انٹرنیشنل دہلی پبلک اسکول جموں نے یوم تاسیس منایا ادارے نے تعلیمی شعبے میں خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے :آزاد

ادارے نے تعلیمی شعبے میں خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے :آزاد
عظمیٰ نیوز سروس
جموں//سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی پی اے پی کے چیئرمین غلام نبی آزاد نے جمعہ کو انٹرنیشنل دہلی پبلک اسکول جموں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ضرورت مند طلباء کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یوٹی کے تعلیمی شعبے میں خاطر خواہ حصہ ڈال رہے ہیں۔ آزاد نے اس کے سالانہ دن کی تقریب میں اسکول انتظامیہ اور مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی شراکت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس نے تعلیمی معیار کو بلند کیا ہے اور بے پناہ نمائش اور تنقیدی سوچ کے حامل طلباء پیدا کئے ہیں۔ آئی ڈی پی ایس جموں کے تعاون نے تعلیم کے شعبے میں نئی مثالیں لائیں اور معیاری تعلیم کا بار بلند کیا۔ اس نے بین الاقوامی پائیہ کے طالب علم پیدکئے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی فورمز پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور ہمارے ملک خاص طور پر جموں خطے کا نام روشن کیا ہے۔” آزاد نے کہا کہ اگرچہ تعلیم کے معیار کیلئے بہت زیادہ کوششوں اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم آئی ڈی پی ایس جموں معاشرے کے پسماندہ حصے کی ضروریات کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا‘‘۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر یہ اسکول ان ذہین طلباء کو مساوی مواقع فراہم کر رہا ہے جو معاشرے کے غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سماجی طبقے سے قطع نظر، اسکول سب کو یکساں مواقع فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کل سکولوں میں سہولیات بہت زیادہ ہیں حالانکہ ہمارے دور میں سہولیات کم تھیں لیکن پوری توجہ تعلیم کے معیار پر تھی۔ انہوں نے جموں کی اس کاسموپولیٹن کلچر کی بھی تعریف کی جہاں تمام عقائد اور سماج کے طبقوں کے لوگ یکساں مواقع کے ساتھ مل کر بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے یوٹی کو سماجی و اقتصادی طور پر ترقی کرنی ہے تو یہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آزاد نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں جدید سہولیات اور نئی ایجادات کی وجہ سے کھیلوں کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے بہت سے طلباء نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر جموں اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔ اس موقع پر موجود لوگوں میں وائس چیئرمین جی ایم ایس سروڑی، جنرل سیکرٹری آر ایس چیب،سہیل کاظمی ممبر وقف بورڈ، جگل کشور شرما صوبائی صدر ودیگران بھی موجود تھے ۔