انٹرنیٹ و ریل خدمات معطل

سرینگر // لشکر طیبہ کے چیف کمانڈر ابو دوجانہ کی اپنے ایک ساتھی سمیت سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہوئی ہلاکت کے بعد تمام مواصلاتی کمپنیوں بشمول سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل کی موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل کردیا گیا ہے ۔جبکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے بدھ کو وادی میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے ادھر کشمیر یونیورسٹی نے  بھی2اگست کو ہونے والے تمام امتحانات کو ملتوی کر دئے ہیں ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو احتیاطی اقدام کے طور پر اگلے احکامات تک کیلئے معطل کیا گیا ہے‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا اگرچہ انتظامیہ نے منگل کی صبح صرف جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل کی تھیں، تاہم بعدازاں ابودوجانہ کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے مختلف حصوں میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھنے کے پیش نظر پوری وادی میں یہ خدمات دوپہر قریب بارہ بجے منقطع کی گئیں۔ براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کو تاہم معطلی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی طور پر سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔اس دوران صوبائی انتظامیہ نے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر بدھ کو وادی میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے ۔صوبائی کمشنر کشمیر بصیر خان نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر احتیاطی طور پر بدھ کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران حساس علاقوں میں بندشیں عائد رہیں گئی ۔اس دوران معلوم ہوا ہے تعلیمی اداروں کوبندرکھنے کیساتھ ساتھ کشمیروادی کے حساس علاقوں میں دفعہ144کے تحت بندشیں بھی عائدکی جاسکتی ہیں ۔اس دوران یونیورسٹی نے آج یعنی 2اگست کو ہونے والے تمام امتحانات کو بھی ملتوی کر دیا ہے ۔یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا کہ 2اگست کو کشمیری یونیورسٹی کی طرف سے لئے جانے والے تمام امتحانات کو ملتوی کر دئے گے ہیں کیونکہ ہڑتال کی وجہ سے طلاب کو ٹرانسپورٹ کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کیلئے اگلی تاریخوں کا علان بعد میں کیا جائے گا ۔ادھربڈگام اور بانہال کے درمیان چلنے والی ریل خدمات بھی منگل کو مسلسل تیسرے دن بھی معطل رہیں۔ یہ خدمات اتوار کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ٹہاب میں ایک مسلح تصادم کے دوران دو جنگجوؤں کی ہلاکت کے تناظر میں تشدد بھڑک اٹھنے کے خدشے کے پیش نظر معطل کی گئی تھیں۔اگرچہ ریلوے حکام کے مطابق ان خدمات کو منگل کے روز بحال کیا جانا تھا، لیکن ضلع پلوامہ میں منگل کی صبح ایک اور مسلح تصادم میں مزید جنگجوؤں کی ہلاکت کے پیش نظر ریل خدمات کو بدستور معطل رکھا گیا۔ تاہم بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان ریل گاڑیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔