انسانی ڈھال قضیہ

سرینگر//پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات کے روز فوج کی طرف سے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کئے گئے ووٹر فاروق احمد ڈار کیس کو بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے ڈویژن بینچ کو منتقل کیا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر) نے حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ حساس مسئلہ ہے اور سرکاراس سے کس طرح الگ ہوسکتی ہے۔ فوجی افسر میجر گگوائے کی طرف سے9اپریل کو سرینگر پارلیمانی نشست کے ضمنی انتخابات کے دوران بیروہ علاقے میں انسانی ڈھال کے طور پر فاروق احمد ڈار کو 10لاکھ روپے کامعاوضہ دینے کا معاملہ حکومت اور بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کے درمیان گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ پیر کو بلال نازکی نے اس کیس کی سماعت کی،جس کے دوران فاروق احمد ڈار کے علاوہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے سربراہ محمد احسن اونتو موجود تھے۔جسٹس(ر) بلال نازکی نے سرکار کی طرف سے اس کیس میں پیش کی گئی رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس نوعیت کا مسئلہ ہے،اور سرکار اس سے الگ نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کیس کو ڈویژن بینچ کو منتقل کرتے ہوئے کہا کہ اب کمیشن کے دو ممبران جسٹس(ر) بلال نازکی اور جنگ بہادر اس کیس کی سماعت کرینگے،جبکہ کیس کی آئندہ سماعت12دسمبر کو مقرر کی گئی۔ کمیشن نے27اپریل کو سرکار کو ہدایت دی کہ مذکورہ  نوجوان کی طبی جانچ اور امداد فراہم کی جائے جبکہ صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ کو ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔15مئی کو فوج نے ان میڈیا رپورٹوں کو مسترد کیا ،جس میں میجر گگوائے کو انسانی ڈھال بنانے کے معاملے میں کلین چٹ دینے کی خبریں سامنے آئی تھی،جبکہ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہے۔22مئی کو  میجر گگوائے کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 23مئی کو  میجر کو تمغہ تعریف سے نوازنے کے خلاف حقوق البشر کارکن نے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تاہم آئی جی کشمیر منیر خان نے بتایا کہ فوجی افسر کے خلاف ایف آئی آر منسوخ نہیں کیا گیا۔10جولائی کو ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے سرکار کو ہدایت دی تھی کہ فاروق احمد ڈار کو10لاکھ روپے کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔چند روز قبل ریاستی سرکار نے فاروق احمد ڈار کو معاوضہ دینے سے انکار کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کی تھی کہ اگر حکومت معاوضہ دیگی تو پھر فوجی افسر کی جانب سے کی گئی غیر قانونی حرکت کا اعتراف کیا جائیگا ۔