انصاف برائے کمسن ملزمین ایکٹ

 سرینگر//ڈسٹرکٹ پولیس لائنز سرینگر میں انصاف برائے کمسن ملزمین ایکٹ کے متعلق خصوصی تربیتی کیمپ کاانعقا دعمل میں لایا گیا جس میں ضلع سرینگر کے پولیس آفیسران نے شرکت کی ۔ ایس ایس پی سرینگر امتیاز اسماعیل پرے نے بحیثیت مہمان ذی عزت کے بطور شرکت کی ۔ چلڈ ویلفیئر کمیٹی  کی چیرپرسن منازہ گلزار نے مہمان خصوصی کے بطور تقریب میں شمولیت کی ۔تقریب میں ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر سرینگر ، سپیشل پراسیکویشن آفیسر ڈی پی او سرینگر کے علاوہ دوسرے سرکاری وکلاء مختلف پولیس اسٹیشنوں سے وابستہ جیونائل جسٹس آفیسرس اور ایس ایچ او زنے شرکت کی ۔ سینئر پی او ڈی پی اوسرینگر ضیا الرحمن نے اپنے استقبالیہ خطاب میں جیونائل جسٹس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پولیس آفیسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے کر اس قانون پرمن و عن عملدآمد کریں۔ اس موقعے پر پراسکیوشن آفیسر دانش گل نے جیونائل جسٹس ایکٹ کی تفاصیل بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس قانون کو لاگو کرنے کا مدعا ومقصد یہ ہے کہ متاثرہ بچوں کو وقت پر انصاف فراہم ہو سکے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اس قانون کے تحت جتنے بھی لوازمات ہیں اُن کا خیال رکھ کر اس قانون کی پاسداری یقینی بن سکے۔ انہوںنے جیونائل جسٹس ایکٹ کے متعلق تمام ترپہلوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہی دلائی ۔ انہوں نے کہاکہ بچوں کے ساتھ دوستانہ اور گھریلو ماحول اپنانے کی ضرورت ہے۔ منازہ گلزار نے کہاکہ جیونائل قانون کا مقصد نہ صرف نابالغ بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ ایسے کیسوں سے منسلک افراد کی حفاظت کو بھی یقینی بناناہے۔انہوںنے کہاکہ پولیس آفیسران پر زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کیسوں سے جڑے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ  جیونائل جسٹس بورڈ  کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ وہ ان کیسوں کے متعلق قانونی پہلوئوں کا جائزہ لیں۔ انہوںنے کہ متعلقین جن میں پولیس ، سی ڈبیلو سی ، جوڈیشری وغیرہ شامل ہیں کے درمیان تعاون وتال میل کی اہمیت پر زور دیا۔ایس ایس پی سرینگر امتیاز پرے نے کہاکہ قانون کی خلاف ورزی کے نتیجے میں کمسن ملزمین کو سب سے پہلے پولیس سے سامنا ہوتا ہے اور پولیس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق کمسن ملزمین کوتحفظ فراہم کریں ۔ انہوںنے کہاکہ کمسن ملزمین کیسوں کے سلسلے میں انسان دوست رویہ اپنانے کی ضرورت ہے جس سے اُن کی اصلاح ممکن ہو سکے۔ ایس ایس پی نے آفیسران پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں مناسب قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد کریں تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بن سکے کیونکہ یہ ہماری سماجی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔