآپس لانے کے لئے ان کی سرکاری گاڑی پُل سے گزرنے لگی۔ گاڑی جونہی پُل کے بیچوں بیچ پہنچ گئی تو یہ مضبوط پُل گاڑی کو عزت کے ساتھ اپنی گود میں بٹھاکر ندی کی گہرائی میں نہانے کے لئے ڈوب گیا۔ ٹھیکیدار یہ بھونچال زدہ منظر دیکھ کر سر پٹ گھوڑے کی طرح بھاگنے لگا اور لوگ پتھر پھینکتے ہوئے اُس کے پیچھے دوڑ پڑے۔منسٹر کا وہ زندہ باد کرنے والا چمچہ جب پولیس گاڑی کے نیچے چھپ گیا تو میں اُسے لاتیں مار مار کر پوچھنے لگا کہ منسٹر کے بُل! تو کیوں ہر پُل پر نعرے لگا رہا تھا۔ منسٹر کو اگلے الیکشن تک ندی کے اُس پار بیٹھنا پڑتا اگر رات کے اندھیرے میں اس کے وظیفہ خوار چمچوں نے اُسے بھینس پر بٹھا کر وآپس نہ لایا ہوتا ۔
دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میں کئی بار انگریزی کے جِن سے زور آزمائی کرتا رہا لیکن ہر بار ناکامی کو اپنا نصیب سمجھ بیٹھا ۔ خیر اس زبان سے اس وقت میرا بھر پور آمنا سامنا ہوا جب میٹرک کا انگریزی پرچہ امتحان حال میں ایک اجنبی شئے کی طرح بورڈ والوں نے میرے سامنے پھینک دیا۔ میں نے جب کئی مرتبہ اس پرچے پر اوپر سے نیچے تک نظروں کے تیر چلائے تو کہیں پر بھی مجھے اپنے جانے پہچانے لفظ جیسے ایپل ، بال ،اور ہَو نظر نہیں آئے ۔میں جب اپنے گمشدہ لفظوں کا غم اپنے دوسرے ساتھی سے بانٹنے لگا تو وہ بول پڑا کہ اس وقت تم جوابی کاغذ پر وہی صاف صاف لکھو جو سوالی پرچے پر لکھا ہوا ہے ۔میں نے بغیر الجھے اُس کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے وہی الفاظ من وعن صاف صاف جوابی کاغذ پر لکھ ڈالے اور قسمت نے اتنا زور لگایاکہ رزلٹ میں دوسرے پرچوں کے ساتھ ساتھ انگریزی کا پرچہ بھی امتیازی نمبرات کے ساتھ پاس ہوا تھا ۔ میں نے جب یہ خوش خبری دادا جان کو سنائی تو وہ خوش ہو کر بولا کہ اب تمہیں مزید پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے‘ اب تم چٹھی بھی پڑھ سکتے ہو اور زمین کے کاغذات بھی دیکھ سکتے ہو ۔باقی رہا سوال تیری نوکری کا تو وہ تو میں منسٹر سے تجھے ضرور دلوادوں گا۔ یہ سن کر میں خوشی سے جھوم اٹھا کہ چلو اب تو انگریزوں کے اس انگریزی بھوت سے آزاد توہوگیا۔
وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221
cell;7006544358