اننت ناگ میں پولیس پر حملہ، کانسٹیبل ہلاک، 2اہلکار زخمی

شوپیان +سوپور +اننت ناگ// امام صاحب شوپیان اور ربن سوپور میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین خونریز معرکہ آرائیوں کے دوران حزب ضلع کمانڈر سمیت 3جنگجو جاں بحق جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر ایک لڑکی زخمی ہوئی ۔ اس دوران اننت ناگ میں پولیس پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک کانسٹیبل مارا گیا اور دیگر 2زخمی ہوئے جبکہ ایک رائفل اڑا لی گئی۔
شوپیان
امام صاحب شوپیان کے نزدیک بار بگ کے مقام پر ایک مختصر معرکہ آرائی میں دو جنگجو مارے گئے جبکہ ایک لڑکی زخمی ہوئی۔پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شام کے وقت بار بگ کے مقام پر فوج کی کچھ گاڑیاں امام صاحب کی طرف جارہی تھی اور اسی دوران جنگجوئوں کا ایک گروپ سڑک کراس کررہا تھا۔اس موقعہ پر جنگجوئوں نے فوج کی گاڑی پر فائرنگ کی  اور مورچہ سنبھالا۔اگر چہ کچھ جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے لیکن دو جنگجوئوں اور فوج میں تصادم آرائی ہوئی جس میں یہ دونوں جنگجو مارے گئے۔اس واقعہ میں خوشبو جان دخترفیاض احمد وگے زخمی ہوئی جسے شوپیان ضلع اسپتال منتقل کردیا گیا۔فائرنگ کے دوران ہی علاقے کو محاصرہ میں لیا گیا اور ناکہ بندی کی گئی۔ابتدائی معلومات کے مطابق مارے گئے جنگجوئوں میں الطاف احمد ساکن آونیورہ اور شاداب طارق ساکن باربگ بتائے جاتے ہیں لیکن پولیس کی جانب سے اسکی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
اننت ناگ
پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ قریب ساڑھے پانچ بجے پستول بردار جنگجوئوں نے جنرل بس سٹینڈ  کے باہر پولیس پوسٹ کے نزدیک ایک پولیس کانسٹیبل پر نزدیک سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو اہلکار شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں امتیاز احمد نمبر1408/Aساکن پالہ پورہ نور باغ سرینگر دم توڑ بیٹھا۔اسکے چہرے پر دو گولیاں لگیں تھی۔اس واقعہ میں شبیر احمد نامی دوسرے پولیس اہلکار شبیر احمد کی حالت مستحکم بتائی گئی۔پولیس نے بتایا کہ ایک پولیس آفیسر شاپنگ کمپلیکس میں خرید و فروخت  کررہا تھا اور اسکی ڈیوٹی پر مامور امتیاز اور شبیر باہر کھڑے تھے۔ اس دوران ایک جنگجو نے شبیر کی رائیفل چھیننے کی کوشش کی لیکن شبیر نے جنگجو کو زمین پر پٹک دیا لیکن اس دوران جنگجو نے شبیر پر گولیاں چلائیں جس سے وہ زخمی ہوا۔قریب ہی کھڑے امتیاز نے اپنے ساتھی کو بچانے کی کوشش کی لیکن دوسرے جنگجو نے اس کے چہرے پر دو گولیاں چلائیں اور وہ اسکی رائفل اڑانے میں کامیاب ہوئے اور فرار ہوئے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری بس سٹینڈ کی طرف دوڑ پڑی اور راست میں انہوں نے ہوائی فائرنگ کی جس کی واجہ سے افرا تفری پھیل گئی۔
سوپور
پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ،22 آر آر، سی آر پی ایف173اور177بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے سنیچر علی الصبح قریب 3 بجے قصبہ کے مضافاتی گائوں ربن کو محاصرے میں لیا جہاں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔صبح قریب8بجے جب فورسز نے علاقے  میں آپریشن شروع کیا۔فورسز نے ممکنہ جگہ کی طرف کچھ وارننگ فائر کئے جس کیساتھ ہی فہمیدہ بیگم کے مکان میں موجود جنگجو نے گولیاں چلائیں۔ جس کے بعد طرفین کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔فائرنگ کے تبادلہ کیساتھ ہی  ہدی پورہ، نوپورہ، چتلورہ اورآس پاس کے دیگرعلاقوں کے سینکڑوں لوگ گھروں سے باہر آئے اور فورسز کا محاصرہ توڑنے کی کوشش میں کئی مقامات پرپولیس اور فورسز اہلکاروں پر پتھرائو شروع کیا۔جواب میں ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے ۔فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان گولیوں کے ابتدائی تبادلے کے بعدکچھ دیر کیلئے خاموشی چھا گئی ۔ محصور جنگجو نے محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی میں شدید فائرنگ کی لیکن اس کی کوشش ناکام بنادی گئی ۔جنگجونے گرینیڈ بھی داغے، جس کے بعد طرفین میں جھڑپ کے نتیجے میں مذکورہ جنگجو مارا گیا۔اس کارروائی میں فہمیدہ بیگم کے مکان کو بارود سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر زمین بوس ہوا۔مکان کے ملبے سے بعد میں جنگجو کی لاش برآمد کی گئی۔اس کی شناخت شاہد احمد شیخ عرف شویدساکن کژھلوقاضی آباد ہندوارہ کے بطور کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ شاہد کافی عرصے سے سرگرم تھا اور ابتدئی طور پر جیش محمد کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد حزب المجاہدین میں شامل ہوا۔پولیس کے مطابق شاہد تنظیم کا ضلع کمانڈر برائے کپوارہ تھا۔جھڑپ ختم ہوتے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے کئے ۔ دریں اثناء ربن جھڑپ کے پیش نظر حکام نے بارہمولہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں موبائیل فون اور انٹر نیٹ سہولیات منقطع کردی ، البتہ بی ایس این ایل کے موبائیل فون چالو رہے۔