انفاق فی سبیل اللہ کا مہینہ

انفاق فی سبیل اﷲ یعنی اﷲ کے راستے میں اﷲ کی عطا کردہ دولت و ثروت میں سے خرچ کرنا اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی محبوب عمل ہے ۔ چونکہ فطری طور پر انسان کے دل میں دنیاوی مال و متاع اور عیش و عشرت کی محبت بہت زیادہ ہو تی ہے اور ہر شخص کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ خود اور اس کی آئندہ نسلیں بخیر و خوبی زندگی کے مزے لو ٹ سکیں۔ اسلام مال و دولت اکٹھا کرنے سے منع نہیں کر تا ،البتہ اس کے ذرائع حصول حلال و پاکیزہ ہوں اور اس کا استعمال جائز و مستحسن انداز میں ہو۔ اپنے اہل عیال کی جائز خواہشات کی تکمیل اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بودو باش اختیار کرنا ،سب ٹھیک عمل ہے، مگر ایسا نہیں ہو سکتا کہ اﷲ رب العالمین آپ کو اپنے دوسرے بندوں پر فضیلت و بر تری عطا فرماتے ہوئے مال و دولت اور اسباب ظاہری سے مالا مال فرمائے اور آپ بس اپنی دنیا میں ہی گم ہو کر رہ جائیں اور اپنی خواہشات نفسانی میں پڑ کر اپنے رب کے حقوق بھول جائیں ۔ معاشرے کے زیر دست مفلوک الحال ،سفید پوش، پریشان حال بھائیوں کو بدحالی اور بھوک و افلاس کی آندھیوں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیں، نہیں ،بلکہ اپنے مال و اسباب میں سے اللہ کے مستحق بندوں کا بھی حصہ نکالیں ،تاکہ وہ بھی زندگی کی آسودگیاں حاصل کر سکیں۔اگر آپ کے گھر خوشیوں کے شادیانے بج رہے ہیں تو ان غریبوں فقیروں اور محتاجوں یا ایسے سفید پوش جو نہ دامن پکڑ کر مانگ سکتے ہیں اور نہ اپنا حال زار کسی پر افشا کر سکتے ہیں وہ بالخصوص آپ کی محبتوں اور توجہ کے مستحق ہیں، تاکہ ان کے گھروں میں بھی کسی قدر مسرتوں کا دور چل جائے، خاص طور پر ماہ رمضان المبارک میں کہ جب جذبہ ایمانی فرو تر ہو تا ہے اور اﷲ کی رحمتوں، مغفرتوں اور بخششوں کا بھی بے پناہ نزول ہو تا ہے تو ایسے مقدس مہینے میں تو بہت زیادہ دل کھول کرراہ خدا میں مال خرچ کرنا چاہئے۔
ماہ رمضان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکثرت صدقہ و خیرات فرماتے تھے ۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت یہ تھی کہ آپؐ نے باوجود محبوب رب العالمین ہونے کے ساری زندگی غربت و سادگی میں گزاری۔بستر کا یہ عالم تھا کہ چٹائی کے نشان بدن مبارک پر پڑ جاتے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب سے جاملے تو گھر میں فاقہ تھا ۔ ہم غور کریں کہ آج ہمارا کیا حال ہے۔ آج ہمارے گھروں میں مال و دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں اور انواع و اقسام کی نعمتیں اﷲ کے فضل و کرم سے ہمیں حاصل ہیں۔ہم اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کےاحکام کے تحت انفاق فی سبیل اﷲ کرتے ہوئے اپنے مال ودولت میں برکت بھی حاصل کر سکتے ہیں اور اﷲ کی رضا و جنت کا حصول بھی ممکن ہے۔