’انٹرنیشنل کشمیر زعفران سنٹر‘ صرف سیر سپاٹے کی جگہ نیشنل زعفران مشن بے سود ثابت،128میں سے70بورویل تیار لیکن خستہ

سید اعجاز

پانپور//پانپور علاقے میں زعفران کے کھیتوں کی سنچائی کیلئے زعفران مشن کے تحت کھریو،پانپور ،لتہ پورہ اور دیگرچندمقامات پر128بورویل تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی تھی لیکن کئی سال گزر جانے کے باجود اب تک صرف 70کے قریب بورویل کی تعمیر مکمل ہوسکی ہے۔مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ ان70بورویلوں میں سے بھی بیشتر چالو نہیں کئے گئے ہیں۔کسانوں نے بتایا کہ دسو پانپور میں’’ انڈیا انٹرنیشنل کشمیر زعفران سنٹر‘‘کوکروڑوں روپے کی مالیت سے تعمیر کیا گیا تاکہ یہاں اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو اپنا زعفران یہاں ہی فروخت کرنے کا موقع ملے، تاہم مقامی کسانوں کے مطابق یہ مرکز ایک سیر سپاٹے کی جگہ کے سواکچھ بھی نہیں ہے ۔ کاشت کاروں نے کہا کہ گزشتہ سال تمام ضروری لوازمات پورا کر کے یہاں زعفران رکھا گیا، جس کو تاحال فروخت نہیں کیا جا رہا ہے اور وہ اب تک اسی سنٹر میں موجود ہے ۔یہ سنٹر کسانوں کی آسائش کے لئے بنایا گیا تھا تاہم اب یہ سنٹر بھی زعفران کے کسانوں کے لئے سود مند ثابت نہیں ہو رہا ہے ۔وادی کشمیر میںزعفران کی صنعت کو بچانے کے لئے سرکاری سطح پر کافی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔تاہم اس صنعت سے وابستہ کسانوں نے بتایا کہ نیشنل زعفران مشن کے اہداف کو تاحال حاصل نہیں کیا جا رہا ہے ۔ادھرڈائر ایکٹر ایگری کلچر کشمیرچودھر محمد اقبال نے ایک سرکاری میڈیا ادارے کے ساتھ آج شام بات کرتے ہوئے بتایا کہ جو70بنائے گئے ہیں ان کو کسانوں کے حوالے بھی کیا گیا ہے جن کو مزکورہ لوگوں نے ہی نقصان پہنچایا ہے۔