انڈین میڈیکل ریسرچ کی دوسری سروے رپورٹ

 سرینگر //انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی جانب سے ملکی سطح پر کورونا وائرس متاثرین کی صحیح تعداد کا پتہ لگانے کیلئے جون2020  میں شروع کئے گئے سروے کے دوسرے مرحلے میں پلوامہ ضلع میں27.3فیصد لوگوں میں کورونا وائرس مخالف اینٹی باڈیز موجود ہیں جبکہ 72.7میں اینٹی باڈیز موجود نہیں پائے گئے اس طرح انہیں کورونا وائرس ہونے کا زیادہ احتمال ظاہر کیا گیا ہے۔اسی وجہ سے پچھلے3ماہ کے دوران ضلع میں 25.3فیصد افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ سروے کے دوسرے مرحلے میں 413افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں  113افراد میں کورونا وائرس مخالف اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ پورے بھارت میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے افراد کی صحیح جانکاری حاصل کرنے کیلئے مئی 2020میں شروع کئے گئے’’ نیشنل سیرو سرولنس‘‘ کے دوران 60اضلاع اور 10انتہائی حساس علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں اینٹی باڈیز کی موجودگی کا پتہ لگانے کیلئے شروع کی گئی سروے کے دوسرے مرحلے میں 413افراد کے نمونوں میں سے 300میں کوئی اینٹی باڈیز موجود نہیں تھے۔دوسرے مرحلے کی سروے کے دوران جنوبی ضلع پلوامہ میں 27.3فیصد لوگوں میں کورونا وائرس مخالف اینٹی باڈیز موجود تھیں جبکہ جون میں سروے کے پہلے مرحلے کے دوران محض 2فیصد افراد میں اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلرام بھارگھو  کی ہدایت پر کشمیر میں سروے کی ذمہ داری گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ کیمونٹی میڈیسن کو دی گئی تھی۔ شعبہ کیمونٹی میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلیم خان نے بتایا ’’ شعبہ کی ایک خصوصی ٹیم نے پرنسپل کی ہدایت پر پلوامہ جاکر سروے کا انعقاد کیا ‘‘۔ڈاکٹر  خان نے بتایا ’’ 413افراد میں سے سب سے زیادہ عمر 75سال تھی اور اس عمر کے 4افراد نے سروے میں حصہ لیا جن میں 3مرد اور ایک خاتون شامل ہے‘‘۔ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ سروے میں سب سے کم عمر 11سالہ بچی نے بھی حصہ لیا‘‘۔ڈاکٹر خان نے بتایا کہ مرکزی سرکار نے کشمیر میں پلوامہ ضلع کو سروے کیلئے منتخب کیا تھا اور یہاں پہلے مرحلے میں صرف 2فیصد افراد میں اینٹی باڈیز موجود تھیں‘‘۔  پلوامہ کے شار شالی نامی گائوں میں46افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 39منفی جبکہ 7کی رپورٹیں مثبت آئیں اور اسطرح گائوں میں 15.2افراد میں کورونا وائرس مخالف اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ نور پورہ ترال میں 40افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 33منفی جبکہ 7کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں اور اسطرح گائوں میں 17.5فیصد افراد میں اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ ڈار گنائی گنڈ نامی گائوں میں سے40افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 32منفی جبکہ 8افراد میں اینٹی باڈیز کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔  چری بگ نامی گائوں میں 40افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 24منفی جبکہ16افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں اور اسطرح گائوں میں40فیصد لوگوں کو کورونا وائرس مخالف اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ رتنی پورہ میں 41افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 29منفی جبکہ12افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں اور اسطرح 29.3فیصد افراد میں کورونا مخالف اینٹی باڈیز موجود تھیں‘‘۔گڈورہ نامی گائوں میں41افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 25منفی جبکہ 16افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں اور یہاں39فیصد افراد میں اینٹی باڈیز موجود ہیں‘‘۔ سب سے زیادہ سونہ سانبل ٹکن پلوامہ نامی گائوں میں 40افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے19افراد کی رپورٹیں منفی جبکہ 21افراد کے خون کے نمونے میں کورونا وائرس مخالف اینٹی باڈیز موجود تھیں اور اسطرح یہاں سب سے زیادہ52.5فیصد لوگوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیگام شوپیان نامی گائوں میں40افراد میں سے 39کی رپورٹ منفی جبکہ ایک کے خون میں اینٹی بانڈیز کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔  لتر شتر پلوامہ نامی گائوں میں 45افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 26منفی جبکہ 19افراد میں کورونا وائرس متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے‘‘۔ترال وارڈ نمبر 3میں 40افراد کے نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 34افراد منفی جبکہ 6افراد کی رپورٹیںمثبت آئیں اور اسطرح گائوں میں 15فیصد افراد میں اینٹی باڈیز موجود تھیں۔