انڈونیشیا میں زلزلہ اور سونامی : مرنے والوں کی تعداد800 سے زائد

جکارتہ//انڈونیشیا میں 2 روز قبل آنے والے ہیبت ناک زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 8 سو سے تجاوز کرگئی ہیں جبکہ ان میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق انڈونیشیا کے صدر جوکو وِدودو کا قدرتی آفت کے بعد کہنا تھا ’سونامی کے بعد بحالی سے متعلق ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے جو ہمیں جلد ازجلد پورے کرنے ہیں لیکن حالات ہمیں اس کی اجازت نہیں دے رہے‘۔نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے مطابق جزیزہ سولاویسی کے شہر پالو میں زلزلے اور سونامی سے 832 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ڈونگ گالا کے علاقے میں 11 افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈزاسٹر ایجنسی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’سونامی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ اکثر لوگ تاحال ملبے تلے دبے ہیں۔‘ڈزاسٹر ایجنسی کے ترجمان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ طبی وجوہات کی بنا پر پالو میں سونامی سے ہلاک ہونے والے 832 افراد کی اجتماعی تدفین کی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ سونامی کے وقت شہر میں 61 غیر ملکی بھی موجود تھے جن میں سے جنوبی کوریا کا ایک شہری ہوٹل کے ملبنے تلے دبا ہوا ہے اور دیگر 50 بھی اسی علاقے میں ملبے کے نیچے ہیں جبکہ ملائیشیا کا ایک اور فرانس کے 2 سیاح بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سونامی کی وجہ سے ڈونگ گالا سمیت جزیرے کے دیگر علاقوں میں روابط معطل ہیں، اس وجہ سے ان علاقوں سے اطلاعات موصول نہیں ہورہیں۔یاد رہے کہ 28 ستمبر کو وسطی انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں زلزلہ آیا تھا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5 ریکارڈ کی گئی، اور یہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ کئی کلومیڑ دور علاقوں میں موجود افراد نے بھی اس کے جھٹکے محسوس کیے تھے۔زلزلے سے سب سے زیادہ شہر پالو متاثر ہوا جس کی آبادی ساڑھے 3 لاکھ کے لگ بھگ تھی، بلند عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ کئی گھر مکمل طور پر زمین بوس ہوگئے، سونامی کے بعد بھی سمندر میں 5 فٹ بلند لہریں اٹھتی رہیں اور شہر میں داخل ہوئیں۔ انڈونیشیا کے صدر جوکو وِدودو کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امداد کی کارروائیوں کے لیے فوج کو طلب کرلیا گیا تھا جس کے بعد فوج نے طیاروں کے ذریعے امدادی اشیا دارالحکومت جکارتا سے متاثرہ علاقوں میں پہنچانی شروع کردیں۔اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے موسمیاتی اور جغرافیائی ادارے کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ زلزلے کے بعد ہر جانب افراتفری کا عالم ہوگیا، لوگ سڑکوں پر دوڑ رہے تھے جبکہ عمارتیں گر رہی تھی، سونامی کی لہروں کے ساتھ ایک بحری جہاز بھی بہہ کر ساحل پر آگیا تھا۔گزشتہ ماہ انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے لومبوک میں آنے والے زلزلے سے 91 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے اور متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں تھیں۔ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7 تھی جو 10 کلومیٹر زیر زمین آیا تھا جبکہ 2 درجن جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔سال 2010 میں بھی انڈونیشیا کے جزیرے سماترا میں سونامی کے باعث 4 سو 30 اور جاوا جزیرے میں 600 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یاد رہے کہ 26 دسمبر 2004 کو دنیا میں ریکارڈ کیے گئے سب سے بڑے زلزلوں میں سے زلزلہ انڈونیشیا کے ساحل کے قریب آیا تھا جس سے جنم لینے والی سونامی کی خطرناک لہریں بحرِ ہند کے ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو بہا لے گئی تھیں۔یہ سونامی کی خطرناک لہریں ملائیشیا، تھائی لینڈ، برما اور بنگلہ دیش سے ہوتی ہوئی چند گھنٹوں میں سری لنکا اور بھارت تک پہنچ گئی تھیں۔ ریکٹر سکیل پر 9.1 شدت کے زلزلے اور اس کے بعد دیوہیکل لہروں کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کی وجہ سے کم از کم 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔