انفرادی کردار پر توجہ دینےکی ضرورت

قومیں کبھی بھی اجتماعی طور پر قائم نہیں ہوتیں۔انفرادی طور پر ہر فرد کی محنت، کردار، جذبہ حب الوطنی، ایمانداری، تعلیم، ہنر، احساس ذمہ داری، قانون کی پابندی اور حقوق و فرائض کی ادائیگی ایک قوم کو اجتماعی طور پر عظیم اور مضبوط بنا دیتی ہے اور انفرادی طور پر ہر فرد کی بددیانتی،بدنظمی، بد کرداری، کاہلی، کھوکھلا پن،جہالت، غیر ذمہ داری، قانون کی مخالفت، قتل، لوٹ مار، بزرگوں کی بے ادبی، خواتین کی بے حرمتی اور ناانصافی ایک قوم کو اجتماعی طور پر کمزور، بے عزت اور بدکردار بنا دیتی ہے۔ہمارے یہاںمسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی اپنی انفرادی کارکردگی کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش نہیں کرتا،ہر کوئی ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہے۔دوسروں کو غلط اور خود یعنی’’میں‘‘ کو دُرست قراردیتاہے۔یہی ’’میں‘‘ بڑاظالم اور قاتل ہے۔اپنی غلطی کو تسلیم کرنا بڑا پَن اور عقلمندی ہےمگر یہ تو بڑے ظرف والے لوگوں کی صفت ہوتی ہے۔ہمیں قومی مفاد سے کوئی دلچسپی ہی نہیںاور ہم اسی سوچ کے ساتھ چل رہے ہیں کہ اگر سامنے والے گھر میں آگ لگی ہے تو میں کیا کروں۔میرا گھر تو محفوظ ہے ؟ہمسایے کے بچے اگر بھوکے ہیں تو مجھے کیا؟ میں اور میرے بچے تو پیٹ بھر کر کھانا کھا رہے ہیں۔اگر پڑوسی کابچہ تعلیم سے محروم ہیں، تو میں کیا کرسکتاہوں، میرے بچے تو اعلیٰ سکول میں پڑھنے جا رہے ہیں۔یہ ’’میں‘‘ اس قوم کو تباہ کر رہا ہے۔ہم اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں اور اس معاشرے کو ایک سلجھا ہوباحساس معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ’’میں‘‘ سے ’’ ہم‘‘ بننے کی اشد ضرورت ہے۔وقت اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اور سب کچھ ممکن ہے۔ہم چاہیں تو اپنے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک خوشگوار دنیا پیدا کر سکتے ہیں۔بس ہمیں اُنہیںآکسیجن کا کام دینا ہوگا، ہمیں ایک سایہ دار شجر بننا ہوگا ، کیونکہ کوئی بھی درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتا، کوئی دریا اپنا پانی خود نہیں پیتا اور کوئی زمین اپنی فصل یا کاشت خود نہیں کھاتی، کوئی سورج اپنی روشنی اپنے لئے استعمال نہیں کرتا اور کوئی چاند اپنی چاندنی سے خود مستفید نہیں ہوتا۔گویا جو دوسروں کیلئے جیتے ہیںوہی قربانی دیتے ہیں۔ چراغ اگر اپنی ہی تپش سے جلنے لگے تووہ زمانے کو  روشن نہیں کرسکتے۔ہمارے بزرگ ہمیں کیا دے کر گئے ہیںاور ہم آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟اس پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ٹک ٹوک پر کیسےناچنا  ہے؟فیس بک پر فحاشی کیسے پھیلانی ہے؟جہاں موقع ملے اپنا ہاتھ کیسے صاف کرنا ہے؟کسی کی بہن اور بیٹی کی عزت کیسے خراب کرنی ہے؟چوری، ڈکیتی، سود خوری، قتل  کے علاوہ ناپ تول میں کمی، جھوٹ ،لالچ، بے حیائی ،بد تہذیبی ،بے ہودگی ،رشتوں سے قطع تعلقی اور اَنّا پرستی،کیا یہی سب کچھ ہم نے آنے والی نسلوں کو دینا ہے؟ ہمیں انفرادی طور پربدلنے کی ضرورت ہے۔یہ دنیا آج بھی اچھے لوگوں سے بھری پڑی ہے، اگر آپ کو کوئی اچھا نہیں نظر آتا تو آپ خود اچھے بن جائیں تاکہ کسی اور کو اچھے کی تلاش کرنے میں آسانی ہو۔ اگر آپ اچھے بن جائیں گے تو دنیا سے ایک بُرا انسان کم ہو جائے گا اور ایک اچھے انسان کا اضافہ بھی ہو جائے گاتوکیا یہ آپ کی کامیابی نہیں؟ایک ادیب اپنی تصنیف میں ایک جگہ لکھتے ہیں ’’صوفیائے کرام نے کبھی اسلام کی تبلیغ نہیں کی تھی، انہوں نے بحث مباحثے نہیں کیے تھے۔انہوں نے تقریریں نہیں کی تھیں۔ وہ اسلام کا ڈنکا نہیں بجاتے تھے،صرف اسلام کے لیے جیتے تھے۔ ان کے پاس دو ہتھیار تھے، اخلاق اور حسن ِکردار۔ ان دونوں ہتھیاروں میں مساوات کی دھار تھی ،جس میںلوہے کی دھار سے زیادہ کاٹ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہؓ اور اولیائے کرامؒ نے کسی کے سامنے اسلام کی تبلیغ میں سخت روش اختیار نہیں کی بلکہ ان کے کردار میں تبدیلی لانے کی سعی کی۔ ان کے سامنے اخلاق حمیدہ کےصفات کاخود عملی نمونہ بن کر پیش ہوئے۔ ہم جب پرائمری اسکول کے طالبعلم تھے تو ہمارے نصاب میں دینیات کا مضمون لازمی ہوتا تھا ،باقی مضامین اختیاری ہوا کرتے تھے۔ دینیات کےذریعے ہمیں انصاف و عدل ، مساوات ، پڑوسیوں اور ہمسایہ کے حقوق، صفائی، والدین کے حقوق و فرائض، سچائی ، ایمانداری، اسلامی دائرہ میں طرز حیات کے بارے میں ساری چیزیں سکھائی جاتی تھیں۔ افسوس ! وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہم سے دینیات چھین لی گئی اور ہمارے پاس صرف اسلام رہ گیا۔ہم مادیت پرستی کی راہ پر چل پڑے ہیں،روحانیت برائے نام ہو کر رہ گئی ہے۔ مجموعی طور پر ہم اپنی عام زندگی میں اخلاقی طرز عمل پر نظر ڈالیںتو خود غرضی اور لالچ و ہوس کے نت نئے جوہر نظر آئیں گے۔ جب کوئی قطار توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرکے کسی طاقتور عہدے کا مالک بن جاتا ہے تو وہ اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھانے میں رتی بھر تاخیر نہیں کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ جب ٹریفک جام ہونے کی صورت میں آپ قطار توڑ کر دوسری گاڑیوں کے اندر گھسنے کی کوشش کریں گے تو یقینا جب آپ کو کبھی سرکاری پیسے کا امین بنایا جائےتو اس میں آپ غبن کے مرتکب ضرور ہونگے کیونکہ آپ کو قوانین و ضوابط پر عمل کرنے کی عادت ہی نہیں ہے۔آپ اپنے گھر کے گندے پانی کا بہتر انتظام کرنے کے بجائے اُس کا رُخ دوسرے گھر کی طرف کر دیتے ہیں یا گھر کا کوڑا کرکٹ یا غلاظت گلی میں ڈال دیتے ہیں کہ خواہ مخواہ صفائی والے کو پیسے دینے پڑیں گے،تو آپ بد دیانت ہونےکے ساتھ ساتھ معاشرتی آداب سے ناواقف ہیں، اگر آپ گھر اور آفس کی فالتو لائٹس بند کرنے کے عادی نہیںتو آپ بجلی چوری کرنے اور بجلی کی تاروں میںکنڈے لگانے کے عادی ہیںاور موقع ملنے پر آپ ملکی اور قومی وسائل کو بے دریغ ضایع کرنے کے مرتکب ہوں گے۔اگر آپ زیا دہ تر کمپیوٹر اور موبائل پر گیمز کھیلنے کے عادی ہوں تو یقیناآپ ایک کاہل اور سست انسان ہیں۔اگر آپ بد دیانت ، کاہل اور کام چور ہیں تو آپ اپنے والدین ، معاشرہ اور قوم کے بھی دشمن ہیں۔ اگر آپ کا زیادہ وقت کہانیاں پڑھنے، فلمیں اور ڈرامے دیکھنے میں گذرتت ہیں تو آپ خیالوں اور خوابوں کی دنیا میں رہنے والے، بے عمل اور نکمے انسان ہیں جو اپنے لواحقین اور دوست احباب کا مستقبل بھی برباد کر رہے ہیں۔اگرآپ لوگوں کی خامیاں تلاش کرنے کے عادی ہیںاور اچھائیوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو آپ چھوٹے انسان ہیں جسے لوگوں کو نیچا دکھانا مقصود ہے۔
آ ئیے !عہد کریں کہ ہم بحیثیت مسلمان اسلامی معاشرہ کے ذمہ دار شہری و باکردار انسان بننے کی کوشش کریں۔
(رابطہ۔9070931709)