انسداد تجاوزات مہم غریبوں کے آشیانوں پر بلڈوزر نہ چلیں!

جموںوکشمیر انتظامیہ کی جانب سے یوٹی کے سبھی بیس اضلاع میں شروع کی گئی انسداد تجاوزات مہم پر شدید برہمی پائی جارہی ہے ۔صوبہ جموں کے کم و بیش سبھی اضلاع میں اس مہم کے خلاف احتجاجی مظاہروںکا اہتمام کیاجارہا ہے اور اس کو عوام کش قرار دیکر اس ضمن میں جاری کئے گئے حکم نامہ کی فوری واپسی کا مطالبہ کیاجارہا ہے ۔دراصل محکمہ کے کمشنر سیکریٹری وجے کمار بدھوری نے گزشتہ دنوں سبھی ضلع ترقیاتی کمشنروں کے نام جاری کئے گئے ایک حکم نامہ میں انہیںہدایت جاری کی ہے کہ وہ 31جنوری تک سرکاری اراضی و کاہچرائی پر ناجائز قبضہ ختم کرائیں اور روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ صوبائی کمشنروں کے ذریعے پیش رفت رپورٹ ان کے دفتر کو ارسال کریں ۔مذکورہ حکم نامہ کی تعمیل میں اب کارروائی ہورہی ہے جس پر عوام پابہ شعلہ ہیں اور حکمران جماعت بی جے پی کو چھوڑ کر کم وبیش سبھی جماعتوں نے اس حکم نامہ کے خلاف اپنی شدید ناراضگی کا اظہار ہی نہیں کیابلکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اب باضابطہ احتجاج بھی ہورہے ہیں اور فوری طور اس حکم نامہ کو واپس لینے کی مانگ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔یہ اس عوامی ناراضگی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چند روز سے محکمہ مال کے انتظامی سربراہ مسٹر بدھوری بار بار یہ وضاحت دے رہے ہیں کہ یہ کوئی نیا عمل نہیں ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت ہے جن کے پاس انتہائی قلیل سرکاری زمین ہے بلکہ اس مہم کے تحت ترجیحی بنیادوںپر وہ سرکاری اراضی بازیاب کرائی جائے گی جس کی قیمت زیادہ ہے اور جو مقدار میںبھی زیادہ ہے۔انہوںنے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیاکہ یہ مہم کسی مخصوص طبقہ یا آبادی کے خلاف ہے تاہم انہوںنے واضح کیا کہ سرکاری اراضی کا تحفظ ان کی اولین ذمہ داری ہے اور وہ اسی اراضی کے تحفظ کیلئے تنخواہ لے رہے ہیںتاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ غریبوںکے آشیانوںپر بلڈوزر چلائے جائیں گے بلکہ ناجائز قبضہ سے چھڑائی جانے والی زمین انہی لوگوں کے لئے استعمال کی جائے گی ۔وجے کمار بدھوری کی وضاحت اپنی جگہ ،تاہم جس طرح اس مہم کو لیکر ایک ہوا بن رہی ہے ،وہ قطعی اطمینان بخش نہیںہے اور اس سے یقینی طور پر پورے یوٹی میں ایک غیر یقینی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے ۔غلط کا دفاع کوئی نہیں کرے گا اور نہ کرنا چاہئے ۔غلط ،غلط ہی ہے چاہے ہم اس کو صحیح ثابت کرنے کے کتنے بھی جتن کیوں نہ کریں۔جن لوگوں نے سرکاری زمینوںپر قبضہ کیا ہوا ہے ،انہوںنے کچھ اچھا نہیںکیاہے تاہم محکمہ مال کے منتظمین کو معلوم ہوناچاہئے کہ گائوں دیہات میں کاہچرائی اور شاملاتی زمین پر لوگوںکا قبضہ کوئی نئی بات نہیںہے اور ہمارے جموںوکشمیر میں بستیوںکی بستیوںہی ایسی زمین پر آباد ہیں اور ایسی ہی زمینوں نے ان کے گھروںکا گزارا بھی چل رہا ہے ۔اس طرح کے قبضہ کو سماج میں ناجائز تصور نہیں کیاجاتا ہے کیونکہ یہ سلسلہ بہت پہلے ہی چلا آرہا ہے ۔اب اگر آج آپ ایسے لوگوںکو ناجائز قابضین کی فہرست میں شامل کریں گے تو آپ کو بستیوںکی بستیاں تاراج کرناپڑیں گی ۔گھر بنانے میں عمریں بیت جاتی ہے اور اب انتظامیہ بس ایک حکم کی آڑ میں گھروں کے گھڑ ایک لمحہ میں اجاڑنے کی متحمل نہیںہوسکتی ہے ۔اب جہاں تک شہروں ،قصبوں یا دیہات میں بڑی بڑی سرکاری اراضی پر قبضوںکا تعلق ہے تو اگر ایسے لوگوںکے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو اسمیں کوئی حرج نہیں ہے ۔ہم بھی جانتے ہیں کہ جموںوکشمیر میں قبضہ مافیا نے ہزاروںکنال سرکاری اراضی پر قبضہ جمایاہوا ہے اور اُس اراضی کو رہائشی و تجارتی مقاصد کیلئے استعمال میںبھی لایاہوا ہے ۔ایسے قابضین کے خلاف کارروائی کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیںہے اور یقینا ہونی بھی چاہئے تاہم سب کیلئے ایک ہی پیمانہ نہیںہوناچاہئے ۔بڑے مگر مچھوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو اس کا خیر مقدم ہوگا تاہم مشاہدے میں آیا ہے کہ یہاں چھوٹے لوگوںکو نشانہ بنا کر کامیابی کا ڈنکا بجانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ مگر مچھوں کے خلاف یا تو جان بوجھ کر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے یاپھر اثر ورسوخ یا دبائو میں آکر ایسے معاملات میںان دیکھی کی جاتی ہے ۔اب جس طرح سے لوگوںکو نوٹس ملنا شروع ہوچکے ہیں ،اُس سے تو یہی لگتا ہے کہ سرکار نے غریبوںکی ہی ناک میں دم کرنے کا جیسے تہیہ کیا ہوا ہے ۔اگر محکمہ مال کے انتظامی سربراہ اپنی بات پر قائم ہیں تو اُنہیں فوری طور زمینی سطح پر غریب اور چھوٹے کسانوںکے خلاف چلنے والی اس مہم کو روکنا چاہئے اور اُن لوگوںکے خلاف پہلی فرصت میں کارروائی شروع کرنی چاہئے جنہوںنے کنالوںکے حساب سے سرکاری زمین ہڑپی ہوئی ہے ۔ایسا نہیں لگنا چاہئے کہ انصاف کے پیمانے جداگانہ ہیں۔انصاف کی لاٹھی یکساں برسنی چاہئے ۔ پہلے اُن لوگوں کا تو حساب لیاجائے جنہوںنے جان بوجھ کرمالی فوائد کیلئے پوش علاقوںمیں زمینوںپر قبضہ کرکے رکھا ہے ۔گائوں دیہات میں غریبوں کی چند مرلہ زمین تو ویسے بھی سرکار کے کسی کام نہیں آنی ہے تو پھر پہلا نشانہ وہ کیوں ؟۔وقت کی پکار ہے کہ قبلہ درست کرکے فوری طور جاریہ انسداد تجاوزات مہم میں ترجیحات درست کی جائیں۔سرکاری اراضی بازیاب کرانا سرکار کا حق ہے تاہم اس عمل کی آڑ میں غریب و چھوٹے کسانوں کا قافیہ حیات تنگ کرنا بند کیاجائے ۔اُن لوگوںسے حساب لیاجائے جنہوںنے کروڑوں اور اربوں روپے کی زمین ہڑپ لی ہے اور اس عمل میں کوئی تمیز نہ کی جائے ۔